مبارک کام – افشاں نوید




اس ہفتہ خاندان کے ایک فرد نے کچھ راشن دئیے تھے……. تقسیم کرنے کے لئے جو اس شرط کے ساتھ تھے کہ ضرورتمند رشتہ داروں کو دینا ہے۔
میں نے ایک, دو, تین, چار میسیج کیے کہ کسی کو اپنے رشتہ داروں کے لیے راشن کی ضرورت ہے؟ کہیں سے رسپانس نہ آیا پھر میں نے ایک کزن کو کال کی اور کہا کہ بہت سے مستحق لوگ ہیں آپ کے اقارب میں۔پھر کیا جھجک ہے؟لینے والے کی ضرورت پوری ہوگی دینے والے کو اجر مل جائےگا۔ بولیں۔۔”اصل میں ان سب کے راشن کا بندوبست ہوگیا ہے میں نے سوچا کہ آپ کو منع نہ کروں لیکن اس وقت ہوس بہتر نہیں ہے۔اچھا ہے کہ ایسے مستحق کو پہنچ جائے جو اس وقت زیادہ حقدار ہو۔ہوا یوں کہ میرے بھانجے نے لسٹ بنائی کہ خاندان میں کتنے مستحق لوگ ہیں۔ پھر اس نے قریبی عزیزوں سے ہی فنڈنگ شروع کی۔اس نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنی ایک سال کی بچت اس نیک کام میں لگاؤں گا۔پھر اس نے رشتہ داروں سے رابطہ کیا تو کسی نے زکوۃ دی,کسی نے صدقہ۔اس کے پاس اتنی رقم ہوگئی کہ خاندان کے جتنے بھی مستحقین تھے ان سب کو اس وقت دو ماہ کے راشن دئے جاچکے ہیں۔ میں نے سوچا آپ کا راشن ان لوگوں کو چلا جائے جن کے گھر میں روٹی کے لالے پڑے ہیں۔”
اس وقت ٹی وی چینلز پر لوگ کس قدر پریشان نظر آرہے ہیں,دہائی دے رہے ہیں کہ ہم کورونا سے نہیں بھوک سے مر جائیں گے۔ ہم میں ایسا کون ہے جس کے خاندان میں مخیر لوگ نہیں ہیں؟ اس وقت پاکستان میں شاید ہی کوئی خاندان ہو جن کے دو چار لوگ بیرون ملک نہ ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے وہ رشتے دار جو بہت مفلوک الحال ہوں یا ضعیف,عموما ہم ان سے رابطہ رکھنا پسند ہی نہیں کرتے۔ اگر ان کا فون بھی آئے تو ہم نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت ہر ایک اپنے خاندان پر نظر ڈالے تو یہ کسمپرسی کیوں ہو یا شدت کا تناسب کم ہو۔ ٹی وی پر نظر آرہا ہے کہ خاندان کے خاندان روڈوں پر آکر بیٹھ گئے ہیں ان کے گھروں میں روٹی نہیں ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے خاندانوں میں دینے والے لوگ نہیں ہیں۔الحمدللہ لوگ دے رہے ہیں,خدمتی ادارے یونہی تو نہیں کروڑوں کے راشن تقسیم کررہے ہیں؟ اپنے خاندانوں کو کسی کے رحم وکرم پر نہ چھوڑیں۔خاندان پر دور دور تک نظر ڈالیں,نیکیاں آپ کے دروازے پر کھڑی ہیں۔
یہ اجتماعی وبا کسی اور ڈھنگ کا استغفار چاھتی ہے۔
کیا ہمارے خاندان میں وہ “بھانجا “ہے جو مستحقین کی فہرست بنائے اور اپنی سالانہ بچت سے اس مبارک کام کا آغاز کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں