عورت! – نہاء نور




ان چار حرفوں پر مشتمل یہ خوب صورت سا لفظ…….. جب آپ کی سماعتوں سے ٹکراتا ہے تو آپ کے ذہن میں عورت کا ایک پاکیزہ منظر سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن کبھی آپ نے اس لفظ پر غور کیا ہے؟ کیا آپ اس کی حقیقت اور اہمیت سے آشنا ہیں؟تاریخ انسانی کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب لوگ اسلام کی دعوت سے محروم تھے…..
تو انہوں نے عورتوں پر جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا تھا………. جس سے نہ صرف عورت کو کمزور سمجھا گیا بلکہ اسے بےوقعت قرار دے دیا گیا!لیکن اسلام کا بول بالا ہوتے ہی عورت کو ذلت و پستی کے تحت اثری سے اٹھا کر عظمت و بلندی کے بام ثریا پر رونق افروز کردیا۔چونکہ عورت تمدن انسانی کا محور و مرکز ہے اور گلشن ارضی کی زینت ہے اس لیے اسلام نے باوقار طریقے اسے ان تمام حقوق سے نوازا جن کی وہ مستحق تھی۔قرآن پاک میں بھی اللہ تعالی نے عورت کی اہمیت اور مقام سے ہمیں آگاہ کیا ہے جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ عورت بہت عظیم و معتبر ہستی ہے۔لیکن آجکل کے دور کی کچھ لبرل سوچ کی عورتیں بے باک اور آزاد ہو چکی ہیں۔وہ سمجھتی ہے کہ انہیں ان کے بنیادی و معاشرتی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے …….
اس لیے اپنی آواز کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ سڑکوں پر دلیری سے نکل پڑتی ہیں، مغربی روش پر چلتے ہوئے وہ نازیبا لباس پہن کر بیچ سڑک پر زور و شور سے “میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی دکھائی دیتی ہیں۔اپنے جسم کی زینت کو پوری دنیا کے سامنے ظاہر کرکے وہ اللہ کے دیے ہوئے جسم پر اپنی مرضی چلانا چاہتی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ النور میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: “وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہوجائے” ……. اس آیت سے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عورت اپنی زینت سے کسی کو بھی متوجہ کرلیتی ہے، ہزاروں لوگوں کی نظریں اس پر مرکوز ہو جاتی ہیں جسے اللہ تعالی سخت نا پسند کرتے ہیں۔ یہی عورت جو اپنی عزت کو پامال کرنے پر تلی ہوئی ہے اللہ تعالی کی رحمتوں سے بھی محروم رہتی ہے ۔
آج یہ عورت جو چیخ چیخ کر سر عام اپنے حق کی بات کر رہی ہے،کیا اس نے کبھی قرآن کی تعلیمات پر نظر نہیں ڈالی؟
کیا اس نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ میں سے اپنے لئے کوئی سبق اخذ نہیں کیا؟ کیا اسے معلوم نہیں کہ چودہ سو سال پہلے ہی اللہ تعالی نے قرآن مجید میں عورتوں کے حقوق واضح کر دیے ہیں۔وہ کیسی مومن عورت ہے جو اللہ کے احکامات سے غفلت برت رہی ہے اور اللہ کی دی ہوئی امانت(جسم) پر اپنی حکمرانی کرنا چاہتی ہے! اس نے کبھی یہ کیوں نہیں سوچا کہ میرا مالک مجھ سے کیا توقع رکھتا ہے،اسے کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے،وہ تو پھر مسبب الاسباب ہے تو ہم کیوں اس کے احکامات کو ایک طرف رکھ کر صرف وہ کرنا چاہتے ہیں جس سے ہمیں خوشی ملتی ہے، جس سے ہمیں راحت حاصل ہوتی ہے!کیوں ہم اس کی رضامندی کے لیے وہ نہیں کرتے جو وہ چاہتا ہے؟ یہ وقت رب کونین کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہے۔
اللہ ہمیں ان گمراہیوں سے بچالیجیے اور سیدھے و سچے راستے پر چلائیے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں