مائنس ون فارمولہ – شہلا خضر




مائنس ون فارمولہ کا ذکر سنتے ہی ہمارے زہن میں ملک کے ایک “مخصوص ہوشیار طبقے” یعنی سیاست دانوں کے کسی ڈرامائی بیانیۓ کی طرف جاتا ہے ……
کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی کھلاڑی اسی فارمولے کی اصطلاح کو اپنی سیاست کو چمکانے اورمخالفین کو زہنی دباؤ میں رکھنے کے لیۓ استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن دراصل یہ فارمولہ موجودہ دور کی ایجاد نہی بلکہ یہ تو صدیوں پرانا ہے ” جسے مالک کائنات نے تخلیق آدم کے وقت سے ہی انہیں ودیعت کر دیا تھا . ہمارے پیارے رب نے ہمیں بہترین کامیاب اور خوبصورت زندگی کے لیۓ کسی اور کو نہی بلکہ خود اپنے ہی” نفس” کو مائنس کر کے پر سکون ، راحت بھری زندگی گزارنے کا سبق سکھایا ہے . “نفس ” وہ طاقتور دشمن ہے کہ اگر ہم اس پر قابو پا لیں تو دنیا اور آخرت دونوں ہی سنور جائیں……. یہ نفس ہی ہے جو حسد، کینہ ، غیبت،بے حیائ ، ظلم ،طعنہ زنی ،بد نگاہی اور فسق و فجور کے لیۓ اکساتا ہے ،
قرآن پاک میں کئئ مقامات پر اللہ تعالیٰ نے تزکیۂ نفس کرنے والوں کو فلاح یافتہ لوگوں میں شمار کیا ہے . سورۂ زلزال میں ارشاد باری تعالی ہے ….. “یقینا” فلاح پا گیا وہ شخص جس نے نفس کا تزکیۂ کیا اور نا مراد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا ” . جب ہم اپنے نفس کو اور اپنی زات کو اللہ تعالی کے بتائے دائرے میں لے آتے ہیں تو ہماری دنیا ہی بدل جاتی ہے ، دل کا اطمینان نصیب ہو جاتا ہے ‘ اور کوئ بھی پریشانی ہم سے اسے چھین نہی سکتی ، پھر ہمیں دوسروں کی خوشیاں اپنی خوشیاں ٫ اور دوسروں کے غم اپنے غم لگنے لگتے ہیں ،
“مائنس ون ” کے تحت نفس کے قابو آتے ہی ہماری زبان کو بھی لگام لگ جاتی ہے اور ہم جو بات بھی کہتے ہیں ناپ تول کر کہ کہیں ہمارا کوئ لفظ ،کوئ جملہ دوسروں کا دل دکھانے کا باعث نہ ہو اور کوئ بات غیبت بہتان یا چغلی نہ بن جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح نفس کے قابو آتے ہی دنیاوی مال و دولت کی قیمت ختم ہو جاتی ہے ،اور آخرت میں اپنے جمع ہونے والے اعمال کی فکر لاحق ہو جاتی ہے ،دوسرے کے پہنچاۓ غم اور تکالیف بے وزن ہو جاتی ہیں اور دل اپنے پروردگار کی احسان مندی کے جزبات سے سرشاد رہتا ہے ،،۔۔ہم اپنی زات کے محور سے نکل کر کائنات کو حقیقی معنوں میں اپنا ہم نشین محسوس کرنے لگتے ہیں ،۔۔۔۔۔رشتوں کا احترام اور قدرومنزلت کا احساس جاگتا ہے اور ہمیں لاکھوں کڑوڑوں نعمتیں دینے والے رب کا قرب نصیب ہوتا ہے ،،،اور جس کسی کو یہ نعمت نصیب ہو جاۓوہ یقینا” کامیاب اور فلاح یافتہ ہی کہلاۓ گا …..
تاریخ انسانی ایسی بے شمار عظیم ہستیوں کے زکر سے بھری پڑی ہے جنہوں نے دائمی کامیابی کے اس راز کو پا کر رہتی دنیا تک کے لیۓ ناقابل فراموش عظیمت کی داستانیں رقم کر دیں۔۔۔۔۔۔۔ ان بلند کردار ہستیوں میں انبیاء ،صحابہ اور صوفیاۓ کرام تو شامل ہی ہیں ، مگر عام انسانوں نے بھی جب خود کو نفس کی غلامی سے نکالا اور اپنی زات کو پس پشت ڈال کر فلاح انسانیت کےلیۓ بے لوث اور بے غرض کام کیا تو پھر نورالدین زنگی ،سلطان صلاح الدین ایوبی ،ملک شاہ سلجوقی ، سید قطب شہید ، ٹیپو سلطان ، نواب بہادر یار جنگ اور بابائے قوم، محمد علی جناح جیسی اولوالعظم ہستیوں نے جنم لیا …… عظم و ہمت کے یہ روشن مینار رہتی دنیا تک کے لیۓ مشعل راہ کا کام کرتے ر ہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں