انسانیت اور مذہب – شہزاد مرزا




سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ مذہب بیزار طبقہ جو ہر وقت ‘انسانیت’ کو سب سے بڑا مذہب قرار دیتا رہتا ہے .
وہ تب کہاں غائب ہو جاتا ہے جب انسانیت کو ان کی شدید ضرورت ہوتی ہے، انسان آفات اور بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، زلزلے اور سیلاب تباہی مچا جاتے ہیں، غربت اور افلاس گھر تباہ کر دیتے ہیں ایسے میں یہ انسانیت پر ایمان رکھنے والا ٹولہ کیوں مدد کو نہیں پہنچتا؟ یہ خدائی مذہب کے مقابل انسانیت کو مذہب کے طور پر آگے بڑھاتے ہیں تو پھر وقت ضرور اس اپنے بنائے مذہب سے لاتعلق کیوں ہو جاتے ہیں؟ جبکہ دوسری طرف وہ مذہبی طبقہ جو کسی نہ کسی نوعیت سے خدا اور خدائی پیغام سے جڑا ہوا ہے جنہیں انسانیت بیزاری کے طعنے ملتے ہیں، جنہیں انسان دشمن تک قرار دے دیا جاتا ہے….
مگر جب انسانوں کو ضرورت ہوتی ہے تو صرف یہی اہل مذہب ہی پیش پیش ہوتے ہیں، اپنی جیب سے خرچ کرتے، اپنا وقت دیتے، خود عملا خدمت میں لگے رہتے، بےشک دیکھ لیں وہ سب افراد جو کسی آزمائش کے وقت گلی کوچوں، پہاڑوں، ریگستانوں، ندی نالوں کو عبور کرتے، گاڑیون، موٹر سائیکلوں اور اپنے کندھوں پر سامان اٹھائے انسانوں کی مدد کرتے نظر آ رہے ہیں…… سبھی مذہب سے وابستہ ہونگے اور انسانیت کی خدمت کو مذہب کی اساس اور خدا کا پیغام سمجھ کر انجام دیتے نظر آ رہے ہوں گے۔
موجودہ کرونا کرائسس میں بھی الخدمت، سیلانی، اخوت جیسے مذہبی فکر کے لوگ ہی انسانیت خدمت کر رہے ہیں اور انسانیت کو مذہب قرار دینے والی موم بتی مارکہ عورت مارچز والیاں، روشن خیال سیاسی جماعتیں، سیکولرز اور ملحد ٹولہ سب گدھے کے سینگوں کی طرح غائب اور منہ چھپائے ہوئے ہیں۔
ثابت ہوتا ہے خدا سے وابستگی ہی انسانوں کی خدمت پر اکساتی ہے اور خدا سے دوری انسانوں سے دوری کے ساتھ صرف اپنے مفاد کا اسیر بنا دیتی ہے۔ سمپل الفاظ میں اللہ کے آگے سجدہ ریز انسانیت کی خدمت میں لگے پڑے اور کتوں کا منہ چومنے والے انسانوں سے بےنیاز دکھ رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں