اخروی نجات کا پیغام – افشاں نوید




بولیں۔۔ یونیورسٹی کیا بند ہوئی کہ بیٹے کی نگرانی میرے لیے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے ہر وقت اس کے پیچھے پھرتی ہوں کہیں باہر نہ نکل جائے کسی سے مل نہ لے۔ بے چین ہوکر گیٹ کھول کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
میں نے سوچا کہ یہ نوجوان جو کندھوں پر آٹا, گھی,چاول اور راشن کے بوجھ لیے گلی گلی پھر رہے ہیں ……. یہ بھی ہم جیسی ماؤں کے بیٹے ہیں۔ جو امانتیں مستحقین تک پہنچا رہے ہیں۔ بات اتنی سادہ بھی نہیں کہ آپ نے انفاق کیا اور کسی نے آپ کے انفاق کا بارکاندھے پر اٹھا کر مستحقین تک پہنچا دیا۔ بات اس سے بہت آگے ہے۔ جب بھی ویڈیوز پر نظر پڑتی ہے کہ پانچ کلو کا تھیلا ایک کندھے پر ہے اور پانچ کلو کا دوسرے کندھے پر……… کہیں چڑھائیاں چڑھ رہے ہیں کہیں تنگ اور تاریک گلیوں میں دیواروں کے سہارے چل رہے ہیں ۔وہ کوئی فرلانگ بھر پگڈنڈی تھی ایک ویڈیو میں ۔ اتنے بھاری وزن کے ساتھ کئی لوگ الخدمت کی جیکٹ پہنے مسلسل چل رہے تھے۔ پھر آبادی شروع ہوئی اور حیرت مجھے ایک بات پر ہوئی کس بات پر آپ بھی جانیئے۔۔۔ مطلوبہ گھر کا دروازہ بجاتے ہیں۔ راشن چوکھٹ پر رکھتے اور فورا پلٹ جاتے۔ وہ مکین کے آنے کا انتظار کرتے نہ سامان اس کے حوالے کرتے بس سامان چوکھٹوں پر رکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
ظاہر ہے مجھ مجبور کی چوکھٹ پر کوئی سامان رکھ کر مجھ سے کہے یہ لیجئے ہم آپ کے لیے امداد لاۓ ہیں۔ توخوددار انسان نہ نظر ملا پائے گا,نہ شکریہ کہہ پائے گا۔ یہ اتنے پیارے لوگ ہیں کہ نظر ملانے کی زحمت ہی نہیں کر رہے کہ مبادا کسی خوددار انسان کی خودی مجروح ہو جائے,ان نظروں میں کوئی مجبوری یا شرمندگی ہو۔ ممکن ہے اس کی پیشانی پر ایک تحریر ہو کہ “ہم مانگنے والے تو نہ تھے یہ لاک ڈاؤن نے ہماری روزی نگل لی۔ یہ الخدمت کی جیکٹس پہنے رضاکار ہیں۔ یہاں کسی معاشی ضرورت کے تحت بھرتی نہیں ہوئے نہ انھیں شوق ہے اپنی سیلفی وائرل کرنے کا۔ یہ بھی دہاڑی کے مزدور ہیں…….! یہ مرد اور عورتیں جو رات دن چندہ اکٹھا کررہے ہیں۔بستیوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ بہت بڑی اجرت پر بھرتی ہوئے ہیں۔ در در خاک چھاننے والوں نے بڑے بھاری سودے چکائے ہیں۔
وہ ہیں جنت کے سودے اگر یہ سب سیاست کے لئے ہے تو وہ جانتے ہیں۔آپ ووٹ انھیں نہیں دیتے۔
پاکستان کی تاریخ کے تہتر سال گواہ ہے کہ یہ روحیں اسی طرح ہر ڈزاسٹر پر سر پر کفن باندھے میدان عمل میں آ جاتی ہیں۔ھنگامی حالات میں سب این جی اوز اسی طرح اپنا کردار نبھاتی ہیں یہاں۔ آپ انہیں ووٹ نہیں دیتے لیکن وہ ووٹ نظام عدل کے قیام کے لیے مانگتے ہیں۔اسی لیے ہم آج تہتر سال بعد بھی نظام عدل سے محروم ہیں۔ لیکن یہ کندھوں پر آٹا, چاول کی بوریاں اٹھائے لوگوں کے پاس ایک پیغام بھی ہے ……..وہ ہے اخروی نجات کا پیغام ۔یہ گلی محلوں میں جگہ جگہ حلقہ ہائے درس رکھتے ہیں۔آپ کو بندگئی رب کے طرف بلاتے ہیں, قرآن کی دعوت دیتے ہیں۔ کرونا ختم ہو تو اس پیغام کے بارے میں ضرور سوچئے گا جو ان کے پاس ہے وہ پیغام “الخدمت “ہے۔بندوں کی سب سے بڑی خدمت ہی یہ ہے کہ انھیں نار جہنم سے بچا لیا جائے۔
وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں