اللہ کے گھر بند ہوگئے – سعدیہ نعمان




پولیس کنٹرول کے وائرلیس آپریٹر نماز جمعہ گھر میں ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے رونے لگے — بے تاب اور پشیمان و پریشان دل کی بے چینی آنکھوں کے رستہ بہنے لگی —
مؤذن مساجد میں اذان دیتے ہوئے جب ان کلمات پہ آئے ” صلوت فی بیو تکم” تو ان کی ہچکی بندھ گئ وہ بلک بلک کے رو دئے — گھروں میں بیٹھے بزرگ جن کے دل مسجد میں اٹکے رہتے ہیں –راہ چلتے وہ جوان جنہیں رب تکبیر اولی سے نماز کی ادائیگی کی توفیق دیتا ہے – سب کے دل زخمی تھے سب کی آنکھیں برس رہی تھیں– سب گھبرائے ہوئے تھے کہ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ اللہ کے گھر کے در بند ہو چلے ہیں —- ایسے میں مجھے حضرت ابو بکر صدیق رض یاد آئے اور بے طرح یاد آئے — کیا عجیب منظر تھا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خالق حقیقی سے جا ملنے کی خبر سنتے ہی جان چھڑکنے والے ساتھیوں کی جان ہی تو نکل گئ تھی ، دل ڈوب گئے تھے -سب پہ جیسے سکتہ طاری تھا – فضا میں بے یقینی تھی ۔حضرت عمر رض تلوار لہرا رہے تھے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جدائی کی بات کسی نے کی تو میں گردن اڑا دونگا …..
ایسے میں حضرت ابوبکر رض کیسے تڑپ تڑپ کے سب کو تھام رہے تھے جھنجھوڑ رہے تھے جگا رہے تھے …… بڑا ہی نازک وقت تھا، کسی کے حواس ٹھکانے نہ تھے۔ حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور تقریر شروع کی کہ: اے لوگو! تم میں سے جو لوگ محمد (صلى الله عليه وسلم) کی عبادت کیا کرتا تھا، وہ سن لے کہ محمد وفات پاچکے ہیں، اورجو کوئی اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا، تو اس کا معبود حی لایموت ہے۔
مجمع یکایک چونک اٹھا، اور لوگوں کو یقین آگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وصال ہوچکا ہے۔ لیکن جس رب کی کبریائ کا کلمہ پڑھا ہے وہ رب تو باقی ہے …….ہر آن نئ شان میں ہے ……..سب کچھ فنا ہو جانے والا ہے سوائے رب زوالجلال والاکرام کے آج جب حرمین شریفین اور مساجد عارضی طور پہ بند ہونے پہ عاجز اور بے بس امتیوں کا رونا گڑگڑانا دیکھتی ہوں تو دل بے ساختہ شکر ادا کرنے لگتا ہے……..
اور اللہ کی رحمت سے امید بندھ جاتی ہے ……اللہ تو زندہ و جاوید ہے …….یہ عبادت گاہیں ہیں جو عارضی طور پہ بند ضرور ہوئ ہیں …..لیکن رب کی عبادت و اطاعت تو ساکت نہیں ہوئ …….یا رب ! یہ گنہ گار امتی تیرے حضور اے رب کائنات تیری بارگاہ میں سر بسجدہ ہیں …….ہم لاکھ گنہ گار سہی تیرے بندے ہیں میرے آقا………تیرے محبوب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے امتی ہیں ……..عمل میں بے پناہ کمزور ہیں لیکن پلٹ پلٹ کے تیری ہی جانب نگہ اٹھتی ہے …….تو اپنا دامن رحمت ہم پہ وسیع کر دے ……ہماری توبہ قبول فرما لے ہم پہ مہربان ہو جا …….ہمارے خالی دامن اور مضطرب دلوں کو سکون سے بھر دے …….یہ در پھر سے کھلیں تو ہم دوڑ کے ان رستوں پہ چلیں گے …….تب تک ایک کام کرتے ہیں …….گھروں کو مساجد بنا لیتے ہیں …..قو انفسکم و اھلیکم نارا ….! (بچاو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے )
پہ عمل کرتے ہیں ،اپنے بچوں کو اللہ کریم اور نبی احمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تعارف دیتے ہیں ان سے محبت بڑھاتے ہیں ان کے حکموں کو جاننے اور ان پہ چلنے کی کوشش کرتے ہیں …..اللہ کے محبوب بندے بننے کا طریقہ سیکھتے اور سکھاتے ہیں …..قرآن سے جڑنا سکھاتے ہیں ،اس پہ چلنا سکھاتے ہیں .انگلی تھام کے انہیں صراط مستقیم کی پہچان کرواتے ہیں …..جلد ہی وہ رحمان و رحیم ہماری جانب متوجہ ہو گا …….پھر جلد ہی ایک پاک و صاف فضا میں مسجدوں سے حی علی الفلاح کی صدا گونجنے گی
تو لبیک کہتے ہوئے ہم سب قدم سے قدم ملا کے اور کندھے سے کندھا ملا کے اس مقتدر اعلی کی کبریائ اور بڑا بیان کریں گے
بے شک وہ زات پاک ہے اور ہر چیز پہ قادر ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں