سمارٹ لاک ڈاٶن – صبا احمد




سمارٹ موباٸل فون اور ٹیلی ویژن  اور پین کا سنا تھا……..مگر اب  سمارٹ لاک ڈاٶن سے بھی دنیا متعارف ھوگی  باقی تمام ایجادات کی طرح ۔ لاک ڈاٶن جس پر پابندی سے اور سختی سے عمل درآمد کیا اور کروایا جاۓ ۔جیسے چا ٸنا میں ھوا  ..انہوں کتنی جلدی اس وبا پر قابو پایا ۔
لندن امریکہ فرانس جرمنی بیلجیم اسپین تیونس فلپاٸن اور عرب امارات اور210 تقریبا اب ساری دنیا میں ھی ھے ۔ کرونا واٸرس کی وبا کے پیش نظر اسپینن اورفرانس میں جرمانہ ادا کرنا ھوگا ۔ اگر آپ بلا مقصد باھر نکلے گھروں سے جو اوقات خریداری کے ھیں اس میں نکلیں اور ماسک نہ پہننے پر فرانس میں ١٥٠٠یورو جرمانہ ۔ ۔١٩١٨ میں اسپین میں بھی فلو پھیلا تھا ۔اس میں بھی بہت اموات ھوٸ تھیں ۔اور اسراٸیل نے ویان میں کرونا کے پھیلنے سے پہلے تصدیق کی کہ covid 19 پھیل رھا ھے چاٸنا میں اور یہ ساری دنیا میں وبا کی صورت اختیار کرے گا ۔ کرونا واٸرس کے بارے میں مویز تو بنی تھی مگر یہ اس طرح پھیلے گا ۔عام لوگوں کو نہیں پتا تھا مگر WHO کو پتا تھا کہ اس طرح کا واٸرس ھے ۔اور باہر کے ممالک میں Dettold کے بوتلوں پر لکھا ملتا تھا  اب  اس چھوت کی بیماری نے زور پکڑ لیا ھے ۔ فلپاٸن میں میں کرفیو لگا دیا ھے ۔ اگر کوٸی گھر سے   نکلے  گا تو گولی مار دی جاۓ گی.
اسی طرح ترقی پزیر ممالک میں بھی عوام سے سختی عمل کرانے کی کوششیں جاری ھیں ………مگر غریب ممالک میں بے  روز گار اور غربت اور روز کی مزدوری کرنے کے مساٸل اشیاء خوردونوش کی کمی اور ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی ماسک کی کمی پوری دنیا کی مساٸل ھیں مگر وہاں کی حکومتیں فراہم کرتی ھیں ۔ غریب ممالک ایڈ پر انحصار کرتے ھیں بیرون ملک بیٹھے پاکستانیوں  نے امداد بھیجی  کچھہ یہاں کے مخیر حضرات آگے بڑھے انڈسڑیلیست کے تعاون سے وزیر اعظم کا احسا س پرگرام کافی تاخیر سے شروع ھوا۔ پھلے فلاحی اداروں اور لوگوں تک راشن دواٸیاں ماسک اور PPE اور کٹس مہیا کی بعد میں حکومت اور چاٸنا نے یہ سامان بھیجا ۔ چین نے ہمیشہ کی طرح دوستی نبھاٸ ۔تباسی وبا پر قابو پانے کی کوشش کی گیے ۔صوباٸ حکمتوں کے بر وقت فیصلے لاک ڈاٶن سود مند ثابت ھو رھا ہے ابھی خطرہ ٹلا  نہیں ۔ دھاڑی دار مزدور اور عوام کے بلاوجہ نقل وحمل کی وجہ سے لاہور اور کراچی میں کیسز بڑھ ۔رھے ھیں  اب پولیس اور فوج اور رینجر سختی کر رھی ھیں ۔عوام پر ورنہ سپین اور امریکہ کی طرح  جانی ومالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ 
بینظیر اور احساس فنڈ عوام کو مستحکین تک پہنچنا شروع ھوگی ھے ۔  مگر سماجی فاصلہ کی پابندی عوا م کو پس پشت ڈال  رہی ھے ۔گھروں میں کھانے اور راشن کی کمی نے خواتین کو پریشان کردیا ھے ۔ گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ھونے کے بعد ١٢٠٠٠ روپے مل رھے ھیں اس میں سے بھی حکومت کے نماٸندے کھا رھے ھیں ٥٠٠ سو روپے زندگی کا بھرسہ نہیں مگر اپنے پیٹوں کو جہنم کی آگ سے بھرنے لگے ھیں یہ مغفرت کا اور توبہ کرنے اور لوگوں کی مدد ان کے دکھہ درد بٹنے کا وقت ھے یا جیبیں بھرنے کا ۔مسلمانوں کو یہ وبا اللہ کی طرف سے عزاب کا الارم ھے ۔   ۔ایسے وباٸ امراض ھوتے ھیں مگر یہ شدید نوعیت کا ھے پوری  دنیا کو سامنا ھے ۔1920 میں بھی  نزلے کی وبا اسپین سے شروع ھوٸ اور اس مرتبہ چین سے ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ یہاں پاکستان میں اتنے ٹرک راشن کی آتے ھیں مگر پیشہ ور فقیر روزانہ لے جاتے ھیں اور ھم سارادن کھڑے ھو کر خالی ھاتھہ لوٹ جاتے  ھیں تو پیٹ کے لیے سماجی فاصلہ بھی بھول جاتے ھیں ۔ دھکم پیل میں لڑاٸ جھگڑا ھو جاتا ھے ایک خاتون مر گی اور ایک مظفر آباد میں زخمی ھو ٸ ۔پولیس کوشش کرتی ھے منظم طریقے لوگوں کو راشن اور فنڈ کی رقم ملے ۔
مگر ہم کب تک لاک ڈاٶن میں بھوکے مریں ۔٢٠اور ٢١ مارچ سے پوری دنیا میں گاھے بگاڑ ھے لاک ڈاٶن لگا  رکھا  ھے ۔۔۔مغربی مممالک میں تو ٢٤ اپریل تک رھے گا پاکستان میں چودہ اپریل کے بعد حتمی فیصلہ ھوگا اس  کو اور  بڑھانا ھے یا نرمی کرنی ھے اگر عوام حکومت کا ساتھہ دی گی ۔ گھروں میں بیٹھے گی مکمل لاک ڈاٶن ھوگا تو یہ سمارٹ لاک ڈاٶن ھوگا اور عوام کی زندگیوں کا ضامن بھی ھوگا ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی  اگر حکومت کو فنڈ دے رھے ھیں ۔اور ملک میں بھی تو جس طرح وزیز اعظم نے شوکت خانم اسپتال کےلیے فنڈ کی اپیل کی کے ٢٠روپے کی کال کرنے کو کہا ھے ۔اسی طرح آپ عوام کو کرونا سے متاثر افراد کے لیے بھی کال کرنے کو کہیں تو اگر ٢٢کروڑ میں سے ١٠کروڑ بھی کا کرتے ھیں تو ایک ماہ کا یا دو ماہ کا سمارٹ لاک ڈاٶن ھو سکتا ھے اور ھم ھر طرح کے معاشی بحران کا بھی مقابلہ کر سکتے ھیں ۔ چین کی عوام کی طرح تو کرونا سے ہم لڑ سکتے ھیں احتیاط اور گھروں میں رہ کر باہر نکلے پرھیز کریں بلاضرورت ۔
حکومت روز کے مزدوری کر نے والوں تک  پیسہ ان کے گھروں تک پہنچا دے لوگ گھروں سے نہیں نکلین گے ۔ عوام کو حکومت کی میسج آنے پر فنڈ کے دفتر آنا چاھیے ۔سماجی فاصلہ کو اھمیت دینا ان کی اپنی زندگیوں کا دفاع ھے ١٤٤لاکھہ وہ دے رھے ھیں ۔ ١٧٠٠٠ سنٹرز میں ۔صبر کا دامن  ھاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ بیشک ھم پر یہ عزاب یا امتحان پوری دنیا کی ھڈدھرمی کی وجہ سی آیا ھے کشمیر میں آٹھہ ماہ  سے    لاک ڈاٶن ھے مودی سرکار نے شق ٣٧٠کو ختم کرکے اس کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرکے پوری دنیا اور UNOfficial  خاموش تماشاٸ کر ان کا تماشہ دیکھ رہی ھے اپنی قرار داد پر عمل درآمد نہیں کر وارھی یہ وبا۶ اب تبھی ختم ھوگی دنیا سے جب انہیں ان کا حق ملے گا ۔ یہ اللہ کا قہر ھے دنیا پر  فلسطین شام اور روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کا خون بہ رھا ھے ۔ بہتر سالوں سے فلسطینی قبلہ اول کے لیے اور کشمیری آزادی کے لیے مظلوم عورتوں اور بچوں جوانوں کا خون بہ رھا ھے ناحق اب یہ اللہ تعالی کا لاک ڈاٶن ھے اور اللہ کاغضب شدید ھوتا ھے ۔ایٹم بم اور میزاٸل بنانے والے جو مریخ پر سیارے میں ریستورانت بنا نے کی تیاری کر رھے ھیں لوگوں کو تغریح کا سامان دینے کے لیے کیا وہ دواٸ بنانے ناکام ھوگۓ ھیں کہ اوپر بیٹھا اس کاٸنات کا خالق نہیں چاہ رھا وہ ناراض ھے اس کو راضی کرنا ھے ۔یہ اس کا لاک ڈاٶن ھے ۔
کیا اس چھوٹے  سے جراثیم کے خلاف ویکسین نہیں بنا سکتے ۔ اب یہ تبھی بنے گی جب اس کی منشا ھو گی اس کی مرضی کے خلاف ایک پتا بھی نہیں ھل سکتا ۔اس سمارٹ لاک کو کامیاب لاک کرنا اللہ کے ھاتھ ھے اسے منانے کے لیے اس کی مخلو ق کو جو قیدوں بند میں ڈال رھا ھے ان کو در بدر کر رھا مودی شہریت نہ دینے کی بل کو پاس کرکے اور برما کے مسلمانوں کو بھی  سب کی رسی کھینچی جاۓ گی اگر سنبھل سکتے ھیں تو سنبھل جاۓ انسانیت اور مسلمان ۔پوری دنیا کا لاک ڈاٶن اس لڑکی دعا ھے جس نے کہا تھا ۔انڈین صحافی نے بتا یا کہ صرف رپورٹ لینے کے لیے صرف مجھے ملی تو حکومت سے ٥منٹ کی اجازت لی اپنے دوست بلال سے ملنے کی اجازت ملی ۔میں آد رھا تھا گل کے نکڑ سے ایک گھڑکی کھلیے ۔لڑکی نے کہاوت آپ اروند بھاٸ ھے ۔بلال نے بتایا آپ بہت سمجدار انسان ھے ۔میں بلال کی کزن ھوں ۔ کھڑکی میں سے  نفیسہ نے  کہا۔ میں نے   اللہ تعالی سے دعا کی ھے   جو لوگ ھمیں کہتے ھیں کہ اچھا ھوا ۔ کشمیر یوں کے ساتھ  ۔ہم اسی قابل ھیں ۔ تو میں نے دعا کی ھے ۔
توان کے شہروں میں بھی یہ لاک ڈاٶن لگے اور انہیں پتا چلے کے کیسے جیا جاتاھے ۔قید ھو کر کیسے ذھنی حالت ھوتی ھے ۔ جب ان کے فون اور سوشل میڈیا بھی بند کردیا جاۓ وہ اپنوں سے ملنے ان کے بارے میں  بے خبر رھیں ان کے جوان اور چھوٹے بچوں کو اٹھا کر جیلوں میں بند کردیا جاۓ ۔ان کی قیادت بھی نظر بند یا جیلوں میں فید ھوں ۔ جب کھانے پینے کو کچھہ نہ ملے نہ  دواٸ ۔ اوراروند بھاٸ   ضروریات زندگی نہ میسر ہو عزتیں بھی محفوظ نہ ھوں ۔اروند صحافی انڈیا  ٹاٸم کا  پریشان ھو گیا ۔اس کی بات سن کر اور وہ لکھتا ھے کہ مجھے . خوف محسوس ھوا ۔اس کی بات سن کر ۔ آج کے ساری دنیا کے حالات دیکھہ کر پوری دنیا میی لاک ڈاٶن ھے ” ۔انڈیا دھلی “
بھار ت دو تین  دن سی مسلسل اشتعال انگیز گولہ باری کر رھا ھے لاٸن آف کنٹرول پر ۔ ڈرون حملے کر رھا ھے ۔دو نہتے شہرے شہید ھوگۓ اور زخمی اسپتال میں  زیر علاج ھیں ۔   پوری دنیا معاشی برہان سے گزر رھی ھے ۔مودی پر جنگ کا جنون چھایا ھوا ھے ۔انسانی حقوق کی علمبردار UNOfficial اور یورپین یونین نے بھارت کو خبردار کیا ھے کہ وہ یہ امتیازی سکول مسلمانوں اور اقلیت وں کے ساتھہ بند کرے متنازعہ شہریت کے بل کو بھی ختم کرے انسانیت اتنی تکلیف میں ھے زندگی کا بھروسہ نہیں اور امریکہ نے جنگی معاہدے کے خلاف افغانستان میں واپس جانے والی افغانی فوج پر حملہ کیا ۔امریکہ میں سب سے زیادہ لوگ کرونا سے ہلاک ھو رھے ھیں ۔اسے ڈر نہیں خدا کا تبھی  امریکہ میں طوفان بھی آیا ھے یہ اللہ کی طرف سے تنبہہ ھے ۔اس کی ناراضگی سے بچے ۔
۔ساری دنیا اس کی مزمت کر رہی ھے ۔ کرونا کا واحد علاج احتیاط اور صفاٸ ھے ۔جسمانی اور نفس کی صفاٸ ۔جھوٹ حسد کو لاک ڈاٶن لگانا ھوگا تبھی   سمارٹ لاک ڈاٶن ممکن ھوگا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں