تھوڑی ہے مہلت – ماریہ صفیہ




“امی میرا اتنا دل چاہ رہا ہے کہ میں ناول پڑھ لوں لیکن انٹر کرنا نا۔۔۔!!!” ماہم نے افسوس سے بہن کو ناول پڑھتے دیکھ کر کہا…………..
آپ کو کتنی زبانیں آتی ہیں؟ فارم میں یہ سوال دیکھ کر مجھے بڑی شرمندگی ہوئی۔ صرف اردو اور انگریزی وہ بھی بس گزارے لائق۔۔۔ایک دفعہ فراغت ملے کوئی انگلش کورس کرکے اپنی انگریزی ہی بہتر کرلوں۔۔۔ میں نے تاسف سے سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امی کل میرا ماہانہ ٹیسٹ ہے۔ میں بعد میں چھٹیوں میں سیکھ لوں گی.ابھی آپ رمشاء کو سکھادیں !” سعدیہ نے امی کو کچن میں نہ آنے کے لئے صاف ہری جھنڈی دکھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یا اللہ۔۔۔یہ ردی کتنی ہوگئی ہے !!! وقت ہی نہیں ملتا کہ کچھ کروں۔۔۔” میں نے مطلوبہ کتاب کو نکال کر ردی کو دوبارہ ٹھونس ٹھانس کر رکھ دیا۔۔..!
ایسے ہی انگنت واقعات ہم سب کے ساتھ ہوتے ہیں۔۔۔ ہم سوچتے ہیں فراغت ہوگی تو قرآن پڑھیں گے، مطالعہ کریں گے ، یہ کھانا پکانا سیکھیں گے،وہ skill سیکھیں گے۔ ہر قسم کی صفائیوں کے لئے ہم فراغت چاہتے ہیں۔۔۔ مائیں سوچتی ہیں فراغت ملے تو بچوں کو کام سکھائیں۔۔۔ لڑکے سوچتے ہیں کہ کوئی کمپوٹر کورس کرلیں گے۔۔۔لڑکیاں سوچتی ہیں ذرا پڑھائی سے فرصت ہو تو گھر کے کام سیکھ لیں ۔۔۔
الغرض دنیا کے ڈھیروں کام سیلف گرومنگ ،مختلف ہنر ، ملاقاتیں ، تدبر ، اپنی اصلاح کے لئے ہم سب ہی فراغت کے منتظر ہوتے ہیں۔۔ وقت ہی نہیں ملتا کا شکوہ ہر فرد کا دوسرا جملہ ہے ۔۔۔ ایسے میں کرونا کے آتے ہی ہم سب گھروں میں فراغت پاگئے لیکن یہ کیا کہ جن کو سیلف گرومنگ کرنی تھی ، ٹائپنگ سیکھنی تھی، کھانا پکانا سیھکنا تھا۔۔۔لغات القرآن پڑھنی تھی وہ بس بستر اور موبائل کے ہو کر رہ گئے!! جہاں یہ کرونا ہم پر آزمائش بن کر اترا ہے وہاں ہم اس کو نعمت بھی بنا سکتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ فراغت بھی گزر جائے ، ہم خالی ہاتھ ہوں اور اخری دن ہم سوچ رہے ہوں ڈھائی مہینے!!
غنیمت ہے صحت علالت سے پہلے…… فراغت مشاغل کی کثرت سے پہلے۔
فقیری سے پہلے غنیمت ہے دولت…….جو کرنا ہے کرلو تھوڑی ہے مہلت!! (حالی)
اس قرنطینہ کے وقت کو ایسا بنائیں کہ جب ہم ان شاء اللہ گھروں سے باہر نکلیں تو ہم نے اپنی پرسنالٹی کو گروم کیا ہوا ہو ، ہم بہت کچھ سیکھ گئے ہوں، ہمارے پاس تجربہ ہو اور سب سے بڑھ کر رب سے تعلق بن گیا ہو!. سورۃ نشرح میں اللہ تعالی نے فرمایا، “لہذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ، اور اپنے رب ہی طرف راغب رہو” (آیت ۸-۹) اور عبادت صرف اور صرف نماز ہی نہیں ہے ۔ روزہ ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام جو خالص نیت کے ساتھ نیکی کے لئے کیا جائے عبادت ہے۔ اس فراغت سے ہمیں نیکی کا اکاؤنٹ بھی بھرنا ہے اور اپنی ذات میں انقلاب بھی لانا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس فارغ وقت کو ہم صرف سوشل میڈیا اور لوڈو میں ضائع کردیں اور آخر میں یہی سوچتے رہیں کہ کاش پہلے خیال آجاتا۔۔۔ ان مہینوں کو زندگی کے کامیاب مہینے بنائیں۔۔ کہ آخر میں ہم کہہ سکیں۔۔۔ I made most of it!
چند کاموں کی لسٹ بنارہی ہوں کوشش کریں کہ کچھ نہ کچھ کریں اور اپنی ذات میں انقلاب لائیں۔۔۔
دعائے قنوت ، کلمے ، اسماء الحسنی ، مسنون دعائیں یاد کریں۔ صبح شام کے اذکار کو معمول بنائیں۔ اس قرنطیہ میں کوشش کریں کہ روزے رکھیں ، اللہ کی حمد و ثناء کریں ، گھر میں باجماعت نماز ادا کریں۔ ہم میں سے بہت لوگ سوچتے ہیں کہ چاشت ، اشراق وغیرہ پڑھیں گے لیکن وقت کی کمی کا مسئلہ رہتا تھا۔۔۔نوافل پڑھیں کہ نامعلوم یہ جوانی اور فراغت پھر مئیسر ہو نا ہو۔ اپنی صحت کو بہتر بنانے کا موقع بعد میں ملے نہ ملے۔ صبح ورزش کریں اور صاف ہوا میں سانس لیں۔ قرآن کی بنیادی عربی سیکھئے۔ کھیلئے!!…بچپن کے کھیلوں کو ایک بار پھر بچہ بن کے کھیلیں۔ یہ سوچئے کہ میں کیا ہوں!؟ میرا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا تھا اور میں کیا کر رہا ہوں۔ *مجھے کن باتوں پہ غصہ آتا یے اور کن پہ میں خوش ہوتی ہوں!؟ کیا ٹھیک ہے کیا غلط۔۔۔ *اپنے دل کی صفائی کا کام کریں اور اسے اللہ کی محبت سے بھرنے کی کوشش کریں – سنتوں کو اپنائیں۔۔ خصوصی طور پہ وہ سنتیں جو مصروفیات کی وجہ سے نظر انداز ہوتی ہوںاپنی انگریزی ، اردو اچھی کریں۔ بچوں کو میتھس کے ٹیبلز اور سپیلنگز یاد کروائی جائیں۔ کوئی نئی زبان سیکھی جائے۔گھر کی پرانی چیزوں کو ری سائکل کریں۔ کزنز اگر ساتھ ہوں تو (پیشے کو کھیل کے انداز) میں کھیلیں۔ پودے لگائیں۔ گھر سجائیں۔ اپنی زندگی کے گولز سیٹ کریں۔ کوئی ریسرچ کریں۔ رسالے پڑھیں۔ آن لائن اسلامک / سیلف گرومنگ کورسس کریں۔
ٹائپنگ اور گرافک ڈیزائنگ سیکھیں۔ موبائل ایپ سے مختلف مہارتیں سیکھیں۔ یاد رکھیں مومن وہی ہے جس کا اگلا دن پچھلے دن سے بہتر ہو!
اللہ ہمیں اس فراغت سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والا بنادے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں