یہ ہے ریاست مدینہ جناب – فاٸزہ حقی




تاجدارِمدینہ ﷺ ایک بار اپنی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ مہاجرین کی ایک جماعت نبی پاک ﷺ کے پاس آٸی ۔ یہ سب مہاجر اتنے غریب تھے کہ نہ انکے پاس پورے کپڑے تھے اور نہ انکے پاٶں میں میں جوتے……..صرف ایک چادر انکے بدن پر تھی اور گلے میں تلوار لٹکی ہوٸی تھی ۔
نبی پاک ﷺ نے انہیں اس حال میں دیکھا تو آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ نماز کا وقت ہورہا تھا ۔آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ تعلی عنہ کو حکم دیا کہ اذان دو……..صحابہ کرام رضی اللہ عنہما جمع ہوگۓ ۔آپ ﷺ نے نماز کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہما سےخطاب کیا اور فرمایا ”یہ تمہارے بھاٸ اس حال میں ہیں انکی مدد کرو “ حضور اکرم ﷺ کی تقریر سن کر فوراً ایک انصاری اٹھے اور ایک توڑا جسکا اتنا وزن تھا کہ پمشکل ہی اٹھتا تھا لاکر حضور کریم ﷺ کے سامنے لاکر ڈال دیا اور عرض کیا ۔ اے رسول خدا ﷺ! یہ حاضر ہے اس سے ان مہاجرین کی مدد فرمایٸے۔ انصاری کا یہ ایثار دیکھ کر صحابہ اکرام میں جوش پیدا ہوا ، اور وہ سب اٹھ اٹھ کر اپنے گھروں سے سامان لانے لگے………….ذرا سے دیر میں ان بے سروسامان مہاجرین کے آگے غلے اور کپڑوں کا ڈھیر لگ گیا ۔ یہ ہےمسلمانوں کی شان اور ایثار……..اور یہ ہے ایک اسلامی ریاست کے علمبرداروں کی کارواٸی ۔
اب ذرا اس دور میں…….. کرونا کے ہاتھوں پریشان لوگوں اور انکے اطراف والوں کا معاملہ ذرا ہماری نگاہوں کے سامنے آجاۓ ۔ اس وقت ہمیں ہر قسم کے افراد نظر آرہے ہیں……. جنمیں وہ بھی ہیں جو اپنی امداد چہار جانب ایسے پھیلارہے ہیں کہ کسی کو انکے نام ونشان کا بھی پتہ نہ چلے ۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو مختلف این جی اوز کے ذریعے اپنی امداد مستحقین تک پہنچارہے ہیں…….. جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جو ایک ایک صابن دیتےہوۓ بھی تصویر کھنچوانے کا شوق پالے ہوۓ ہیں اور انہی میں بعض ایسے بھی ہیں جو لوگوں کے خداخوفی کے ساتھ دۓ ہوۓ راشن کو کھول کھول کر اس میں سے چیزیں نکال نکال کر فوٹوز بنواتے ہوۓ غریبوں میں بانٹ رہے ہیں …….. اب ذرا مزید آگے بڑہیۓ جدید ریاست ِ مدینہ کے دعویداروں کی طرف ۔ابھی اخبار کے ذریعے خبر ملی کہ ایک دیہاڑی دارمزدور نے پراٸم منسٹر ہاٶس کے سامنے اپنے آپ کو آگ لگالی سبب کچھ بھی ہومگر ایک بندہ آپکے دور حکومت میں آپکے سامنے خودکشی جیسا فعل بھی کرگزرے اور کوٸ اسے روکنے والا بھی بھی نہ ہو؟
اب ہم ذرا شروع میں بیان کیۓ گۓ واقعے کے متعلق تھوڑا سا غور کریں ۔ایک انصاری اٹھتے ہیں اور اتنا کچھ لاتے ہیں کہ انسے اٹھتا نہ تھا اور پھر بقایا صحابہ کرام میں بھی ہلچل ہوتی ہے اور سارے ہی اٹھ کر جاتے ہیں اور جو جتنا کچھ کرسکتا ہے وہ کرتا ہے اور یہ سب کیوں ہوا ؟ انہوں نے اپنے امیر ﷺ کو کیوں نہ دیکھا ؟ کیوں کہ وہ سب دیکھ ہی رہے تھے کہ میرا امیرﷺ خود اپنے پاس اتنا نہیں رکھتا کہ وہ خود سے شروع کرے ……..لہٰذا اپنے امیرﷺ کی طرف دیکھے بغیر سب کی سب اٹھ کر اس غریب جماعت کی مدد کرتے ہیں کہ ساری جماعت ہی مستفید ہوٸی ……..اس پر ایک نہایت ہی مایوس کن بات ہر زبان پر آتی ہے کہ اس زمانے میں عوام بھی تو ایسی ہی تھی لہٰذا ہم کیا کرسکتے ہیں . اپنی حکومت کو مجبور تو کرسکتے ہیں کہ تم کم از کم اپنے اللے تللے تو کم کر لو اپنے ایک وقت کے کھانے کے بجٹ میں سے چھ غریبوں کی مدد کرلو . اور اگر ہم یہ سب کرلیں اور اپنے آپ کو اس قابل بنا لیں کہ ہمیں دیکھ کر لوگ اسلام کی حقانیت پر ایمان لے آٸیں تو پھر ایک بار پھر ہمیں وہی صحابہ کرام کے پاٶوں کی دھوون جیسا ماحول ایک بار پھر میسر آجاۓ گا ۔اور اس کڑے دور میں اس واٸرس کوباآسانی شکست دینا بھی ہمارے لۓ ممکن ہو جاۓ گا ۔
بس بات میرے سنبھلنے اور راہ راست پر آنے کی ہے۔ انشإاللہ ہماری ساری پریشانیاں بالکل جڑ سے ختم ہوجاٸیں گی ۔انشإاللہ العزیز۔

اپنا تبصرہ بھیجیں