اعمال نامے – نائلہ شاہد




کورونا وائرس نے پوری دنیا کا نقشہ الٹ دیا . تاریخ میں پہلی بار پوری دنیا ایک ایشو پر سوچ رہی ہے …….
ہر ملک ہر شہر ہر علاقہ ہر گلی…… ایک ہی صورتحال سے دوچار ہے. معاشی بحران کا وائرس بھی منہ کھولے کھڑا ہے . یہ کیسا دور ہے جہاں صرف انسان کو اپنی جان بچانے کی فکر ہے……؟ قیامت کا منظر بھی کچھ ایسا ہی دکھلایا ہے میرے رب نے اپنی کتاب فرقان عظیم میں ڈر اور خوف کا عالم ہے سب کو ایک ہی فکر ہے رپوٹ مثبت نہ آجائے یعنی اعمال نامے بائیں ہاتھ میں نہ رکھ دیے جائیں ماں باپ بہن بھائی رشتہ دار دوست احباب سب ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں . اب صرف چوکنا رہنا ہے کس قدر خوفناک منظر ہوتا ہے…… جب چھاٹی کی جارہی ہوتی ہے کورونا مثبت والوں کو گھروں سے نکال کر لے جایا جاتا ہے ماں باپ تک اپنے معصوم بچوں کو گھر میں رکھنے کو تیار نہیں ہوتے ….
ایسا ہی ایک منظر قرآن میں دکھایا گیا ہے ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو اپنی چھاتی سے کھینچ کر ہٹادینگی…. بس ہر طرف ایک ہی شور ہوگا.. نفسی ! نفسی ! نفسی! آج بھی یہی شور ہے اللہ کے بند ے نیک اور پرہیزگار بندے وہ پرسکون ہونگے ان کو کوئی غم نہ ہوگا ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ می۔ دے دیے گئے ہیں وہ امتی امتی امتی کہتے پھر ہونگے روشنی ان کے اطراف میں ہالہ کیے ہوگی ہاں یہ روشنی یہ نور کہاں سے آیا اعمال اتنے بڑے ہوگئے کہ نور نے سمیٹ لیا اللہ کے نور نے ایسے ہی نور کے ہالے ہمیں سمیٹنے کے لیے رب نے زمیں پر بھی اتارے ہیں قیامت سے پہلے کورونا قیامت کی صورت میں پنجہ گاڑھے انسانوں کو نگل رہا ہے اس کو شکست یہ نور کا ہالہ ہی دے سکتا ہے اور یہ ہالہ اللہ نے عبادتوں میں چھپا کر رکھا فرض نمازوں میں نفلی تہجد چاشت اشراق کی نمازوں میں قرآن کی تلاوت میں روزوں میں انفاق میں ڈھونڈیے اپنا اپنا نور کا ہالہ…….حج و عمرہ بند شادی ہال بند مساجد بند
عمرہ اور حج نہیں کرسکے گے شادیاں دھوم دھام سے نہیں ہوسکے گی ……. غم اور دکھ میں نہ رہیے آئیے ایک کام کرتے ہیں ان امور پر ہونے والے اخراجات کا تخمینہ لگائیے اگر دو بندے کا حج پر 10 لاکھ خرچ بنتا تھا تو اس میں سے دو لاکھ ہی نکال لیجیے اس وقت کئی لوگ بے روزگار ہیں ……. ایک بندہ اپنے عمرہ حج کی بچی ہوئہ رقم سے ایک ایک لاکھ ہی نکال۔لیں تو اگر 500افراد بھی جانے والے ہو تو یہ رقم پچاس لاکھ بن جاتی ہے اس رقم سے کتنے بے روزگار دیہاڑی کے مزدور کو ہم روزگار لگواسکتے ہیں سبزی کا ٹھیلہ مرغی کی دوکان کنفکشنری کا ٹھیلہ فروٹ کا ٹھیلہ دودھ دہی کی دوکان…… راشن تو ایک ماہ میں ختم ہوجائے گا چھوٹے کاروبار تو چلتے رہے گے غریب کا چولہا کبھی بند نہیں ہوگا شادیوں پر خرچ ہونے والی رقومات کو بھی انھی مصارف میں لگادیجیے اور شادیاں سادگی سے کر لیجیے اس لاک ڈاون میں مثال بنیے ….. اپنے بچوں کے نکاح وقت پر کردیجیے فضول خرچیوں سے اللہ نے بچنے کا موقع دیا ہے اس موقعے سے بھر پور فائدہ اٹھائیے مسجد میں چند لوگوں کی موجودگی میں نکاح پڑھوائیے اور بچی کو گھر سے رخصت کردیجیے
اللہ ہمارے اعمال کو ہمارے لیے نور کا ہالہ بنادیگا سکون و اطمینان سے قلب کو بھر دیگا نفسی نفسی نہ رہے گا صرف امتی امتی ہی ہوگا یہ آزمائش گزر جائیگی اللہ بس چھاٹیاں کرر ہا ہے دائیں بازو والوں کی اور بائیں بازو والوں کی……..

اپنا تبصرہ بھیجیں