ایک ہی گھر میں جمع ہوگئے – مدیحہ صدیقی




کہیے کیسی گذر رہی ہے ,گھر والوں سے یہ میل ملاپ ……. نئے انکشافات کا دور تو ثابت نہیں ہورہا …! وہی چہرے جو کبھی کبھی مل لیا کرتے تھے اب ہر وقت مل رہے ہیں……. بلکہ مل ملا کر گزارہ ہورہا ہے,صوفوں کے کشن سے لے کر گھر کے تکیے ….اپنی درُ گت پر ہکّا بکّا ہیں,باہر کے دروازے کی آہٹ کے ساتھ ہی اماں کے کان کھڑے ہوجاتے ہوں گے
” باہر نہیں جانا,ہاتھ نہیں ملانا” کا نعرہ دل بھاری کردیتا ہے……… سو سو کر تھک جاتے ہیں اور تھکن دور کرنے کو اور سوجاتے ہیں,موبائل اور لیپ ٹاپ سینیٹائزر کی خوشبو سے مہک رہے ہیں. سُنا ہے پڑوس میں برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ کا دور دورہ ہے کبھی کبھی کنفیوژن سی ہوجاتی ہےجنگ کرونا سے ہے یا مونا سے ,آج باہر چل کر کھانا کھانے کا شوق پولیس والوں کے ہاتھوں کچھ کھانے کے خوف نے تھام دیا ہے ,کھانے سے یاد آیا ہر گھر میں بھوک بھوک نے ہل چل مچادی ہےتین وقت کھانے کے علاوہ کچھ مزے کا ہوجائے چل رہا ہے ………گھر میں موجود ڈیوائسس کبھی کبھار کم پڑ جاتی ہیں اوراسکرین کے آگے جب سر جوڑے نفوس کو بیٹھا دیکھتے ہیں تو تیرے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے کہنے کا دل چاہتا ہے,گھر کی خواتین جو ہر روز ماسی کو دیکھ کر نہال ہوتی تھیں آج بے حال ہیں برتنوں اور کپڑوں کے انبار کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی نے کمر توڑ دی ہے اور گھروں کے اندر ایک اور مارچ کا سماں بننے والا ہے
وہ جو کہتی تھیں کسی شام گھر بھی رہا کرو وہ اپنی خواہش سے رجوع کرچکی ہیں …….. مائیں جو اولاد کو دیکھ دیکھ کر جیتی ہیں فرق صرف اتنا ہوگیا ہے کہ آج چیخ چیخ کر جیتی ہیں. انہیں وہ صبح کا سماں بھی میسر نہیں …….وہ چڑیوں کی چہچہاہٹ والا نہیں بلکہ وہ اسکول وین کی پیپ پیپ والا , باقی آپ سمجھدار ہیں اب تو مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر….,جی چاہتا ہے دیوار پر لگی گھڑیوں کو بھی چھُٹی دے دی جائے اوقات کی اوقات بتادی ہے رات گئے سونے اور دن چڑھے اٹھنے والے زمان و مکاں کی قید سے آذاد ہوگئے ہیں ,صبح جانا نہیں تو رات آنا نہیں ,مسئلہ ہی ختم ,فرصت بھی میسر ہو تو فرصت نہ سمجھنا کا فارمولا ناکام ہوگیا ہے بور ہورہے ہیں کا ڈائیلاگ سینہ تانے کھڑا ہے وہ جو کہ رہے تھے بیکاری بڑی بیماری ہے وہ سوچ رہے ہیں بڑی بیکاری ہے یابیماری ,جوتے چٹخانے کا منظر اب ناپید ہے صاحب روزگار اور بے روزگار میں فرق مٹ گیا ہے…….. بیوٹی پارلر پر پڑے تالوں نے رعنائی تو چھین ہی لی ہے,رنگین خیالات بھی اپنی موت آپ مرگئے ہیں اسکرین کا منظر زلف ورخسار سے تبدیل ہوکر ماسک و ادویات بن چکا ہے کل تک خواتین باہر نکل کر مل جل کر ترقی کے لیئے کام کرنے کے لیئے تیار تھیں آج مرد حضرات باورچی خانے میں شانہ بشانہ ہیں اور ان پر رنگ و بو کا ایک جہاں آشکار ہورہا ہے گو کہ پس منظر میں کہیں شوق پنہاں ہے اور کہیں خوف ,کاموں کے لیئے یہ کرونا وہ کرونا کہنے والوں نے نہیں کرونا کہنا شروع کردیا ہے.
چونکہ حجام کی دکانیں بھی بند پڑی ہیں لہذا خدشہ ہے کہ چند دنوں میں لیلہ نظر آتا ہے کا سین نہ ہوجائے,شاعر نے کہا تھا دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن اگر اسے اندازہ ہوتا کہ اس کی خواہش کی تکمیل یوں ہوگی تو وہ یقینا ذرا محتاط ہوکر شعر کہتا,
بہر کیف زندگی کی بھول بھلیّوں میں اچانک ہی بریک لگ گیا ہے ,stop کی سائن کے پیچھے جہاں سرخ بتی جل رہی ہے ایک لمبی قطار رواں دواں ہونے کی منتظر ہے امید و خوف کے درمیان ڈر کے بادل چھٹنے اور یہ وقت بھی گذر جائے گا کی خواہش کے ساتھ لیکن ہوسکے تو اپنے آس پاس نظر ڈالتے رہیے کوئی آپ کی توجہ اور اپنے حق کا منتظر تو نہیں,کسی کا چولھا ٹھنڈا تو نہیں پڑا ہوا,کوئی یاسیت کا شکار تو نہیں,آپ کی نظر اسکرین پرذیادہ اور انسانوں پر کم تو نہیں ہورہی ساتھ ہی ساتھ متاثرہ و بیمار افراد کو اپنی دعاوُں میں یاد رکھیں اور جس ہستی ہو اس وقت یاد کرنے اور راضی کرنے کا موقع ملا ہوا ہےاسے منالیں,رجوع کرلیں اقرار و استغفار کرلیں ,دعائیں بہاروں جیسی تازگی عطا کرتی ہیں اسے اوڑھنا بچھونا بنالیں …….. اور ہاں چلتے چلتے !!کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
وباِ عام سے مرنے کا خوف اپنی جگہ
کواڑ کھول کر دیکھو بہار آئی ہے

ایک ہی گھر میں جمع ہوگئے – مدیحہ صدیقی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں