رمضان ایک ٹرینگ – فائزہ حقی




میرا بھانجا تازہ تازہ کیڈٹ اسکول میں کیا گیا کہ اس کے انداز ہی ایکدم سے بدل سے گۓ۔
اس کے چلنے پھرنے ,اٹھنے بیٹھنے ,کھانے پینے ,غرض کہ ہر چیز کا انداز پہلے سے ایکدم جدا سا ہوگیا ,حتی کہ اس کے کپڑے اس کے بالوں کا انداز ؟ ایکدم سے وہ لاابالی سا بچہ کچھ کا کچھ ہوگیا ۔اس کے گھر والے اس کی کایا پلٹ سے بہت خوشی اور شادمانی محسوس کررہے تھے ۔وہ دیکھنے میں بالکل سدھرا ہوا فوجی بچہ لگنے لگا تھا ۔ چند دن پہلے میری اس سے ملاقات ہوٸی تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری اس کایا پلٹ کی کیا وجہ ہے ۔ تو اس نے بتایا کہ آرمی اسکول کا ڈسپلن ,وہاں کی تعلیم اور وہاں کا ماحول یہ سارے عوامل اس پر اثر انداز ہوۓ جنہوں نے اس شرارتی بچے کی جون ہی بدل ڈالی……. اب سے چند دن بعد ہم رمضان کے مہینے میں انشاءاللہ داخل ہوجاٸیں گے اور ہر سال کی طرح شاید یہ رمضان بھی بے جانے بوجھے اسی طرح ہمارے سروں پر سے گزر جاۓ جیسا کہ پچھلے کٸ رمضان گزرے؟
لیکن ؟ذرا ایک یاددہانی کیلۓ اوپر اس شرارتی بچے کا اگر ذہن میں رکھیں تو؟ آپ نے اکثر ان لوگوں کو دیکھا ہی ہوگا جو آرمی سے ریٹاٸر ہوۓ ؟ انکا گھرانہ انکے اہل وعیال انکے گھر کا رہن سہن انکی ریٹاٸرمنٹ کے باوجود آرمی کے قوانین پر عملدرآمد ہی کرتےرہتے ہیں ۔انکی نس نس میں وہ سارے قوانین وضوابط رچ بس جاتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے اوپر ہمارا پیارا رب پورے ایک مہینے ہمارے ایمان کی مضبوطی ,اسکی ترقی وترویج کے لۓ مخصوص کردیتا ہے …… جس میں ہمیں ہماری کمزوریوں پر قابو پاکر ہمیں ایک عمدہ مسلمان بننے کی ساری راہیں سجھاٸی جاتی ہیں ۔ان دنوں ہمارے لۓ نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل بنا دیا جاتا ہے ۔ہم اگر اس مہینے سے فاٸدہ اٹھانا چاہیں تو بخوبی اٹھاسکتے ہیں اور اس کا فاٸدہ ہمیں بقایا کے گیارہ مہینے نظر آنا چاہیۓ اگر کہ ہم اسی ایمان واحتساب کے ساتھ روزے رکھیں اور اس مہینے کو اپنے مالک کی مرضی کے مطابق مناٸیں ۔لیکن یہ تو کچھ عجیب ہی سی چیز ہوجاتی ہے کہ ایک مہینے کی سخت ٹریننگ کے باوجود ہم ویسے کے ویسےہی رہیں ۔جبکہ ہمارا رب ہماری آسانی کیلۓ شیطان تک کو باندھ دیتا ہے پر ؟؟؟
ہم اپنے شیاطین کو یہ آس دلاتے ہیں کہ ابھی ذرا ٹہر جاٶ عید سے ہم تمہیں پوری اجازت دے دیں گے ”کھل کھیلنے کی“۔ لہذا ہمارے اوپر سے رمضان جیسا مضبوط مہینہ بھی ہمارے شیطان کا کچھ بگاڑے بغیر ہی زر جاتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس لاک ڈاٶن سے فاٸدہ اٹھانے والے بنیں او رمضان کو اسکی تمام خوبیوں سمیت اپنے اوپر نافذ کریں۔ کیوں ؟؟؟۔۔۔۔کیوں کہ میرے مالک نے میرے اندرکی گندگیوں ,براٸیوں اور خامیوں کو صاف ستھرا ,اور میرا اندرون سجانے اور سنوارنے کیلۓ نہایت ہی بہترین طریقہ متعارف کرایا کہ ہم انتیس سے تیس دن سارے لوازمات دنیا سے دور رہ کر صرف اسی کے ہورہیں اس طرح ہم انشاءاللہ ایک بہت ہی پیاری جگہ ,بہت ہی پیارے انداز میں ,بہت ہی ساری ناختم ہونے والی نعمتوں کے درمیان آرام واطمینان سے اپنی ساری من پسند چیزوں کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی زندگی بسر کریں گے۔
یہ ہماری مجبوری ہے ۔چاروناچار ,جبراوکرہا ,شوق سے یا مجبوری سے یہ کام تو ہمیں کرنا ہی ہے کیونکہ ہم نے اپنے رب کا پسندیدہ بندہ انشاءاللہ بننا ہی ہے اور اس کی ہمیشہ ہمیشہ کی رضامندی بھی حاصل کرنی ہے انشاءاللہ العزیز

3 تبصرے “رمضان ایک ٹرینگ – فائزہ حقی

اپنا تبصرہ بھیجیں