"کرونا اور دورہ قرآن" – بشری تسنیم




اللہ رب العزت کے ہر کام میں حکمت ہونے پہ ہمارا پختہ ایمان ہے اور جو معاملہ ہمیں شر نظر آتا ہے ……… اس میں بھی کوئی نہ کوئی خیر ہی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی ہر فضل و کرم اور رحمت کا منبع و سر چشمہ ہے ۔ بعض اوقات کسی فضل وکرم کے بدلے کسی اور فضل وکرم کی بندوں کو ضرورت ہوتی ہے۔
بندے اس تبدیلی کی حکمت سے ناواقفیت کی بناء پہ نئے افکار پہ ذہن کو آمادہ نہیں کر پاتے ۔ داعی الی اللہ کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سوچے کہ جس مالک کا یہ کام ہے ………وہ اس وقت اپنے کام کو کس نہج پہ کروانا چاہ رہا ہے . یہی داعی کی حکمت و دانش کا امتحان ہوتا ہے ۔ وہی غلام تو اپنے مالک کے اشارے کو جلدی سمجھ لیتا ہے جس کی محبت غلامی کے سارے اسرار و رموز جان لیتی ہے ۔ کائنات کے مالک نے ان حالات میں کچھ ایسا انتظام کر دیا ہے کہ سب خاندان جمع ہوجایں باہر کی مصروفیات ترک کر دیں اور زرا اپنا محاسبہ کریں کہ “قوا انفسکم و اھلیکم نارا” کی طرف اشارہ تو نہیں کیا جا رہا؟اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین گھر سے زیادہ اہم کہی جارہی ہو۔ دورہ قرآن پاک کا الیکٹرونک میڈیا نے اس قدر چرچا کر دیا ہے……. ماشاء اللہ والحمد للہ کہ انفرادی طور پہ ادارے تنظیمیں جماعتیں اس کو عملی جامہ پہنانے کی سعی کرتی ہیں ۔
جب کوئی چیز اتنی آسانی سے وافر اور بے بہا دستیاب ہو تو انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ سب کچھ حاصل کرنے ،دیکھنے پرکھنے فیصلہ کرنے اور قبول کرنے میں ہی وقت خرچ کر دیتی ہے ۔ واٹس ایپ پہ دورہ قرآن کے پھیلنے والے میسج اس قدر زیادہ آتے ہیں کہ پڑھنے والا کسی کو بھی دلجمعی سے نہیں پڑھ سکتا ۔ کوئی بھی معاملہ ہو ایک ہی چیز کی کثرت انسان کو منتخب کرنے کے لئے الجھاو میں ڈالتی ہے ۔ زیادہ لباس، زیادہ ڈشز کی طرح ایک وقت میں سامنے پیش کردہ زیادہ علم بھی زہن کو الجھا دیتا ہے ۔ اور الجھا ذہن کسی ایک نکتے کو بھی جذب کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔ ایک وقت میں ایک استاد راہنما کا نظریہ سوچ تعلیم و تربیت کردار کی پختگی کا باعث ہوتی ہے . اجتماعیت کے علمبردار کے لئے یہ اور بھی ضروری ہے ۔ واٹس ایپ نے ہزاروں شاگروں کو بیک وقت ایک استاد سے جوڑ رکھا ہے کیوں نہ مرکز سے آفیشلی جاری ہونے والے دورہ قرآن کو ہی سب تک پہنچایا جائے ۔اور پھر پوری توجہ دلجمعی قوا انفسکم و اھلیکم نارا پہ رکھی جائے ۔کیا ہمیں نہیں لگتا کہ اس سال اللہ تعالی نے داعی کو یہی ٹارگٹ دیا ہے ۔ اپنے نفس کو اجلا کرو گھر والوں کو بھی اور خلق خدا کی خدمت کرو دامے درہمے سخنے ۔
موجودہ حالات اللہ تعالی نے داعی کو کس نہج پہ سوچنے ،کام کرنے کے لئے پیدا کئے ہیں ؟اور ان حالات میں اللہ تعالی سے قریب ہونے اور گھر والوں کو اپنے اور اللہ تعالی سے قریب کرنے کا ایسا موقع پھر کب ملے، کوئی نہیں جانتا …… اور ان حالات میں ایک اور نکتہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ الیکشن کی تیاری کے لئے بھی” گھر سے باہر خدمت” اور گھر میں “اہل خانہ کے قلب و ذہن کی آبیاری” ان شاء اللہ بہتر نتائج لائے گی۔ مومن کا کام ہر بدلتے حالات میں اللہ تعالی کی سکیم کو سمجھنا اور اس میں اپنا مقام تلاش کرنا ہے اور پھر محاذ پہ ڈٹ جانا ہے کیونکہ ہر داعی جانتا ہے کہ وہ اور اللہ رب العزت مل کر ہی دنیا کو سنوار سکتے ہیں ۔
کونوا انصار اللہ ……… ربنا آتنا من لدنک رحمہ و ھی لنا من امرنا رشدا آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں