شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے۔۔۔۔۔۔! – افشاں مراد




دفتر سے گھر جاتے ہوئے یونہی خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے دیرینہ دوست” شاہ صاحب”کے پاس چکر لگالوں۔گاڑی کا رخ موڑ کر ان کے گھر کی طرف کرلیا۔ جب وہاں پہنچا تو وہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے، بات سے بات نکلتی چلی گئ، ملکی حالات سے لے کر کاروباری حالات تک،اور کاروبار سے لے کر لوگوں کے عمومی رویے تک جا پہنچی۔ شاہ صاحب کہنے لگے “جناب لوگوں نے اللہ پر بھروسہ اور یقین چھوڑ دیا ہے…..
.ورنہ جب جب اس رب پر بھروسہ کریں وہ اس کا پوزیٹو رسپانس ضرور دیتا ہے۔ اس کا ثبوت میں آپ کو ایک قصہ سنا کر دیتا ہوں ……. ایک دن میرا دل بہت بے چین ہوا۔ ہر چند کوشش کی کہ دل بہل جائے، پریشانی کا بوجھ اترےاور بے چینی کم ہو مگر وہ بڑھتی ہی چلی گئی ۔ بالآخر تنگ آکر باہر نکل گیا اور بے مقصد ادھر ادھر گھومنے لگا ۔ اسی دوران ایک مسجد کے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے اور کچھ لوگ اندر نظر آرہے ہیں ……. فرض نمازوں کا وقت تھا نہیں، سوچا کہ کچھ رکعت نوافل ادا کرلوں. میں بے ساختہ اندر داخل ہوا دیکھا ایک صاحب رو رو کر گڑ گڑ ا کر دعا مانگ رہے ہیں اور خاصے بےقرار ہیں……. غور سے ان کی دعا سنی تو قرضہ اتارنے کی فریاد میں تھے۔ ان کو سلام کیا، ماجرا پوچھا تو کہنے لگے قرض ادا کرنا ہے….. آج آخری تاریخ ہے،نہیں تو بہت ذلیل ہو جاوں گا۔ اسی لیے اپنے مالک سے مانگ رہا ہوں۔ یہ سن کر میں نے قرضے کی بابت دریافت کیا، ان کا قرض چند ہزار کا تھا۔ وہ میں نے اسی وقت جیب سے نکال کر دے دئیے، ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔ میرے دل کی بےچینی اور بے قراری بھی کہیں غائب ہو چکی تھی۔
میں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکال کر ان کو پیش کیا کہ آئندہ بھی جب ضرورت ہو بلاجھجک رابطہ کر لیجیے گا ۔ یہ میرا پتہ ،میرا فون نمبر ……..انہوں نے بغیر دیکھے میرا کارڈ واپس کر دیا اور فرمایا “نہیں جناب!یہ نہیں ،میرے پاس ان کا پتہ موجود ہے جنہوں نے آج آپ کو بھیجا ہے۔ میں کسی اور کا پتہ جیب میں رکھ کر ان کو ناراض نہیں کر سکتا۔ یہ سن کر مجھے پتہ چلا کہ رب پر بھروسہ اور یقین کیسا ہوتا ہے۔اور ہم لوگ اس معاملے میں کتنے غریب ہیں۔
ہمیں اپنے رب پر بھروسہ ہی نہیں ،ہم دنیا میں ہر ایک کے آگے اپنا رونا رو لیتے ہیں بس جس کے آگے رونا چاہیے اسی کے آگے نہیں روتے۔ورنہ وہ تو کہتا ہے کہ تم چل کر میرے پاس آو میں دوڑ کر تم تک پہنچوں گا ۔ ہمارا رب ہمیں کسی کے لئے وسیلہ بنا دیتا ہے کبھی کسی کو ہمارے لیے وسیلہ بنا دیتا ہے ۔ یہ سلسلہ یونہی جاری و ساری ہے ……..اگر آپ غور کریں تو ہم نے اپنی ضروریات کو اتنا زیادہ بڑھا لیا ہے۔کہ اس میں ضرورتمند کی حاجت کہیں دب کر رہ گئ ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ دوسرا کس حال میں ہے۔یا اس کی ضرورت کیا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ایسے میں اپنے روزے کے ساتھ ساتھ دوسرے کے روزے کا بھی خیال رکھیے گا .
…….پچھلے رمضان فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی کہ بچے نے اپنی ماں سے کہا کہ”امی اب تو سب نے تراویح بھی پڑھ لی ہم نے اب تک روزہ نہیں کھولا”۔ ویسے ہم سب رمضان کا بہت زیادہ احترام بھی کرتے ہیں اور اہتمام بھی کرتے ہیں لیکن ایسے وقت میں کہ جب بندوں کے حقوق ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو اس وقت ہمارے اندر کا مسلمان کہیں سو جاتا ہے۔یہ صدمہ میرے دن کا چین اور رات کی نیند حرام کر دیتا ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کا دین کے تھوڑا سا قریب آنا بھی معاشرے کے لئے وبال بن جاتا ہے……..میں اگر اچانک داڑھی رکھ لیتا ہوں یا نمازیں شروع کر دیتا ہوں تو مجھے اپنے آس پاس مسلمان ہی نظر آنا بند ہو جاتے ہیں ۔ کوئی مجھے فاسق نظر آتا ہے تو کوئی کافر…….اور چونکہ میں نے داڑھی رکھ لی ہے اور نماز شروع کر دی ہے تومیں اپنا استحقاق سمجھ لیتا ہوں کہ ایسی تین مہریں میری جیب میں ہوں جن کے ذریعے میں سماج کے افراد پر مسلمان ، فاسق ، یا کافر کے ٹھپے لگاسکوں ۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ دین نہیں بلکہ تکبر کی بدترین قسم ہے۔اگر میں واقعی دیں پر آجاوں تو میرے اپنے گناہ میری اپنی ذات سے توجہ نہ ہٹنے دیں۔اور مجھے ہر شخص خود سے بہتر انسان اور بہتر مسلمان نظر آنا شروع ہو جائے ۔
جسے دوسرا خود سے کمتر انسان یا مسلمان نظر آئے اسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اپنے علاج پر غور بھی کرنا چاہیئے ۔کیونکہ وہ دل کے اس مرض میں مبتلا ہے جسے قرآن نے بھی مرض قرار دیا ہے جس کا علاج کسی کارڈیالو جسٹ کے پاس نہیں بلکہ قرآن پر غور و فکر سے ہوگا۔اس آنے والے رمضان المبارک میں اگر آپ اپنے روزے زیادہ بہتر طور پر گزارنا چاہتے ہیں تو روزے کی روح کو سمجھیے گا،دوسرے کی بھوک کو سمجھئے گا ۔ سارا دن بھوکا پیاسا رہ کر انسان کے کیا جذبات و احساسات ہوتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے رمضان سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ۔ایک رائٹر کا کہنا ہے کہ ” اللہ سے انسان محبت کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اللہ بھی اس سے محبت کرے ۔ مگر محبت کے لئے وہ کچھ بھی دینے کو تیار نہیں ، اللہ کے نام پر وہی چیز دوسرے کو دیتا ہے جسے وہ اچھی طرح استعمال کر چکا ہو یا جس سے اس کا دل بھر چکا ہو۔
چاہے وہ لباس ہو یا جوتا ، وہ خیرات کرنے والے کے دل سے اتری ہوئی چیز ہوتی ہے ۔ ایک ور اس چیز کے بدلے میں خیرات کرنے والا اللہ کے دل میں اترنا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں