کرونا… معاشی ابتری، حکمرانوں کو چند مشورے – ڈاکٹر اسامہ شفیق




پوری دنیا اس وقت کرونا کی لپیٹ میں ھے۔ مغربی ممالک اس کا نسبتا زیادہ شکار ہیں۔ اعداد و شمار اس مرض کے مہلک ھونے کو ثابت کررھے ہیں۔
اس سال کے آغاز پر چین نے جس طرح اس وباء پر قابو پایا وہ نہ صرف ایک سبق ھے بلکہ عمدہ حکمرانی کی اچھی مثال بھی ھے۔ حکومت کا کام اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو فیصلہ کرنا ھے۔ بدقسمتی سے ھمارے اوپر مسلط حکمران فیصلے کرنے کی قوت سے عاری ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ھے کہ موجودہ انتظام میں ایسے ھی لوگوں کو حکمران بنایا گیا ھے کہ جن کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت ھی مفقود ھے۔ اس ھی وجہ سے ملک میں Hybrid حکومت کا چرچا ھے۔ یعنی سامنے کوئی چہرہ اور پیچھے سے فیصلہ کرنے والے کوئی اور۔ ھمارے وزیر اعظم کو یہ زعم ھے کہ وہ کرپٹ نہیں لیکن وہ یہ خود سمجھتے ھوئے بھی نہیں کہہ پاتے کہ ان کے ساتھ سارے کے سارے لوگ ھی کرپٹ ھیں۔ آٹا اور چینی بحران کی رپورٹ نے اس کی قلعی کھول دی ھے۔ جہاز بھر بھر کر حکومت سازی کے لیے اراکین اسمبلی کو لانے والا ھی ان کا سرغنہ ھے۔ چینی بحران اس ملک کے لیے نیا نہیں ھے ماضی میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی یہ بحران سر اٹھا چکا ھے اور اس وقت بھی اس کے سرغنہ جہانگیر ترین ھی تھے۔
لیکن اس کے باوجود مقتدر قوتوں نے ان ھی کرپٹ ٹولے کو اس ملک کا حاکم دوبارہ بنا دیا کیونکہ حکمرانی ان کو ھی کرنی تھی سامنے بس کچھ چہرے چاھئے تھے۔ اس وقت ملکی معیشت کی صورتحال ویسے ھی دگرگوں تھے۔ اب کرونا بحران نے اس کی رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ اس ھولناک صورتحال میں عمران خان کو وزیر اعظم بن کر سامنے آنا چاھئے تھا لیکن وہ اس موقع سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ان کی فیصلہ سازی کی قوت اتنی کمزور ھے کہ پڑوسی ملک چین اور دنیا بھر کے ماھرین کی رائے پر بھی وہ لاک ڈاون کا فیصلہ نہ کرسکے بعد ازاں فیصلہ کروانے والوں نے یہ فیصلہ صوبائی حکومتوں سے کروادیا اور عمران خان کی بد ترین سبکی ھوئی ایک طرف تو وہ کہتے تھے کہ لاک ڈاون نہیں ھوگا اور دوسری جانب تحریک انصاف کی پنجاب، خیبر پختون خوا حکومت نے لاک ڈاون کردیا۔ شہر اقتدار بھی بند کروادیا گیا۔ اس سبکی کے بعد عمران خان آٹا اور چینی مافیا کے خلاف کاروائی کے لیے سرگرم ھوئے۔ ان کا یہ اقدام عمران خان کی بطور وزیر اعظم بحالی کی جانب ایک قدم تھا کہ اپنے کم از کم اختیارات تو واپس لیئے جائیں لیکن فیصلہ کرنے والوں نے فیصلہ کیا ھے کہ ترین اینڈ کمپنی کی خدمات کے عوض ان کو بچانا ھے۔ لہذا عمران خان رپورٹ پبلک کروانے کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھاسکے کہ جس سے آٹا اور چینی مافیا کو سزا دلوائی جاسکے۔
کرونا بحران میں عمران خان غلطی پر غلطی کررھے ہیں ان کے سامنے اس بحران میں ایک بہت بڑی امید بھی ھے وہ امید یہ ھے کہ عمران خان اپنے تمام ماضی کے سیاسی اختلافات کو بھلا کر بطور قومی لیڈر سامنے آئیں۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کو وزیر اعظم ھاوس سے باھر آنا ھوگا۔ رضا کاروں کے شانہ بشانہ کھڑا ھونا ھوگا۔ غیر ترقیاتی اور ضروری اخراجات کو ختم کرنا ھوگا۔ اس بحران میں دنیا کسی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی ھے لہذا دفاعی بجٹ میں خاطر خواہ کمی کرکے اس کو اس وباء سے نمٹنے اور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے استعمال کرنا ھوگا۔ دنیا بھر میں پیڑولیم مصنوعات کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ھے۔ اس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچانے کے لیے پیڑول کی قیمتوں میں واضح کمی کی جائے۔ اس سے نہ صرف عام آدمی کو براہ راست فائدہ ھوگا بلکہ صنعتوں میں پیڑولیم کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک اشیاء ضرور یہ کی قیمتوں میں کمی سے پہنچیں گے۔ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تعمیراتی صنعت کو فائدہ محض بڑے بلڈرز کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ھے لہذا اس آرڈیننس میں ترمیم کرکے چھوٹے کاروبای اور عام افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے تعمیراتی شعبے میں ھر ایک کو تین سال تک ٹیکس چھوٹ دی جائے۔
احساس پروگرام کو مربوط اور منظم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ڈیٹا بیس اور سافٹ وئیر بنایا جائے اور سیایس وابستگی سے بالاتر ھوکر الخدمت، ایدھی، سیلانی اور ان جیسے دیگر اداروں کو یہ سافٹ وئیر دے کر امداد کی تقسیم کو شفاف بنایا جائے۔ اگر وزیراعظم عمران خان اس بحران میں یہ کرنے میں کرنے میں کامیاب ھوئے تو وہ اپنی تمام تر غلطیوں کے باوجود دوبارہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلیں گے ورنہ یہ بات تو طے شدہ ھے کہ کمزور پڑتا ھوا اقتدار نہ صرف عمران خان کی سیاست کا خاتمہ کردے گا بلکہ پاکستان کو ایک نئے گرداب میں بھی دھکیل دے گا۔
اس گرداب میں ملک و قوم کو پھنسانے والے پھر صاف بچ نکلیں گے اور سارا ملبہ سیاسی جماعتوں پر ھی گرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں