عذابِ الٰہی – فرح مصباح




تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم و جبر بےحیائی اور گناہوں کا سمندر اپنی حدود پار کر لیتا ہے تو اللہ کا عذاب آکر رہتا ہے۔
کشمیر،فلسطین، بوسنیا، عراق،افغانستان، شام اور جتنے مسلمان ممالک پر ظلم ڈھایا گیا اور دنیا میں جتنی بے حیائی پھیلائی گی اس کے بعد اللہ کا عذاب دنیا پر کرونا کی صورت مسلط ہوگیا…… 2020 ء کے آغاز کے بعد جب کورونا کا شور پوری دنیا میں مچ گیا اور کورونا نے شدت اختیار کی اور دنیا میں ایسی تباہی مچائی کہ جس کی تاب دنیا کے بہت سے لوگ نہ لا سکے اور اس کے بعد دنیا میں ایسا بدلاوُ آیا کہ جو انسان اپنے تصور میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ ”وما اوتيتم من العلم الا قليلا” (سورة بني اسرائیل)…… صرف ایک وائرس کے ذریعے دنیا کا چلتا پہیہ جام ہو گیا، وہ وائرس کورونا کے نام سے مشہور ہوا اور یہ ایک معمولی سا وائرس دنیا کا وہ چہرہ دنیا والوں کے سامنے لایا کہ جس سے انسانوں کے ہوش اڑ گئے اور انسان اپنی طاقت کے نشہ سے نکل کر ہوش میں اگیا اور جان گیا کہ: ”وخلق الانسان ضعيفا”(سورة النساء)
یہ وائرس مسلمانوں کے لئے بہت کربناک اس لئے ثابت ہوا کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سے فرقت اور حرم کو خالی دیکھنا کسی مسلمان کے لیے آسان نہ تھا، اور کچھ چیزیں ایسی بھی تھیں کہ جن کو دیکھ کر اللّہ کی قدرت پر ایمان اور قوی ہوگیا جیسا کہ اسپین میں بارسلونا میں کئی سالوں کے بعد اذان کا گونجنا۔ اس کے علاوہ غیر مسلموں کا اٹلی میں مسلمانوں سے اذانوں کے لئے شکر گزار ہونا اور کئ غیر مسلم ممالک میں اذانوں اور تلاوتِ قرآن پاک کا ہونا، کفار اور سرکشوں کا اللّہ اکبر کی صداؤں کو سر جھکا کر سننا نبی پاک کے اس دور میں لے جاتا ہے جہاں سے ابو جہل جیسے کافر اور منافق چپکے چپکے اذان سنتے قرآن پاک سنتے لیکن اس پر ایمان نہ لاتے۔ ”الذين اتينهم الكتاب يعرفونه كما يعرفون ابناءهم” (سورة البقرة) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ…. ”ان الله على كل شيء قدير” (سورة البقرة) ترجمہ: اللّہ تعالٰی ہر شے پر قادر ہے۔ اللّہ کا کلام حق ہے وہ جب چاہے ٹرمپ اور مودی جیسے فرعونوں کو غرق کر دے۔ ”ان بطش ربك لشديد”(سورة البروج)
اس وبائی مرض جس کا نام کرونا ہے دنیا کی اکونومی کو تباہ کردیا امریکا جیسی سپر پاور کو بتادیا کہ سپر پاور صرف اللّہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں۔
”لا اله الا هو” (سورة زمر)…… اللہ‎ چاہے تو پل میں طاقتور انسانوں کو زیر زمین کردے۔ کورونا نے نہ صرف انسانوں کو جسمانی طور پر متاثر کیا بلکہ نفسیاتی طور پر بھی انہیں ایسی کشمکش میں مبتلا کیا کہ وہ مایوس ہو گیا۔ کئی لوگ خودکشی کرنے لگے۔ جرمنی کے وزیر مالیات نے ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کرلی۔ لیکن جیسا کہ اللّہ نے مایوسی کو کفر قرار دیا تو ایسے وقت میں انسانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ”لا تقنطوا من رحمة الله” (سورة زمر)….. اس وقت میں اللّہ تعالی نے ہر انسان کو فارغ وقت دے دیا اور آزمایا کہ انسان اپنے وقت کو کیسے گزارتا ہے….. انسانوں کو چاہیے کہ اپنے وقت کو اللہ سے توبہ اور استغفار میں گزارتے ہوئے کچھ ایسا کام کریں کہ جو دنیا کے انسانوں کے لئے مفید اور اچھا ہو۔ اپنی صلاحیتوں کو بہترین طریقے سے گھر میں رہتے ہوئے استعمال کریں۔ اس پر فتن دور میں ہمیں اپنے ایمان کی سب سے زیادہ فکر کرنی چاہیے کیونکہ کچھ قیامت کے آثار بھی محسوس ہو رہے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ سورہ کہف کی آخری دس آیات نہ صرف خود یاد کرنی چاہیے بلکہ اپنے بچوں کو بھی یاد کروانی چاہیے تاکہ ہم اور ہماری نسلیں دجال کے فتنے سے محفوظ رہ سکیں۔ اس مشکل گھڑی میں ہمیں چاہیے کہ ہم جتنی ضرورتمندوں کی مدد کر سکتے ہیں مدد کریں کیونکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا
”صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے” اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے…… اس لیے ہمیں اللہ تعالٰی سے ہر وقت اس کی رحمت طلب کرتے رہنا چاہیے اور دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو کورونا کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں