بےروزگاری – نائلہ شاہد




سندھ حکومت کے حفاظتی اقدامات کے تحت سب بند کردیاگیا ……
اسکول ، کالج ، یونیورسٹیز ، ریسٹورینٹ ، مالز ، انٹر سٹی بس سروسز ……سندھ حکومت کا کہنا ہے ،اگر یہ وائرس پھیل گیا تو ہسپتال بھر جائے گے حکومت سندھ کے اقدامات قابل تحسین ہیں انسانی جان کی اہمیت لوگوں کی صحت کے لیے ٹھوس قدم اٹھانا شاباش …..!!!لیکن سوال یہ ہے کہ سرکاری ادارے بند ہونے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ان کے گھر پہنچ جائیگی …….. معاشی بحران تو ان کے لیے ہے جو دیہاڑی کے مزدور ہیں جو روز کام دیکھنے گھر سے نکلتے ہیں……..
بس ڈرائیور، کنڈکٹر ، ویٹر ، سیلزمین ، مزدور ….. ان کی تنخواہیں کون دے گا؟؟ حکومت سندھ سے درخواست ہے اتنے اچھے اقدامات کے ساتھ ایک اور اعلان کر دیجیے ان غریبوں کے گھر راشن سبزی گوشت دودھ حکومت کی طرف سے پہنچانے کا ……..آپ یقین کیجیے ہر فرد قانون کی پاسداری جوش اور جزبے کے ساتھ کرینگا ……… ایک ماں کیسے بھوک سے بلکتے بچے کو دیکھ سکتی ہے . وہ نہیں پرواہ کرے گی کسی بھی وائرس کی باپ کیسے گھر کے اخراجات اور مسائل کو نظرانداز کر سکتا ہے. وہ لگنے والے وائرس کو کیا اہمیت دے گا سب گھروں میں محصور ہو کر وائرس سے تو بچ جائے گے لیکن معاشی بحران کے وائرس سے کیا بچ پائے گے ؟جب مرنا ہی ہے تو کورونا کا مقابلہ کر کے کیوں نہ مرے……! بھوک بےروزگاری افلاس کے ہاتھوں اس قوم کو نہ ختم کیجیے….
کوئی حل اس کا بھی بتائیے کہ کیا ہوگا جب شہر سنسان ہوگا اور بھوک پیاس سے سسکتے بچے بوڑھے کہہ رہے ہونگے کہ کورونا سے شائد ہم بچ جاتے ؟؟ حل ہونا چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں