رمضان ٹرانسمیشن دین کے نام پر کھلی بے حیائی – نویرہ عمر




رمضان المبارک کی آمد آمد ہے….. رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ اللہ کے فضل و کرم سے سایہ فگن ہونے والا ہے۔ شعبان المعظم سے ہئ رمضان المبارک کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ ہر جگہ ہر انسان اپنے طور سے رمضان کی امد کی تیاریوں میں لگا ہوتا خواتین گھروں کو چمکانے تو کاروباری حضرات اپنے کاروبار کو چمکانے میں لگ جاتے ہیں۔
وہیں معاشرے کا وہ طبقہ جو کہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری پر مامور ہے…… یعنی کہ میڈیا انکی بھی کچھ تیاریاں رمضان کے حوالے سے نظر اتی ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن کا سلسہ جاری ہے جو کہ خالص رمضان کے ساتھ مخصوص ہیں اور اسی مہینے میں دیکھائے جاتے ہیں۔ ان پروگرامز میں گیم شوز بھی شامل ہیں اور سحر و افطار کی ٹرانسمیشن الگ ہوتی بات اگر محض کوئی دینی پروگرام دیکھانے کی ہوتی تو ٹھیک تھا مگر یہاں تو دین کے نام کھلی بے حیائ اور کھیل کود دکھایا جاتا اور رمضان کا مقدس مہینہ کئ سالوں سے اس بے ہودگی کی نظر ہورہا ہے اور صرف یہی نہیں وہ وقت جو عبادات میں لگانے کا ہے لوگ اس خرافات کو دیکھنے میں لگا دیتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان دین کے نام پر چلنے والے پروگرامز کو وہ ارکارائیں، اداکار اور ماڈلز ہوسٹ کر رہے ہوتے ہیں جن کے پاس دین کا مستند علم نہیں ہے اور سادہ لوہ لوگ جو دینی علم سے زیادہ اگاہی نہیں رکھتے ان پروگرامز کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہی صحیح دین ہے جس سے لوگوں میں دی. اسلام سے متعلق گمراہئ پھیل رہئ ہے۔ ایسے دینی علم سے نا بلد لوگوں سے ان پروگرامز کی میزبانی کروانا سراسر دین کا مذاق بنوانا ہے۔ اسی پر بس نہی. گیم شو کے نام پر جو بے حیائی,لوٹ مار اور ہلڑ بازی ہوتی ہیں وہ ایک الگ داستان ہے۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ کیا ان ہلڑ بازیوں کے لیئے مخصوص ہے یا اللہ تعالی نے نیکیوں کا موسم بہار بنا کر نازل کیا ہے؟ ایسی بے حیائی ،شور شرابے تو پورا سال کرنا جائز نہیں اور سال کے سب سے مقدس و با برکت مہینے میں یہ سب فضولیات کھلم کھلا ہورہی ہیں۔
خدارا ! عقل کا استعمال کریں دیکھنے والے بھی اور دیکھانے والے بھی رمضان رحمتیں برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے نیکیوں میں سبقت کرنے نہ کہ گاڑیاں ،موٹر سائکلیں ،موبائل وغیرہ لوٹنے کا یہ سب تو پورا سال بھی مل جائیگا مگر رمضان المبارک کی قیمتی ساعتیں سال میں ایک ہئ بار ملتی ہیں ۔ اگر رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر کچھ دیکھانا ہی تو واقعی ایسا کچھ دیکھائیں جو اس مہینے کے شیان شان ہو اس کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے مستند علماء و مفتیان کرام سے دروس قران و احادیث کے پروگرام کرائیں ایسے پروگرام کرائیں جس سے نیکی کا جذبہ ابھرے نہ کہ ایسا کہ رہا سہا جذبہ بھی سو جائے۔ فیصلہ اپنے ھاتھ میں ہے کہ رمضان کی رحمتیں اور برکتیں اپنے دامن میں سمیٹ کر بخشش کروالیں یا فضول پروگرامز کے پیچھے لگ کر خالی دامن و خالی ھاتھ رہ جائیں….
اور در حقیقت یہی سب سے بڑا خسارا ہے کہ رمضان کا مہینہ پایئں اور اپنی بخشش نہ کرواسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں