گم اس میں ہیں آفاق – افشاں نوید




دوران کرونا یہ چوتھی فون کال تھی جنہوں نے ایک ہی موضوع پر بات کی۔
ضعیف اور بیمار خاتون ہیں۔ فریکچر کے بعد کافی عرصے سے بستر پر ہیں۔خیریت پوچھی تو بولیں۔دعا کریں کہ کرونا کی وبا میں میرا انتقال نہ ہو۔ میں نے کہا کہ اللہ آپ کو زندگی اور صحت عطا فرمائے لیکن جو وبا سے مرتے ہیں انھیں شہادت کا درجہ ملتا ہے۔
بولیں۔۔ میری تو خواہش تھی کہ فلاں مجھے آخری غسل دے۔میرے جاننے والے اکھٹے ہوں تو بار بار میرے لیے مغفرت کی دعا کی جائے۔کرونا میں تو بیٹے بھی بیرون ملک سے نہ آسکیں گے۔ ایک کزن کا فون آیا کہ ابا کو ڈپریشن کے دورے پڑرہے ہیں کہ اگر ان دنوں میں بلاوا آگیا تو میری نماز جنازہ بھی نہ ہوگی؟؟؟ اس سے قبل ایک بزرگ ساتھی جن کو دمہ کا عارضہ لاحق ہے انہوں نے بالکل یہی الفاظ کہے…
میں کرونا میں مرنا نہیں چاہتی۔ ذوالفقار میرا جنازہ نہ پڑھ سکے گا(بیٹا جو جدہ میں رہتا ہے)۔میرے بیٹے ماجد کے ساتھ کندھا دینے والااسکا سگا بھائی بھی نہ ہو ؟میری بہنیں میرے آخری دیدار سے محروم رہ جائیں؟ میں نے کہا…اللہ بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہے۔اچھی کتابیں پڑھیں اور اچھی اچھی باتیں سوچیں۔ کل ایک ساتھی کا فون آیا کہ مجھے کرونا میں موت کا سوچ کر بہت وحشت ہوتی ہے۔
اگر کرونا سے مری تو مجھے کوئی آخری غسل بھی نہ دے گا۔میں تو حج سے کفن زمزم میں بھگو کر لائی ہوں۔سنا ہے کہ کرونا والی موتوں کو کفن نہیں دے رھے بس پلاسٹک کے تھیلوں میں سپرد خاک کررہے ہیں۔ میرے پیارے میرا آخری دیدار بھی نہ کرسکیں گے۔ ایسی بھی کیا موت کہ بھانجے بھتیجے کندھا بھی نہ دے سکیں۔رو رو کی دعا کرتی ہوں کہ مجھے کرونا کی “تنہاموت”سے اللہ بچا لے۔
اتنا بڑا خاندان ہے میرا,چھ تو سمدھیانے ہیں۔میرا تو کئی دن گھر بھرا رہتا۔ کتنے ہاتھ میری بیٹیوں کے آنسو پونچھتے اور کتنے کندھے ہوتے اطراف میں جن پر سر رکھ کر میرے بیٹے رو لیتے۔مگر کرونا کی موت تو بہت ھیبتناک ہے۔نہ غسل,نہ جنازہ نہ تدفين!!
مومن کا معاملہ بھی بڑا عجب ہے۔ سانس نکلی تو دنیا سے بندھا کچا رشتہ ایک جھٹکے سے ٹوٹ گیا۔روح نکلنے کے بعد تو خاکی جسم رہ گیا جو مٹی کا ہے اور مٹی کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اب مرنے والے کو کیا غرض کہ غسل کس نے دیا,کندھا کس نے دیا,دعائے مغفرت کس نے کی,کس نے بچوں سے تعزیت کی,کون پرسہ دینے آیا وغیرہ۔۔۔ یہ مومن ہی کی شان ہے کہ وہ وہاں تک سوچتا ہے جہاں تک غیر مسلموں کے تخیل کے پر جلنے لگتے ہیں۔ آپ سوچیں موت بھی کوئی ایسی تقریب ہے جس کے انعقاد کا اتنے اھتمام سے سوچا جائے؟ اللہ کے حکم کے بغیر ہم نہیں جا سکتے اور جب جائیں گے تو وہ بڑا خوشگوار موقع ہوگا(ان شاءاللہ)۔ یہ مومنانہ تخیل ہے کہ مجھے اپنے رب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوگا وہ معمولی ملاقات تو نہ ھوگی۔آخر فرشتوں کی معیت میں ہوگی موت نیستی تو نہیں ہے۔موت قابل نفرت اور راتوں کی نیند اجاڑ دینے والا تصور تو نہیں کہ موت کاایک دن معین ہے……. نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
لیکن وہ جو دنیا ہی کو زندگی سمجھتے ہیں۔جن کے لیے موت اندھے کنویں جیسی اور لذتوں کی قاتل شے ہے۔ جن کی لیبارٹریاں سالہا سال سے عظیم دماغوں اور کثیر سرمائے کے ساتھ کھپی ہوئی ہیں کہ کسی طرح موت کے وائرس پر قابو پانے کی ویکسین دریافت کرسکیں۔مائیکل جیکسن نے لاکھوں ڈالر ماھانہ کے پہرے دار بٹھائے ہوئے تھے کہ موت کو قریب نہ آنے دیں۔ جن کے خیال میں بس یہی جیون سب کچھ ہے۔انتہائی لذتوں کا حصول جن کا مقصد زندگی ہے۔جنہوں نے کبھی جنت کے بارے میں نہیں سوچا۔اسی لیے دوزخ سے بے نیاز رہے۔
اگر انسان نے اللہ سے ملاقات کی تیاری ہی نہیں کی تو موت کا تصور ہی اس کے لئے موت کے برابر ہے۔ یہ مومن ہے جو موت کو آخری اسٹیشن نہیں بلکہ ٹریک بدلنا سمجھتا ہے کہ میں ذرا وہاں چلا ہوں……. اس وقت مسلم اور غیر مسلم معاشروں کا نفسیاتی تجزیہ ثابت کرتا ہے کہ عقیدہ زندگی میں کتنا اہم ہوتا ہے۔ ایمان زندگی کو کس درجہ سکون آشنا کرکے ذہنی امراض سے بچاتا ہے۔
لاالہ کی زندگی کا افق کتنا وسیع ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں