رمضان کی مبارک ساعتوں کا ضیاع – نائلہ شاہد




حکومت وقت آپ کے غیر منصفانہ فیصلوں پر مورخ کا قلم تاریخ لکھتے ہوئے ٹوٹ ہی نہ جائے کہیں، اس وقت ملک جس سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے اس کا اندازہ بھی ہے آپ کو ۔
گھروں میں فاقے ہورہے ہیں اموات کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اچھے بھلے انسان ڈپریشن میں جا رہے ہیں۔ مزدور بھکاری بن گیا ہے اور آپ نے میڈیا کو آزاد چھوڑ دیا ؟کورونا کو اللہ کا عزاب یا آزمائش کچھ تو سمجھیے کیا بحثیت مسلمان ہمارا اتنا عقیدہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ مساجد بند کروادی گئیں ہم نے اس کو احتیاط سمجھا لیکن رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بے ہنگم شوز کو ماہ مبارک کے نام سے منسوب کرکے چلانا یہ کیا مناسب طرز عمل ہے؟ ایک تو سمجھ نہیں آتا مزہبی پروگرام عالم اور عالمہ سے کیوں نہیں کرواتے وہ اداکار اور اداکارائیں جو مختصر لباس پہن کر آئٹم سانگ پیش کرتے ہیں جو مغرب نشے میں دھت ان کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں ان سے اسلامک پروگرام محض ایک ماہ کے لیے کیا اتنا بابرکت مہینہ ان چینلز کے لیے اپنی مارکیٹنگ کروانے آتا ہے ؟ پاکستان کے آئین کے مطابق تو غیر قانونی ہیں اس پر تو مقدمہ کیا جاسکتا ہے.
غیر شرعی کوئی بھی اقدام ناقابل معافی ہے۔پاکستان کے آئین میں درج ہے میڈیا کن حدود کا پابند ہے۔اور دوسری اہم بات سارے اداکار رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر جو بے ہودگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس سےکیا کورونا چلا جائیگا؟ کیا ان کے سیٹ پر کورونا کے آنے پر پابندی لگادی گئی ہے؟ کیوں آخر میڈیا کو اتنا آزاد کیوں کیا ہے ۔ تاجر بیچارے رو رو کر التجا کر رہے ہیں کہ ہم احتیاط کے ساتھ اپنا روز گار کھولیں گے لیکن وہاں کوئی سنوائی نہیں اور میڈیا کو کھلی چھوٹ جو چاہے جیسے چاہے کرو۔ رمضان المبارک تو ﷲ کی رحمتیں سمیٹنے کے لیے آتا ہے اس وقت کے حالات یہ ہیں کہ کھانے کو گھروں میں کچھ نہیں آپ پچاس پچاس تولہ سونا بانٹ رہے ہیں ۔ ایسے وقت میں کرنے کے کام کیا ہونے چاہیے اور میڈیا کیا کر رہا ہے ۔اگر انسان ہی نہ رہے تو پھر کون سا سونا اور کیسا سونا وزیر آعظم اتنا سونا بانٹ رہا ہے اے آر وائی آپ کو کہیں مانگنے کی ضرورت نہیں خدارا ان سے لے لیجیے۔
افسوس رمضان المبار ک کی مبارک ساعتیں کہاں ضائع ہورہی ہیں ۔ اور ہم پر کیا وقت پڑا ہے توبہ استغفار کے بجائے ہمیں بے ہنگم دھما چوکڑی میں لگا دیا گیا ہمیں اس کا ادراک بھی نہیں کہ اللہ ہم سے سخت ناراض ہے اس ماہ مبارک میں ہمیں موقع ملا ہے اللہ کو راضی کرنے کا لیکن نہیں ہم اب بھی غفلت کا شکار ہیں ان کے شوز میں آنے والی خواتین رمضان کے تقدس میں سر پر دوپٹہ تک نہیں پہنتی کیوں ان کو پابند نہیں کیا گیا ؟ خدارا زمہ داران پیمرا اس بات پر ایکشن لیجیے اور دین اسلام کے نام پر ہونے والے ان بے ہنگم پروگرامز پر بینڈ لگائیے۔ ابھی ہم کورونا کی آزمائش میں مبتلہ ہیں……. اس وقت ملک میں موت کا سناٹا چھایا ہوا ہے انسان کی داد رسی کو نکلیے سونا بائیک بانٹیے سفید پوش گھرانوں میں جو خودکشی کی طرف جارہے ہیں ۔ عوام کو اداکاروں کے بائیو ڈیٹا نہیں سننے ان کو اپنے پیاروں کو بچانا ہے
ﷲ ہم سب کو صراط مستقیم پہ رکھے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں