یلیتنی— اے کاش – سعدیہ نعمان




عبداللہ سبق سنا کے کب کا جا چکا تھا لیکن یہ ایک آئت میرے دل و دماغ پہ ٹہر سی گئ تھی —-
یلیتنی کنت ترابا –( النبا40) کاش میں خاک ہوتا ….. مٹی کا ذرہ…. پاوں تلے روند دیا جاتا…. ہوا میں اڑ جاتا …… درخت کا ایک سوکھا پتہ جو خزاں میں جھڑ کے فنا ہو جاتا . کاش میں کچھ نہ ہوتا — ذہن اٹک گیا تھا . دل سوچ کے ڈوب سا جاتا — پھر گھر کے روزمرہ کے کام انجام دیتے ہوئے یکدم ایک روتی سسکتی حسرت بھری آواز کانوں میں گونجنے لگتی . یلیتنی کنت ترابا— اور آنکھیں بہنے لگتیں . ہائے اس بڑے دن کی سختی — جب عمل کا دور گزر چکا ہو گا نامئہ اعمال بند ہو چکا ہوگا اور ہم حساب کے لئے اپنے اپنے رجسٹر اٹھائے مالک کے روبرو حاضر ہوں گے — اور نہ ماننے والے کہیں گے . کاش میں خاک ہو گیا ہوتا — یہ دن نہ دیکھنا پڑتا
ہائے میری کم بختی — اب کیا ہو گا — پھر ایک اور نقشہ ذہن پہ ابھرنے لگتا ہے
مجرم اس دن اپنے چہروں سے پہچانے جا رہے ہوں گے —-جہنم کھینچ کے لائ جا رہی ہو گی — ایک اور حسرت بھری چیخ سنائ دے گی . یلیتنی قدمت لحیاتی—- اے کاش کچھ آگے ہی بھیج دیا ہوتا . کچھ اس زندگی کے لئے کما لیا ہوتا –ہائے میں تو تباہ ہو گیا — ہائے یہ میں نے کیا کر دیا . اور پھر وہی درد بھری صدا— یلیتنی کنت ترابا — کاش ہائے کاش میں مٹی ہوتا — اس آیت نے مجھے جکڑ لیا ہے یہ آئت مجھے بار بار کٹہرے میں لا کے کھڑا کر دیتی ہے — رات تراویح کی ایک رکعت میں اسد نے پھر یہی آئت تلاوت کی ہے تو دل ایک بار پھر دہل گیا ہے — میں بھلانا چاہتی ہوں یہ آئت مجھے بھولنے نہیں دیتی میں جھٹک کے کام میں مصروف ہو نا چاہتی یوں یہ آئت مجھے پھر سے اپنی جانب کھنچ لیتی ہے — کیا کمایا- کن کاموں میں زندگی گزار دی- رب کی رضا کے لیے یا دنیا میں خوشی اور راحت کے لئے — دین کی طلب میں یا کسی فانی کی چاہ میں — کیا جمع کیا — کیا آگے بھیجا جہاں ہمیشہ رہنا ہے —
حضرت علی رض یاد آتے ہیں جو کچھ قبروں سے گزرے تو رونے لگے روتے روتے ہچکی بندھ گئ اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جانتے ہو یہ قبر والے اگر بول سکتے تو تمہیں بتاتے کہ ” بہترین توشہ پرہیز گاری ہے ”
آہ — ہماری لمبی امیدیں اور جھوٹی آرزوئیں–اور گمراہ کر دینے خواہشات
حضرت حسن رض کہا کرتے تھے ” ان لوگوں پہ تعجب ہے جنہیں کہا گیا کہ زاد راہ لو اور کوچ کی تیاری کرو لوگ جانے کے لیے اکھٹے ہو رہے ہیں اور یہ بیٹھے کھیل رہے ہیں ”
حضرت عبداللہ بن عمر رض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کندھے سے پکڑا اور کہا ” دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئ پردیسی یا راہ چلتا مسافر ” ……. بس بےچینی ہے اضطراب ہے گناہوں کا اعتراف ہے توبہ کی آرزو ہے کچھ اچھے کاموں کے لئے نفس کو آمادہ کیا ہے کچھ جمع کرنے کی آرزو ہے دعا کے لئے ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں لیکن اپنی بے بسی اور کم مایئگی کا اعتراف ہے اور نگہ پھر اسی ایک ہستی کی جانب اٹھتی ہے جو میرے لئے ہم سب کے لئے بے چین رہی مضطرب رہی—ہاں وہ ایک رات اور وہ ایک آیت جسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم دہراتے رہے روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئ –” -اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ” ( سورہ المائدہ) بس یا رب ہم آپ کے گنہ گار بندے ہیں اور آپ کی بے پایاں رحمت سے بخشش کے طلبگار ہیں
ہمیں معاف فرما دیجئے ….. ہم پہ رحم کر دیجیئے….. ہماری پردہ پوشی فرمایئے …… اور ہمیں اس نتیجہ کے دن کی سختی سے اور حسرتوں بچا لجیے گا . ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدار بنا دیجیئے گا — یا رب یا رحمان الھم صلی علی محمد و علی آل محمد —

اپنا تبصرہ بھیجیں