روزے کا اصل مقصد – بشری تسنیم




روزے کا اصل مقصد الله رب العزت کی اطاعت و فرماں برداری کا عملی نمونہ بن کے دکهاناہے ……. یعنی “تقوی ” اختیار کرنا ہے.
روزے کا مقصد یہ نہیں کہ انسان خود کو تکلیف میں مبتلا کرکے راہبوں کا مرتبہ پانے کی کوشش کرے یا ایسے مزاہب کے سادهووں کی پیروی کرے جن کے ہاں فطری انسانی ضرورتوں کو تج دینا نیکی ہے اور خود کو زیادہ سے زیادہ جسمانی مصیبت میں مبتلا کرنا اعلی درجے کی بزرگانہ شان حاصل کرنے کا زریعہ ہے…… اسلام دین فطرت ہے. انسان کی فلاح اس کا اصول ہے..اس فلاح کے حصول میں کوئی تنگی نہیں رکهی گئی،احکامات و فرائض میں یسر اور آسانی حالات واقعات، صحت تندرستی ،عمر ،سفر وحضر کے مطابق عطا کی گئی ہے.اس لئے کہ رب العلمین اپنے بندوں پہ مہربان ہے،اس کی رحمت ہر شے پہ چها ئی ہوئی ہے.
یہی وجہ ہےکہ روزے نہ رکه سکنے والوں کو سہولت دی گئی ہے..اب اگر کوئی اس سہولت کو اس رحمت الہی کو پس پشت ڈال کر خود کو ازیت میں مبتلا کرتا ہے اور اپنے متعلقین کو بهی پریشانی میں مبتلا کرتا ہے..تو وہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کی شفقت نرمی رحمت سے منہ موڑتا ہے..کچھ بیمار بوڑھے لوگ شدید تکلیف اور کمزوی کے باوجود روزہ رکهنے پہ مصر ہوتے ہیں اور دل میں بہت معصومانہ سی خواہش مچل رہی ہوتی ہے کہ اگر موت آنی ہے تو روزے کی حالت میں آئے…….ہر مومن کی دلی خواہش یہی ہوگی مگر الله سبحانه وتعالى کی محبت شفقت ہی مطلوب ہےتو اس وقت الرحمان الرحیم زات یہی تو عطا کر رہی ہے اس مہربانی کو قبول کر لینا ہی اطاعت اور فرماں برداری ہے..موت کی تیاری اس طرح خود کو ازیت دے کر نہیں بلکہ اطاعت و فرماں برداری کرکے کرنا زیادہ پسندیدہ ہے. کہیں ایسا نہ ہو کہ الله تعالی کی طرف سے عطا کردہ سہولت سے فائیدہ نہ اٹها نے پہ ناشکر گزاری کا لیبل لگ جائے ..کچھ لوگ الله تعالى کی عطا کردہ نرمی سے نا جائیز فائیدہ اٹها تے ہیں وہ بهی تقوی سے دور ہیں .
اور جو نرمی شفقت اور محبت کو قبول نہیں کرتے وہ بهی متقی کا درجہ نہیں پاسکتے. عبادت کا مقصد خود کو جان بوجه کر ازیت میں مبتلاکرنا اپنی بیماری کو بڑهاوا دے کر موت کی تمنا کرنا نہیں ہے ….ایسے طرز عمل کو رحمت للعالمیں صل اللہ علیہ و سلم نے پسند نہیں فرمایا.. الله تعالى اور اس کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کیطرف سے ہر قسم کے حالات کے مطابق دی گئی ہدایات پہ عمل کرنا ہی اصل عبادت ہے اور یہی تقوی ہے.. ….. روزے کا اصل مقصد (تقوی کا حصول )اس وقت بهی پورا نہیں ہوتا جب افطاری کے وقت سارا دن بهوک پیاسا رہنے کی “سزا” پیٹ کو بهگتنی پڑتی ہے. روحانی احساسات کی کوئ ایک جهلک بهی افطاری کے بعد روح کو میسر نہیں ہوتی اس کیفیت میں کلام الله روح کو کیسے شادکام کرے گا؟ نڈهال جسم ،غنودگی کی حالت میں کس کے رونگٹے کهڑے ہوسکتے ہیں؟ “ولقد يسرنا القرآن لزكد فهل من مدكر ” کس کے دل پہ دستک دے گا؟
رمضان المبارک کی تیاری میں سب سے پہلا احساس جو ہمیں ہوتا ہے اور جس حدیث پہ ہمارا پختہ یقین ہوتا ہے وہ یہ کہ” رمضان المبارک میں مومنوں کا رزق بڑها دیا جاتا ہے” اس حدیث پہ عمل کرنے کے لئے ہم جت جاتے ہیں اور انواع و اقسام کے پکوان کی فہرست ہمارے “ایمان بر طعام”کو تقویت دیتی ہے اور ہم وہ کچه کهانے کی بهر پور کوشش کرتے ہیں جو سارا سال بهی کهانے کا پروگرام نہ بنایا ہو. آخر کیا وجہ ہے کہ رزق کی فراوانی سے ہم “روحانی رزق “کی فراوانی مراد کیوں نہیں لیتے؟ کیا ہی اچها ہو اگر ہم روحانی رزق کو بڑها نے کی فہرستیں تیار کریں اور پیٹ کو روزہ رکهنے کی” سزا”دینے کی بجائے روح کے رزق کی فراوانی کی طرف توجہ کریں جس کا اہتمام اس ماہ مبارک میں کیا گیا ہے ،،وہ” الله کا دستر خوان” ہے . اس سے روح کی طلب پوری کریں. اور سارے سال کی کسر پوری کریں اس کی صحت بحال رکهنے کو اگلے گیارہ ماہ کا توشہ بهی تیار کریں کہ اس ماہ مبارک میں مومنوں کا رزق بڑها دیا جاتا ہے اور مؤمن تو قرآن سے پہچانا جاتا ہے..
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن……رمضان المبارك پیاسی روح کی سیرابی کا مہینہ ہے اور اس کی شادابی لیلةالقدر کی تلاش ہے. رحمت، مغفرت اور آگ سے رہائ کا پروانہ مل جانا کامیابی کا عنوان ہے..

اپنا تبصرہ بھیجیں