سکون قلب – سایرہ صابر




سکون قلب میسر کسے جہان میں ہے
تری زمیں میں کہاں وہ جو آسمان میں ہے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی کی صورت میں بہت بڑی نعمت دی ہے …….. مگر دوسری طرف زندگی تہکا دینے والے عمل کا بھی نام ہے۔کیونکہ انسان کی خواہشیں اور رشتے انسان کو بے بس اور کمزور بنادیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان جیسے ہی حوش و حواس کے دور میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر ماحول اسکی مرضی کے خلاف نکلے تو وہ زندگی بھر کیلئے اپنی پسند کی زندگی حاصل کرنے کیلئے جدو جہد کرتا ہے۔ جسکی منزل کا اسے خود بھی علم نہیں ہوتا……. یہ جدو جہد اسے عمر بھر کیلئے اتنی مصروف کر دیتی ہےکہ وہ اپنا سب کچھ گنوا کر اپنی خواہشات کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس سارے عارضی عمل میں انسان عارضی مقام حاصل کرنے کیلئے اتنا بھا گتا ہےکہ اسے اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وہ یہ جان سکے کہ وہ سب تو ٹھیک ہے مگر اس کا اپنا “قلبی سکون” کہیں کہو رھا ھے۔
انسان کی زندگی کا دارومدار “دل” پر ہوتا ہے۔ دل اگر بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ تو انسان کی سانسسوں کی لڑی دنیا کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔دل انسان کا سب سے لاڈلا اور سب سے حساس جسمانی عضو ہے۔اگر دل بے سکون ہو تو وہی بے سکونی زندگی میں بھی طاری ہو جاتی ہے……. حقیقت یہ ہے کہ اگر “قلبی سکون” کہیں کہو جائے تو اس کے لیے غیر لوگوں کی طرف نہ بھاگو۔اور نہ ہی ایسے راستوں پر چلو ۔ جو عارضی ہوں ….. بلکہ اپنے خالق حقیقی کی طرف آؤ ۔اس خالق کی طرف جس نے انسان کے ایک ایک عضو کو پیارو محبت سے بنایا ہے۔اسی لیے وہی واقف ہےکہ خرابی کہاں ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان بہت تھوڑے عرصے کےلئے آیا ہے۔اس کا وقت بہت قیمتی ہے۔اس وقت کو وہ ضائع نہ کرے۔جب کبھی وہ دنیاوی مصروفیات سے فارغ ہو۔دل و زبان سے اللہ کا ذکر کرے۔تاکہ سکون قلب حاصل ہو سکے۔ سکون قلب سب سے بڑی دولت ہے۔جو انسانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔اور یہ صرف اور صرف اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے..!! آلا بذ کر اللّٰہِ تطمءین القلوب. ترجمہ…… “جان لو کہ صرف اللہ کے ذکر سے ہی اطمینانِ قلب ہوتا ہے۔”
اسلیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت اللہ کو یاد کریں۔ اس کا ذکر کریں۔ اور دوسروں کو بھی اسکی ترغیب دیں۔ تاکہ ہماری زندگی میں سکون قلب شامل ہو۔!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں