عورت نام ہے احترام کا۔ ۔ ۔ مگر – ام کلثوم




قبل از اسلام دنیا میں عورتوں کو بہت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ سرزمین عرب میں عورتوں کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی …… زمانہ جاہلیت میں کسی کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے تو باپ کے منہ پر کلونس چھا جاتی اور وہ اسے زندہ درگور کر دیتے تھے۔ اسلام وہ پہلا نظام ہے جس نے عورت کو ایک باعزت مقام اور حیثیت سے نواز، اسے وراثت میں حصہ دار بنایا اور اس کے حقوق کو پورا کرنے پر زور دیا۔
میں نے عورت کے مرتبے کو حقیقی معنوں میں تب جانا جب میرے اللّٰہ نے بی بی مریم کا ذکر اپنے کلام پاک میں کیا، حضرت عائشہ کی پاکدامنی کو خود بیان کیا۔ ایک عام عورت جو اپنے شوہر کی شکایت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لاتی ہے، آپ کے فیصلے کے باوجود خولہ رب سے فریاد کرتی ہے اور میرا رب اپنے حبیب کے زریعے اپنا فیصلہ اس کے حق میں فرماتے ہیں۔ جب بی بی ہاجرہ حضرت اسماعیل کی بھوک اور پیاس کی شدت کی وجہ سے سات چکر لگاتی ہیں صفا اور مروہ کے میرے رب نے اس عمل کو تاقیامت تک ہم پر لازم کر دیا۔ میں نے عورت کی اہمیت تب جانی جب میرے رب نے اپنی عبادت کے ساتھ ماں اور باپ کی اطاعت لازم قرار دی، جب اس نے اپنی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہ دی…….. میرے رب نے عورت کا مرتبہ بڑھایا، پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جنت ماں کے قدموں تلے ہے”…….ماں کو راضی کرنے والا شخص “اویس کرنی” رب جس کی کوئی دعا رد نہیں کرتا، عمر فاروق رضہ اور علی المرتضیٰ جس سے دعا کی سفارش کرتے ہیں۔ ایک قصائی جس کو ماں کی خدمت کی بدولت موسیٰ علیہ السلام کا پڑوس ملے گا، ۔۔۔۔۔۔ اور تو اور۔۔۔۔۔۔عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت…….عورت اگر بیٹی ہے تو باپ کے لیے رحمت……عورت اگر بیوی ہے تو شوہر کا نفس ایمان . مگر افسوس ہم نے اپنی اہمیت اپنے ہاتھوں سے ہی گنوا دیا ہے، جہاں مجھے میرا خدا پردہ کا حکم دیتا ہے میں نے خود کو بے پردہ کر دیا۔ اس کی قائم کردہ حدود کی خلاف ورزی کی۔اللہ تعالٰی ہمیں اپنی اہمیت کو سمجنے والا اور اس کی قدر کرنے والا بنائے۔ آمین!…..آج عورت مارچ کے نام سے جو عورتوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے وہ کسی عذاب سے کم نہیں, میری مائیں بہنیں 8 مارچ کو سڑکوں پر اپنے حقوق کے لئے بے پردہ ہو کر نکلتی ہے،ڈھول پیٹتی ہوئی نعرے بازی کرتی ہوئی۔۔۔۔ میرا جسم میری مرضی …..جسکو سن کر ہی میری عجیب سی کیفیت تھی …..کونسے حقوق کی بات کرتی ہیں …..تعلیم کے حقوق یا جائیداد کے حقوق شادی کے حقوق. انکو چاہیے کہ ایک بار قرآن مجید کو پڑھ کے دیکھے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر غور تو کریں۔۔۔
میرے رب نے کسطرح ان کے حقوق کو واضح کر دیا ہے اور میرے مذہب میں تو عورت کو اس انمول موتی سے تشبیہہ دی پھر اس قیمتی موتی کو اپنی اھمیت منوانے کی ضرورت کیوں پیش آن پڑی……میں عورت مارچ کے خلاف نہیں ہوتی؟ اگر یہی مارچ میری ان پسماندہ علاقوں میں رہنے والی ماؤں بہنوں کے لئے ہوتا جن کی پیدائش پر آج بھی باپ کے سر پر پریشانیوں کے باعث بل پڑ جاتے ہیں اپنے ہی گھر میں ان سے غلاموں کی طرح برتاؤ کیاجاتاہےنہ ہی تعلیم کا حق ہے اور نہ ہی اپنی خواہشات کے اظہار کا حق ، صبح ہوتے ہی وہ گھر کے کے کاموں میں مشغول ہوتی ہے پھر اپنے باپ کے ساتھ کھیتوں میں کڑی دھوپ میں کام کرتی ہے اور جب تھک کہ دونوں باپ بیٹی گھر آ تے ہیں تو وہی بیٹی اپنے باپ کی ایک آواز پر پانی،کھانا پیش کرتی ہے جب وہ تھوڑی بڑی ہوتی ہے تو بغیر اس کی اجازت کے یا رضا کے اس کا رشتہ طے کر دیا جاتا ہے ابھی کھیلنے کودنے کی عمر میں اس کے ہاتھ پیلے کر دیئے جاتے ہیں ہر چیز سے انجان یہ کمسن جب وہ اپنے سسرال میں ہوتی ہے تو اس سے اور مزدوری کروائی جا رہی ہوتی شادی کرواکر اس کے والدین ایسے بے پرواہ ہوتے ہیں کہ گویا وہ ان کے درمیان کبھی تھی ہی نہیں آپ خود سوچو وہ ماں باپ اس کے سگے نہ ہوئے تو یہ سسرال سے کیا امید وابستہ کرے گی دکھ سکھ کس سے بیاں کریگی،میں یہ نہیں کہتی کے کام کاج کروانا ناحق ہے مگر اسے ان تمام خوشیوں سے محروم رکھنا یہ کہاں کا انصاف ہے اپنے ہی گھر میں غلاموں جیسا برتاؤ۔۔۔۔۔
خدارا اس تنگ نظری کو ختم کریں انکو بھی ہر حقوق سے سر فراز کریں۔۔

عورت نام ہے احترام کا۔ ۔ ۔ مگر – ام کلثوم” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں