توبہ، خلش اور خوف – ڈاکٹرجویریہ سعید




توبہ ، گناہ، احساس ندامت اور معافی، مقبولیت اور خسران کا معاملہ بڑا عجیب ہے. انسان گنہہ کرتا ہے، معافی مانگ لیتا ہے، باربار کرتا ہے پھر معافی مانگتا ہے.
الله فرماتے ہیں کہ وہ بار بار معاف کر دیتے ہیں. گنہہ اگر دھل جاتا ہے تو احساس ندامت اور چبھن کیوں باقی رہتی ہے؟ بے چین رکھنے کے لئے ؟؟ ایک اور مسلہ بھی ہے.. اتنے اچھے اچھے کاموں کی ترغیب دی گئی ہے اور ان پر اجر کی امید دلائی گئی ہے. مگر پھر یہ کہہ کر ڈرایا کیوں گیا کہ کیا خبر اتنی نیکیاں کرنے کے بعد کوئی ایک غلطی سب کیا کرایا غارت کردے! اور یہ کہ کتنے ہی اچھے کام کرلو ، مگر ڈرتے ہی رہو کہ وہ قبول ہوں گے بھی یا نہیں. کوئی کنفرمیشن کیوں نہیں؟ بندہ سکھ کا سانس کیوں نہ لے؟؟ دل کو یہ لگتا ہے کہ اصل مطلوب الله اور بندے کا تعلق ہے. بندہ الله سے جڑا رہے ، اس کے در پر جھکا رہے، گھوم پھر کر پھر اس کے پاس اتا رہے. اس کے کرم کی امید لگاۓ رہے. اس کی خفگی سے ڈرتا رہے . جیسے ایک چاہنے والے کا اپنے محبوب سے تعلق ہوتا ہے. بندہ الله کریم کی رحمت کے شوق اور خفگی کے ڈر سے بے نیاز نہ ہوجاۓ.
بندے کو پارسائی اور کامیابی حاصل ہوجانے کے زعم میں مبتلا ہونے سے بچانا بھی مقصود ہے.اگر نیکی کے مقبول ہونے اور معافی کے مل جانے کا یقین ہو جاۓ توہم میں سے اکثر نہ صرف اپنی طرف سے مطمئن ہو جائیں گے، بلکہ اپنے تقویٰ کے زعم میں بھی مبتلا رہیں گے. لیکن یہ کھٹکا کہ نہ جانے نیکی مقبول ہوئی بھی یا نہیں، اس قابل تھی بھی کہ نہیں اور اپنی غلطیوں کی چبھن انسان کو عاجزی و انکساری عطا کرتی ہے.، نہ وہ الله کریم سے بے نیاز ہوکر رخ پھیرتا ہے اور نہ بندوں کے آگے گردن اکڑاتا ہے. یہ احساس ندامت اور غلطی کی چبھن عجزکے حصول کے ساتھ بریک کا بھی کام کرتی ہے. میں دوسری مرتبہ وہی کام کیسے کر لوں، جس نے پچھلی مرتبہ اتنی اذیت دی تھی؟ اگر کبھی آگ سے جلنے کی اذیت سے گزرے ہوں، تو ہمیشہ آگ سے لاشعوری طور پر فورا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں. دوسرا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندہ چلتا رہے، آگے بڑھتا رہے، رکے نہیں. ہمیں کیا معلوم کہ رضا اور جنت کون سے عمل سے حاصل ہو گی؟ وہ عمل جو پار لگا دے ، کیا خبر ابھی ہوا بھی کہ نہیں؟ یہی خیال مزید اچھے کاموں پر اکساتا رہتا ہے. بندہ سوچتا ہے کہ یہ بھی کر لوں، شاید یہ مقبول ہو جاۓ. شاید اس راستے اس کو پا لوں. اس طرح وہ آگے بڑھتا رہتا ہے.
اسی طرح وہ آیات اور احادیث جو ذرا سے عمل پر مغفرت اور اجر عظیم کی خوشخبری سناتی ہیں. ان کا منشا ایک طرف تو یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے کسی عمل کو بھی حقیر نہ سمجھا جاۓ. انسان کے انفرادی و اجتماعی وجود کی تکمیل کے لیے ہر عمل ضروری ہے، چاہے وہ پیاسے کتے کو سخت گرمی میں پانی پلانا ہو، راستے سے رکاوٹ دور کرنا ہو، اپنے ہم جنسوں کو مسکرا کر دیکھنا ہو، کسی کی غلطی پر چشم پوشی کرنا ہو ،کسی کے آنسو پونچھ دینا ہو یا اپنے بھائی کی غیبت اور اس سے حسد سے بچنا ہو. اس طرح ہم ان نیکیوں اور برے کاموں کو نظر انداز نہیں کرتے ، جو بظاھر حقیر معلوم ہوتے ہیں. اسی طرح اس طرح کی آیات اور احادیث بظاہر بہت نیک نہ ہونے والے انسانوں کے لئے بھی امید کی جوت جگاتی ہیں. گنہہ گار سے گنہہ گار انسان کے لیے بھی ان میں امید چھلک رہی ہوتی ہے. کیا خبر کہ میرا رب اس ننھے سے عمل سے راضی ہو جاۓ. مجھ جیسے گنہہ گار کے لئے بھی اپنے رب سے قرب کا کوئی ذریعہ موجود ہے. پس یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کو ہم کوئی نہ کوئی اچھا عمل کرتے پاتے ہیں چاہے وہ بظاھر بہت سے غلط کاموں میں مبتلا ہو. اگر وہ عمل خالص الله کی رضا اور اس کی محبت کے لئے ہے، تو الله کریم کی رضا اس کی رحمت کی طرح ان پر چھا جانے کی پوری امید دم آخر تک باقی رہتی ہے.
غرضیکہ الله کریم انسانوں میں عاجزی، انکساری، امید اور چھوٹے سے چھوٹے اچھے عمل کے متحرک اور بظاہر حقیر معلوم ہونے والے برے عمل سے بچنے کی کوشش دیکھنا چاہتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں