کرونا کے بعد – افشاں نوید




ہمارے لئے یہ تصور ہی کتنا جاں فزا ہے کہ خدا نے کرونا کی صورت میں عالمگیر فرعونوں اور نمرودوں کو ان کا چہرہ دکھا دیا ہے۔ ہم مسلمان سوچ رہے ہیں کہ مستقبل کی دنیا اب امریکہ اور یورپ کی نہیں ہے۔ مغرب کا بھرم کھل گیا ہے۔
ان کے پاس ایک چھوٹے سے وائرس پر قابو پانے کی صلاحیت تو کجا وہ تو اپنے لوگوں کو ماسک,سینیٹائزر اور ٹیسٹ کٹس بھی مہیا نہ کر سکے۔ مغرب میں خدا اور مذہب ایک نئی قوت بن کر ابھر رہا ہے ۔کرونا کی تباہی نے بصارت کے اندھوں کو گویا بصیرت عطا کر دی ہے…. لاکھوں مسلمانوں کو ایک طویل عرصے سے محصور رکھ کر ظلم و ستم ڈھانے والے چین کے صدر شی جن پنگ مسلمانوں سے ملنے پہنچ گئے,مسجد کا دورہ کیا,مسلمانوں میں نہ صرف قرآن کے نسخے تقسیم کیے بلکہ ان سے کہا کہ وہ اپنے خدا سے اس بلا کے ٹلنے کی دعا کریں۔ ہم ویڈیو کلپس میں دیکھ رہے ہیں کہ اٹلی میں بہت عرصے سے ویران مسجدوں میں اذان کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔امریکی صدر مسلمانوں سے دعا کی اپیل کر رہے ہیں۔
ہم خوش ہیں کہ ایک ننھے وائرس نے جدید مغربی تہذیب کے سارے سائنسی,تہذیبی,عالمی,معاشی تکبر کو خاک میں ملا دیا ہے۔ یوں تو فرعون بھی مشکل حالات میں حضرت موسیٰؑ سے کہتا تھا کہ اپنے خدا سے دعا کرو مگر جب مصیبت ٹل جاتی تھی تو۔۔۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں مزید سرکش ہو جاتی ہے آفات کے گزرنے پر۔ جان رکھئے! کفار کی اکثریت اس وقت ایمان لائی جب مکہ فتح ہوگیا۔ ہم مسلمان,دنیا کے اسٹیج پر خدا اور اسلام کی واپسی کے منتظر یہ بھول گئے کہ فتح مکہ سے قبل “غزوات”کی ایک شان دار تاریخ ہے. ماقبل شعیب ابی طالب اور طائف کی وادیاں بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ فرض کریں کورونا وائرس نے خدا سے باغی دنیا کو خدا یاد دلا بھی دیا تو کیا ہم اس کے منتظر ہیں کہ آسمان سے فرشتوں کے لشکر اتر کر مسلمانوں کو نشاة ثانیہ کے تاج پہنائیں؟؟؟مستقبل اسلام کا ہو ۔ہم آفاق سے سحر اسلام کے طلوع ہونے کا لطف لیں اور اپنے بخت پر ناز کریں!!! اس وقت مسلمانوں کی ذمہ داریاں دوچند ہوگئی ہیں۔غیر مسلم مذہب اسلام کو قرآن میں نہیں مسلمانوں کے کردار میں تلاش کرتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دنیا کو دکھائیں ……. کہ اسلام آج بھی ایک زندہ مذھب ہے جو مسلمانوں کے کردار میں زندہ ہے۔
ہمارے کردار کی کھوٹ جو مغرب اور اسلام کے درمیان دوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اب وقت ہے اس کو دور کرنے کا۔ جان رکھئے کہ علوم وفنون جن کی دسترس میں ہوتے ہیں دنیا ان کے پیچھے چلتی ہے……. ہمارے اسلاف کی تاریخ کی زندہ گواہی ہے کہ جب علم ان کا تھا تو دنیا ان کے سامنے سرنگوں تھی۔سائنس کے بھی وہ امام تھے اور سماجی علوم کے بھی۔ روایات میں ہے کہ امام مالکؒ کا جہاں مدرسہ تھا وہاں قریب میں کنواں تھا جب وہ خشک ہوگیا اور وجہ معلوم کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ پانی امام مالک کے شاگردوں نے اپنی دواتوں میں استعمال کر لیا تھا۔ایک وقت میں ان کے درس میں پچیس,تیس ہزار دواتیں استعمال ہوتی تھیں جبکہ ایک ایک دوات کو کئی طالبعلم استعمال کرتے تھے۔وہ وقت تھا جب مسلمان معاش کے لیے بندے نہیں تھے۔ اللہ کے نبیﷺ , آپ کے صحابہؓ اور تابعینؒ و تبع تابعینؒ نے اپنی زندگی کا مقصد علم کا حصول اور اس کی ترویج بنا رکھا تھا۔دنیا کے کونے کونے کا سفر کرتے تھے علم کے متلاشی۔۔ آج دنیا میں اگر کرونا نے اسلام کے لئے راہ ہموار کی ہے تو گویا رب کریم نے مسلمانوں کو موقع دیا ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟
اب وقت ہے کہ ہم سطحی باتوں اور لاحاصل بحثوں سے اوپر اٹھ کر سنجیدہ اور شائستہ علمی مزاج اپنائیں۔ دور جدید کے گھمبیر مسائل کا اسلام کے پاس کیا حل ہے؟ہم اسلامی فقہ کی سوجھ بوجھ پیدا کریں۔ اپنے تفقہ فی الدین کا وارث علماء کو نہ بنائیں ۔دین کا سنجیدہ علم ہر دنیاوی علم کے ساتھ ہماری اپنی ذمہ داری ہے…… ہمارے اسلاف نے صدیوں میں جو فقہ مرتب کیا ہے اس میں قیامت تک کے مسائل کا حل موجود ہے۔ لائبریریاں ان کتابوں سے بھری ہوئی ہیں۔اجتہاد کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم کرونا کے بعد مہدی موعود یا ابابیلوں کے لشکر کا انتظار نہ کریں۔ کیا ہم اپنی نسلوں کو فقیہ,مجتہد, مفتی,اور عالم دین بنانے کے لئے تیار ہیں؟؟ وہ عالم دین جو اعلی ترین عصری علوم کے بھی ماہر ہوں۔ مغرب کی خدا بیزار تہذیب کا تو رونا چھوڑیں ہم مسلمانوں نے بھی اپنی نسلوں کو منڈی کا کامیاب انسان بنانے کو ہی کامیابی سمجھا اور :خدا”ہماری زندگیوں میں “تصور” کی حد تک باقی رہ گیا۔ معیشت ,معاشرت اور سیاست تو کیا, ہماری امنگوں,آرزوؤں اور خوابوں میں بھی”اغیار”کے رنگ ہی جھلکتے ہیں۔ “کرونا کے بعد کی دنیا”کے لیے ہم کیا سوچ رہے ہیں ؟؟؟ مشرق سے ابھرتا ہوا سورج سوال کر رہاہے۔
نیا زمانہ کہ عہد انکار سے گزر کر حیات اثبات بن رہا ہے
خدائے گم کردہ پھر سے آفاق کی حدوں پر ابھر رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں