خواتین کا عالمی دن – اریبہ ناز




دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی …..جب تک اس قوم کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہوں.
حق بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مرد اور عورت دونوں کو ہی یکساں حقوق دیے ہیں اور انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے. دراصل 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے .عورتوں پر ڈھائے جانے والے ستم کسی خاص طبقے، مذہب یا قوم میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں۔ آج بھی عورتوں کو مقام حاصل نہیں جو کہ انہیں حاصل ہونا چاہیے اسلام سے پہلے جہالیت کا ایک طویل دور ایسا بھی رہا ہے کہ جس میں عورت کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی عورت کو صرف خادمہ یا کنیز سمجھا گیا اس سے زیادہ نہیں نہ ہی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تھی قانونی حق سے بھی عورت محروم تھی اسے بس گھر کے کام کے لائق سمجھا جاتا تھا۔ انسانیت کے لحاظ سے مرد اور عورت دونوں برابر ہیں مرد کے مقابلے میں اس اعتبار سے عورت پر کسی قسم کی ایسی پابندی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے حق سے محروم رہے یا مرد سے کمتر یا کمزور سمجھی جائے۔
“اور عورتوں کے لئے بھی اسی طرح حقوق مردوں پر ہیں جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں”( البقرہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد گرامی ہے…… بلاشبہ عورتیں (حقوق انسانیت میں) مردوں کے برابر ہیں. خواتین کی اہمیت سے انکار کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا کیونکہ عورت ہر روپ ہر مقام ہر رشتے میں عزت و وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے اور عورت کی وفاداری کی مثال بھی دی جاتی ہے بار بار سننے میں آتا ہے کہ ایک کامیاب شخص کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صنف نازک کی شخصیت میں ایک طاقت ضرور موجود ہے تو پھر اس کی ذات کی اہمیت کیوں نہیں؟عموما لوگ یہ کہتے ہیں کہ عورت ہے کیا کرے گی یا لڑکی ہے یہ تو نازک سی یہ کچھ بھی نہیں کر سکتی پر وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت اگر چاہیں تو بہت کچھ کر سکتی ہے لفظ” اگر چاہے” پر غور کیا جائے اگر وہ چاہے تو بہت کچھ کر سکتی ہے اپنے آپ کو چاہے تو اس مقام پہ کھڑا کر سکتی ہے جہاں سب اس کو عزت دیں اور چاہے تو غلط راستے پر جا کے خود کسی کی غلام بن جائے……
بات ڈٹ کے چھپے الفاظوں میں ہی ہو تو اچھی لگتی ہے اللہ تعالی نے عورت کو وہ طاقت دی ہے …… جہاں وہ چاہے تو پورے خاندان کو غلط راستے سے نکال کے صحیح راہ یعنی صراط مستقیم کی راہ پے لا سکتی ہے اور اگر چاہے تو انہیں کے رنگ میں خود کو رنگ سکتی ہے . اللہ تعالی نے عورت کو بہت عزت کا مقام دیا ہے تو ہم کہیں بھی عورت کی تذلیل نہیں کر سکتے عورت حیا کا دوسرا نام ہے جو اڑتے یہ کہتی ہیں ، میرا جسم میری مرضی ……. دراصل وہ اپنے عزت دار مقام کو نہیں جانتی جو اللہ تعالی نے اور دین اسلام نے انہیں دیا ہے وہ اپنے راستوں سے بھٹک چکی ہیں . انہیں بجائے کچھ کہنے کے انہیں صراط مستقیم کی راہ پے لایاجاسکتاہے. اللہ نے عورت کو بے شک پردے کا حکم دیا ہے لیکن جو عورتیں پردہ نہیں کرتیں وہ انہیں چھوڑتا نہیں ہے اللہ سب کو ہدایت دے دیتا ہے اور ہمیشہ اسی کی دعا کرنی چاہئے ہے عورت چاہے تو اپنے آپ کو سنوار بھی سکتی ہے اور پورے معاشرے کو سدھار بھی سکتی ہے.
یہ اس کی سوچ پر مبنی ہے کہ کس طرح وہ اپنے آپ کو اپنے گھر والوں کو اور معاشرے کو بدل سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں