کرونا اور دو باغ والے – ڈاکٹر اسامہ شفیق




کرونا جدید دنیا کے لیے ایک ھیبت ناک وباء بن چکا ھے…. تاہم دنیا بھر میں ھلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ھے۔ کرونا کی تباھی ان ممالک میں زیادہ ھے کہ جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا جادو سر چڑھ کر بول رھا ھے اور انسان بھیڑ کو کلون کرنے کے بعد اپنے جیسے انسان بنانے کے تجربے کرنے کی فکر میں تھا۔
انسان اس جستجو میں تھا کہ اس حیرت انگیز سائنسی ترقی کی بنیاد پر انسان کی اوسط عمر میں حیرت انگیز اضافہ کردیا جائے۔ جدید ترین میڈیکل سہولیات کہ جہاں انسان کے اعضاء کی پیوند کاری کا کام ھوچکا تو انسان اس دھن میں مگن تھا کہ مصنوعی اعضاء بناکر انسان کو ھمیشہ ھمیشہ کے لئے زندہ رکھنا ممکن بنایا جاسکے۔ یہ جدید دنیا سائنس کو تقریبا خدا کا متبادل بنا چکی تھی۔ مغرب میں رھنے والے 70 فیصد سے زائد لوگ اپنے آپ کو لادین Atheist کہتے تھے۔ مذھب کو سائنس کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا جاتا تھا اور خدا سے انکار کو جدیدیت کا نصب العین مانا جاتا تھا۔ مذھب پر پھبتی کسنا فیشن اور مذھبی شناخت پر حملہ آور ھونا مغرب کا فرض اولین تھا۔ سائنسی ترقی، جدیدیت، طبی سہولیات میں ترقی سے نہ کبھی مذھب نے انسان کو روکا اور نہ ہی کسی الہامی کتاب میں ان سے روکا گیا۔ انسان کو بس ایک سبق بار بار یاد کروایا جاتا رھا کہ یہ تمام صلاحیتیں کہ جس کے بل بوتے پر اقوام ترقی کررھی ہیں سب کی سب اللہ کی ودیعت کردہ ہیں۔ یہ وھی مضمون میں جو کہ سورت الکھف میں بار بار بیان کیا گیا ھے۔
خاص طور پر دو باغ والوں کے قصے میں کہ جس میں ایک باغ کی پیداور کم تھی اور دوسرے کی زیادہ تو زیادہ پیداور والے باغ کا مالی اس کو اپنی صلاحیتوں کا پھل سمجھ بیٹھا اور بڑے غرور سے اپنے باغ پر گھمنڈ کر بیٹھا نتیجے میں اللہ نے اس کا باغ خاکستر کردیا اور بتادیا کہ یہ سب رب کی عطا تھی۔ اب ذرا موجودہ کرونا کی صورتحال کا ایک سرسری سا جائزہ لیں اس کا سب سے زیادہ شکار وہ ممالک ہیں جوکہ سپر پاورز ہیں جن کی میڈیکل سائنس اور سہولیات کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ صرف امریکہ میں ھلاکتوں کی تعداد 20 ھزار سے زائد ھے، برطانیہ 10 ھزار سے زائد، اٹلی تقریبا 14 ھزار، اسپین، جرمنی آپ نام لیتے چلے جائیں اور ھلاکتوں کی تعداد دیکھ لیں۔ جدید دنیا کی جدید ترین میڈیکل سہولیات بیٹھ چکی ہیں انسان کو اب سمجھ آجانا چاھئے کہ جن چیزوں کو وہ اپنی صلاحیتوں کی بناء سمجھ رھا تھا وہ دراصل رب کی عطا تھی۔ سورت الکھف کا سبق آج بھی انسانوں کو اس کی یاد دلارھا ھے کہ جو کچھ بھی صلاحیت، علم، فن آپ کے پاس ھے……..
یہ آپ کی اپنی بناء پر نہیں بلکہ رب کی عطاء پر ھے لہذا ھر لمحے اس عطاء پر اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہیں تاکہ اللہ آپ کی صلاحیتوں کو مزید خلاء بخشے ورنہ اس سب کو اپنی بناء سمجھے والے مغرب کا انجام سب کے سامنے ھے۔ یہی حق ھے کہ رب بار بار انسان کو اپنی جانب متوجہ کرتا ھے کہ شاید بھٹکا ھوا انسان پلٹ آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں