رب کو کیسے راضی کریں ؟ – ڈاکٹر بشری تسنیم




امام حرم النبوی شریف نے بجا طور پہ دکھی ہوکر کہا کہ ” دشمن ہم پہ غالب نہیں آیا بلکہ محافظ ہم سے روٹھ گیا ہے “……… اف!محبوب روٹھ جائے اور اظہار بھی کردے …….منہ پھیر لے ،بات نہ سنے،توجہ نہ کرے تو محب پہ جان کنی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ کسی پل چین نہیں آتا بے قرار روح کو سمجھ آجاتی ہے ماہی بے آب کا تڑپنا کیسا ہوتا ہے ……
دن کا چین رات کا آرام کھانے کا ذائقہ پینے کی لذت سب بھول جاتا ہے . سارے حواس اس سوچ پہ مرتکز ہوجاتے ہیں کہ روٹھے محبوب کو کیسے منایا جائے …… ؟ کیا حیلہ وسیلہ ہو کہ رِخ محبوب متوجہ ہوجائے ۔ اے مومنو! آئیے سوچیں کہ جب محبوب نے اپنے گھروں کے در بند کر کے روٹھ جانے کا برملا اظہار کر دیا…… تو ہمارے قلب و روح پہ کیا بیتی ؟ بس جو قلب و روح پہ بیت گئی ……… وہی احساس ندامت ہمارے ایمان کا پیمانہ ہے۔ کیا ہم نے اپنے اوقات کا جائزہ لیا کہ کہاں کہاں اور کس عمل نے رب کو ناراض کر دیا ہوگا ؟ کیا اس رب کے قدموں میں گر کر اپنی خطاوں کی معافی مانگی اور خطاوں کو دوبارہ نہ کرنے کی اسی طرح تڑپ دکھائی جیسے مرنے والا زندگی کی طرف لوٹ آنے کی التجائیں کرتا ہو۔ یا لق و دق صحرا میں پیاسا پانی کے ایک گھونٹ کو ترستا ہو۔ کیا واقعی ہمارے دل کی ہر دھڑکن رب کے در پہ دستک ہے؟
کروڑوں مسلمانوں کے دل کی ہر دھڑکن رب العلمین کے در رحمت پہ دستک دینے لگے تو وہ در بھلا کیسے نہ کھلے گا؟ خطائیں سمندر بھر ہی کیوں نہ ہوں اشک ندامت کا ایک قطرہ سات سمندر کی خطاوں پہ بھاری ہو سکتا ہے ۔وہ اشک پیازی نکلے تو سہی جس میں خون جگر کی آمیزش ہو ۔ احساس پشیمانی ظاہر تو ہوکہ اس کائنات توازن کے ساتھ قائم نظام میں فساد ڈالنے کی ذمہ داری میرے کندھوں پہ نہ آتی ہو ۔ ہر فرد اس نظام کائنات کا کارآمد پرزہ ہے اور کوئی ایک معمولی پرزہ بھی بے کار ہو جائے تو خلل تو پڑتا ہی ہے ۔ معمولی خلل سے بڑے نقصان ہوجاتے ہیں ۔ اگر ہم میں سے ہر فرد یہ تسلیم کرلے کہ اس کی کسی خطا سے اللہ تعالی خفا ہے تو دل کی گہرائیوں سے اللہ رب العزت کو منانے کا احساس اجاگر ہوگا ۔ فرصت ہو اور تنہائی بھی میسر ہو تو محبوب کو منانا آسان ہوتا ہے …….. یہ تو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو مہیا کر دیا ہے تو پھر ہر فرد وہ بچہ ہو یا بوڑھا مرد ہو یا عورت اپنے دل کی نگری کو اجلا کرلے اپنے روٹھے محبوب کو ہر طور منا نے پہ لگ جائے ۔ وہ رب تو منتظر رہتا ہے کہ اس کے بندے پلٹ آئیں ،اسے منا لیں اس کے ہوجائیں اور اسی کے ہوکے رہیں وہ رب تو وعدہ کرتا ہے کہ بندے اپنی خطاوں کی اصلاح کی خالص نیت ہی کر لیں ……… تومیں ان کو وسائل مہیا کروں گا ، خطائیں معاف کر دوں گا شکر گزار ہوجائیں تو نعمتیں پہلے سے زیادہ دوں گا ۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنی نیت کو نئے سرے سے خالص کر لیں ۔
وہ عبادتیں ، صدقہ خیرات ، نیکیاں بھلائیاں کبھی کی تھیں ان کو بھی نئے سرے سے نئی نیت کے ساتھ رب کے حضور پیش کیا جائے اور اپنی کسی خالص نیت سے کی گئ مقبول نیکی یا عبادت کا وسیلہ بنا کر اپنے ناراض رب سے مان جانے کی التجا کی جائے ۔ہر قیام و قعود رکوع و سجود اور ہر نیک عمل پہ یہ التجا کی جائے کہ یا رب گزشتہ ناقص اعمال صالحہ اور عبادتوں کی معافی اور حال کی عبادتوں میں بہتری نصیب ہوجائے اور پوری امت پہ انسانیت پہ کرم فرما دے ۔ ہر فرد کو چاہئیے کہ پوری انسانیت اور خصوصا امت مسلمہ کی بہتری مغفرت کے لئے التجا کرے ۔ وہ ر ب جانے کب کس کی التجا سن لے اور سب کی معافی ہوجائے۔ بس ہر فرد یہ احساس طاری کر لے کہ میں ہی وہ قصور وار ہوں جس کی وجہ سے انسانیت تکلیف میں مبتلا ہے .
اے مومنوا ! اللہ سے توبہ کرو ایسی توبہ جو مکمل ہو ہر جھول اور کھوٹ سے پاک ہو ۔ ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین ۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں