کم ظرفی – شہزاد مرزا




انڈین اداکار رشی کپور اور عرفان خان کے انتقال پر انسانیت کے ناطے دکھ کا اظہار کرنا ہر ایک کا حق ہے…….
حالانکہ ایک بیماری اور دوسرا طبعی موت مرے، کسی نے انہیں ڈنڈوں اور راڈ مار مار کر قتل نہیں کیا، بھوکا اور پیاسا رکھ کر مرنے پر مجبور نہیں کیا، سیدھی گولیاں مار کر قتل یا پیلٹ گن سے نابینا کر کے نہیں مارا، اس کے باوجود جو اس دنیا سے چلا گیا بے شک اسے دکھی دل سے رخصت کریں۔
مگر جس طرح ہمارا میڈیا اور سیکولرز طبقات، بلکہ اب تو اسلامسٹ بھی گزشتہ دو دنوں سے ہلقان ہوئے جا رہے ہیں……. کیا انہوں نے کبھی کسی عالم دین کی وفات پر ایسا ردعمل دیا ؟ ڈاکٹر اسرار صاحب کی برسی تو چند دن پہلے گزری کیا ٹی وی اسکرین اور ان سوکالڈ روشن خیالوں کی تعزیت دیکھی ؟ کشمیری تقریبا 9 ماہ سے قید و بند ہیں، مر رہے ہیں، قتل ہو رہے ہیں، بھوک اور افلاس کی حالت میں ہیں انہیں ان پر شور مچاتے دیکھا ؟ انڈین مسلمانوں پر جاری بربریت پر ایسا رونا دیکھا؟
رشی کپور اور عرفان کو روحانی باپ بھائی ماننے والو بتاؤ کیا کشمیری اور دین دار تمہارے کچھ نہیں لگتے؟ یہ یکطرفہ تعزیت کیوں؟ ناچ گانوں والوں کا ہی دکھ کیوں؟ اگر پسند تھے تو ضرور کریں مگر دوسرے مظلوم لوگ یا دین کے داعیوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتے،
یہ کس نوعیت کا منافقانہ رویہ، دوغلاپن اور کم ظرفی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں