وہی خدا ہے – شہزاد مرزا




اس چمکتی دمکتی، پررونق، ٹیکنالوجی اور ترقی کے غرور میں مبتلا دنیا کو چند دنوں میں ہی کیا ہو گیا…….. آناً فاناً سارا نقشہ ہی بدل کر رہ گیا… بازار بند، مالز بند، سڑکیں سنسان، سیر و تفریح کی جگہیں ویران، تمام تر انسانی ترقی اور محنت کے باوجود یہ دنیا خود کو رواں رکھنے میں ناکام ہو گئی ہے.
سائنس کو خدا ماننے والے بھی لیبارٹیوں مین کھڑے بےبسی سے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہر کوئی کسی غیبی مدد اور معجزے کا منتظر بیٹھا ہے…… ذرا سوچیں اس کائنات کا سارا نظام توازن کی بدولت چل رہا ہے، ذرا سا بھی کچھ اونچ نیچ ہو جائے تو دنیا کا وجود خطرے میں لگنے لگتا ہے، سورج خاص فاصلے پر کھڑا قابل برداشت شعاعیں بھیج رہا، یہ تھوڑا نذدیک ہو جائے تو سب بھسم ہو جائے، گیسز کی مقدار میں کمی بیشی سے تباہی مچ جائے، ہواؤں کی مقدار ذرا سی کم ہو جائے سانس بحال رکھنا مشکل اور زیادہ ہو جائے سانسوں کو سنبھالنا ناممکن…!
ہمارے چاروں طرف نظر نہ آنے والے بیکٹیریاز موجود ہیں، یہ مکمل ختم ہو جائیں تب بھی انسان محفوظ نہیں اور اگر زیادہ طاقت سے سرگرم ہو جائیں تب بھی خطرہ، درخت آکسیجن دینا اور کاربن ڈائی آکسائید کھینچنا بند کر دے یا روٹین بدل لے کتنی دشواریاں پیدا ہو جائیں،
خالق کو اس دنیا کے لئے کسی بڑے لشکر کی ضرورت نہیں، ایک نظر نہ آنے والا وائرس ہی کافی ہے، تکبر جتنا بڑا ہوتا ہے قدرت اتنی چھوٹی چیز سے اسےذلیل کرتی ہے، اس دنیا کا غرور ایک وائرس کے ہاتھوں چکنا چور کردیا گیا، اب بھی کوئی خالق کائنات سے غافل رہے، اس کے وجود پر یقین نہ لائے اور اس پر یقین رکھنے والے اس کی طرف نہ پلٹیں، رجوع الی اللہ نہ کریں تو خالق کا کچھ نہیں جائے مگر انسانوں کے پاس بچے گا کچھ نہین،
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے…….وہی خدا ہے
دیکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آ رہا ہے…….وہی خدا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں