اعتماد – افشاں نوید




“ہم چندہ جمع کر رہے ہیں حکومت نے کہا ہے کہ اب لاشیں دفنانے کے لیے قبرستانوں میں جگہ نہیں ہے۔ فنڈنگ کر کے ہم زمین خرید رہے ہیں ورنہ وہ مردوں کو جلا دیں گے یہاں سرد خانے بھی بھر چکے ہیں”۔ بچپن کی دوستی ہے نیویارک میں رہتی ہیں۔کچھ دیر قبل فون پر بات ہو رہی تھی۔
بولیں” قریبی ریاست میں موجود دو بہنوں کے گھروں میں تین لوگوں کو کرونا کی علامات ہیں۔ اسپتال نہیں لے جا سکتے کیونکہ صرف ایمر جنسی میں لانے کی اجازت ہے اگر گرونا کی علامات ہیں تب بھی کہا جا رہا ہے کہ اپنے گھروں میں بیٹھئے کیونکہ ٹیسٹ کٹس میسر نہیں ہیں۔بہت سارے مریض دستیاب سہولیات سے دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ وینٹیلیٹر بھی بمشکل ہی دستیاب ہیں۔بوڑھوں کے بجائے جوانوں کو لگانے کو ترجیح دی جارہی ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں تنہائی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن بھابھی اور بہن کی حالت بتدریج خراب ہو رہی ہے ان کا نظام مدافعت جواب دے رہا ہے لیکن اسپتال نہیں لے جاسکتے انتظام نہیں وہاں۔ بعد ازاں میں نے آسٹریلیا میں اپنے دوست کو فون کیا تو بولی…….” یہاں ملبورن میں سوپر اسٹورز خالی پڑے ہیں۔ہم نے سینیٹائزر,ماسک اور ٹشوپیپر بھی آن لائن منگائے۔ آن لائن ڈیلیوری بھی دو یا تین ہفتوں میں ہورہی ہے اور بہت مہنگا پڑا ہے۔ یہاں پر جیسے ہی خطرے کا اعلان ہوا لوگوں نے اتنا اسٹاک کر لیا گھروں میں کہ سب دکانیں خالی ہوگئیں۔ ہسپتال بھر گئے ہیں کہا گیا ہے صرف ایمرجنسی والے مریض آئیں اور ان کو بھی دس بارہ گھنٹہ لائنوں میں لگنا پڑتا ہے۔”
میں نے سوچا کہ اگر کرونا صرف پاکستان میں آتا تو ہم کتنی حسرت سے سوچ رہے ہوتے کہ ، اگر یہ کرونا امریکا میں آیا ہوتا تو وہ دنیا کی”عظیم ریاست” انسانوں کو بچانے کے لیے اپنے سارے وسائل لگا دیتی۔انسانی جانوں کی بہت قدروقیمت ہے انکے نزديک۔وہاں بہترین طبی سہولتیں,صاف ستھرا آلودگی سے پاک ماحول۔بے ملاوٹ ادویات,اعليٰ تربیت یافتہ عملہ۔انکی سائنس وٹیکنالوجی میں مہارت نے انھیں ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔وائرس کیا چیز انھیں دنیا کی کوئ طاقت جھکا نہیں سکتی۔ہم ٹھہرے تیسری دنیا کے لوگ جن کے پاس طبی سہولتیں بھی نہیں,دوائیں تو وہ جعلی۔نہ ہنگامی حالات کی تیاری۔ آہ!ہم جو کبھی بلڈنگ گرنے سے مرجاتے ہیں تو کبھی ٹریفک حادثے میں ۔کبھی طبی سہولتوں کی عدم دستیابی پراور کچھ نہیں تو آپس میں لڑلڑ کر ہی مرے جارہے ہیں۔ کاش ہمارے پاس بھی وسائل ہوتے تو امریکہ یا یورپ جاتے کرونا کا علاج کرانے۔ہم غربت, آلودگی,غذائی قلت و ملاوٹ کی وجہ سے کرونا کا شکار ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے وزرا,سفراء,ایلیٹ کلاس جہازوں میں بھر بھر یورپ و امریکہ کے ہوائی اڈوں پر لینڈ کرتے وہیں قرنطینہ کرتے اور ہم بے چارے پردیس جانے کی حسرت لیے کرونا سے لڑتے لڑتے مرجاتے۔پھر ہمارے حکمران مغربی دنیا سے تعزیتی بیانات اور امدادی پیکیج جاری کرتے ہمارے لیے۔
ایک عجب اعتماد دیا ہے ان حالات نے۔ دنیا کا یہ منظر دکھایا کہ کوئی بڑا چھوٹا نہیں,وسائل اور ماحولیات سب سجدہ ریز ہو جاتے ہیں جب آسمانی بگل بجتا ہے۔ ایک اور منظر دیکھتی ہے تاریخ …..جو پسماندہ ملک ہیں وہاں وہ انارکی نہیں ہے,وہاں سپراسٹور بدستور بھرے ہوئے ہیں۔نہ ٹشو پیپر ایشو ہیں نہ ماسک و سینیٹائزر کی کمی۔۔۔ بچوں کی بھوک کا خوف ہے مگر موت کا وہ خوف نہیں۔اگر رینجرز نہ ہو سڑکوں پر تو کوئی دیہاڑی کا مزدور موت کے خوف سے کبھی ٹھیلا لگانے سے باز نہ آۓ گا۔ مسلمان موت سے اس طرح نہیں ڈرتا کیونکہ وہ موت کی تیاری کرتا ہے اور دنیا کر عیش کدہ سمجھ کر نہیں جیتا۔ وقت تو گزر ہی جائے گا۔گزرنے ہی کے لیے ہے لیکن کرونا نے بصیرت کی جو آنکھیں کھولی ہیں ہم تیسری دنیا کے باسی دنیا کو الگ ہی انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ جینے کا نیا قرینہ اور خود اعتمادی ملی ہے ہمیں ۔ بہت سے برج الٹ گیے۔بہت سی پیشانیوں میں سجدے مچل رہے ہونگے۔ ایک ہزار کتابیں پڑھ کر بھی ہم وہ نہ سمجھ پاتے جو ننھے کرونا نے سمجھا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں