ماہ رمضان اور آج کا مسلمان – ام کلثوم




جیسا کہ آپ جانتے ہیں ….ماہ رمضان کی آمد آمد ہے۔ رمضان المبارک اسلامی کلینڈر کے اعتبار سے سال کا نواں مہینہ ہے لیکن اس کی اہمیت ایک سچے مسلمان سے بہتر کون جانتا ہے”رمضان”رحمتوں, برکتوں کا یہ خوبصورت مہینہ جس میں تمام مسلمان اس مبارک مہینے کی آمد سے پہلے تیاریوں میں لگ جاتے ہیں .
گھروں کی صفائی کے ساتھ دلوں کی صفائی میں بھی جیسا ہی یہ سایہ فگن ہوتا ہے پورا عالم سہانہ نظر آتا ہے مسجدوں میں بہاریں جوق در جوق نمازی، سحری کی رونق، افطار کی برکت، ننھے بچوں کی روزہ رکھنے کی ضد، نیکیوں میں حرص، تراویح کا ذوق، وہ مغرب کی اذان کا انتظار کوئی پریشان کرے تو کہنا تم پر سلام میرا سلام میرا روزہ ہے مسکراہٹ سے جواب دیتے ہوئے آگے بڑھ جانا۔ کچھ گناہ ہو جائے تو بجائے شیطان کو کوسنے کے کہ وہ تو بند ہے اب گناہ کون کروا رہا ہے اور خود کو سزا دینا۔ مگر اب نہ وہ زوق ہے نہ شوق روزے آج بھی ہیں نمازیں آج بھی ہیں مگر بے اثر کیوں؟؟؟؟ کیا ہم روزے کا اصل مقصد بھول چکے ہیں؟ افسوس! آج ہم کہاں آگیے ہیں روزے سے ہونے کے باوجود میرے نوجوان بھائی بہن ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں، ٹی وی عام، مورننگ شوز، روزے کا پورا وقت بجائے عبادتوں کے سونے میں گزارنا۔
سحری کے بعد موبائل ہاتھ میں لے کر صبح 12 بجے تک Chatting کرنا اس کے بعد سونا اور عصر میں اٹھنا پھر تھوڑا ٹہل کر روزہ افطار کرنا۔ صرف بھوکے پیاسے رہنے کو تو روزہ نہیں کہتے روزے کا مطلب تو اس سے کئی بالاتر ہے میرے رب نے فرمایا مومن کا ہر عمل اس کے اپنے لیے ہے اور روزہ میرے لیے اور میں اسکا اجر دوں گا تو کیا یہ ٹاسک اتنا آسان ہےکہ صرف کچھ نہ کھا پی کے اپنے رب کو راضی کرلیا جائے نہیں روزہ اصل میں”جہاد بالنفس” ہے جس پر قابو پا کر ہی خدا کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ جب لوگوں نے یہ رویے اپنائے تو آج ہم اس سال کے رمضان کو کس ماحول میں خوش آمدید کہ رہے ہیں یہ ہر کوئی محسوس کر رہا ہے ۔ تمام عالم اسلام میں قبل رمضان اور دوران رمضان ایک ہی فضا ہوتی تھی ۔ سارے ممالک کے روٹین بدل جاتے تھے ۔ ہر کوئی اپنی ثقافتی روایات کے مطابق رمضان کا استقبال کرتا تھا ۔ ہمارے پیارے ملک میں بھی مساجد کے اندر خاص تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں۔
تھوڑا سا ایسا ذکر کر کے آج کی محرومی کا اظہار کریں اور استغفار…..۔پچھلے غلط کاموں کو چھوڑنے کا عزم ۔قران فھمی ۔اللہ کو اس پاس محسوس کرنا ۔یہ سب کچھ نکات دے کے عمل کی طرف راغب کر دیں رحمتوں کی امید دلادیں اختتام پر ۔ اب یہ حالات حاضرہ کے مطابق ھو جائے گ

اپنا تبصرہ بھیجیں