شکریہ سراج الحق صاحب ! – عامرہزاروی




جناب سراج الحق صاحب…….میں نے ہمیشہ آپ کا مذاق اڑایا، آپ پر طنز کیا ، آپ کو نا اہل کہا ، آپ کی گفتگو سے نقص نکالے، آپ کی کاوشوں کو ڈرامہ کہا، آپ کی سعی کو لاحاصل کہا، آپ کی ٹیڑھی ٹوپی سے میرا قلم نہ بچ سکا، مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی آپ کی تعریف کی ہو…..
لیکن آج تعریف کرنی ہے، اور اس تعریف کی تین بڑی وجوہات ہیں ۔ ایک وجہ یہ ہے کہ آپ نے خواجہ سراؤں کے لیے قدم اٹھایا، اسقیامت خیز لمحات میں آپ کو وہ مظلوم طبقہ یاد رہا، آپ نے انکے دکھ درد کو سمجھا، آپ نے اپنے کارکنان سے کہا ان کا خیال کرنا یہ پہلے ہی مظلوم ہے …….جناب سراج الحق صاحب …… جو مظلوموں کا سہارا بنتے ہیں ہم اپنی پلکیں انکے لیے بچھاتے ہیں . آپ نے دوسرا کام یہ کیا کہ آپ گھر بیٹھنے کی بجائے میدان میں نکل آئے، اپنے کارکنان اور لوگوں کیساتھ کھڑے ہو گئے، آپ کبھی ایک جگہ جا رہے ہیں اور کبھی دوسری جگہ، آپ خود فلاحی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، شاید کوئی اور لیڈر یوں نہیں کر رہا ……مجھے پتا ہے ان میں اور آپ میں یہ فرق اس لیے ہے کہ وہ سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوئے اور آپ کے پاس پہننے کے لیے جوتے نہیں تھے، بھوک کو آپ سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے ؟
آپ نے تیسرا یہ کام کیا کہ ………آپ نے اپنے کارکنوں کے لیے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے جن جن لوگوں نے اپنے اپنے مکان کرائے پر دیے ہوئے ہیں وہ مارچ و اپریل کے کرائے معاف کر دیں، یہ کام یہ غیر مسلم انگریز نے مسلمان کیساتھ کیا، آپ نے یہ قدم اٹھا کر دل جیت لیے،
شکریہ جناب سراج الحق! آپ کے لیے دل سے دعائیں! ہو سکے تو ماضی کے طنز معاف کیجئے گا –

اپنا تبصرہ بھیجیں