مزدوروں کا عالمی دن – حمیرا عنایت




یکم مٸ کہنے کو تو مزدوروں کا عالمی دن ہے……. مگر ہمارے حالات و واقعات کو مدِنظر رکھا جاۓ تو اب ہر روز ہی مزدوروں کا دن سمجھا جاتا ہے.
اور جس میں انہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں اور موت فاقوں کی نوبت کی صورت میں سروں پر منڈلاتی نظر آتی ہے۔ جہاں آج بھی مزدور اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب انہیں دیہاڑی میسر ہو اور وہ عزت کے ساتھ روزی کما کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پال سکیں۔ مگر حالات بتا رہے ہیں اگلے دو ہفتوں تک یہ مزدور گھر بیٹھیں اور مزدوروں کا دن مناتے رہیں ۔۔۔کیونکہ یہ سب کہنا ہماری دورِ حکومت کے لۓ بہت آسان ہے جو اب تک اپنی عوام کی خدمت کے لۓ ،ان کی مدد کے لۓ کوٸی عملی اقدام کرتی دکھاٸی نہیں دے رہی۔۔۔ وہ بھی کیسا دورِ خلفإ تھا جو اپنی رعایا کے لۓ دن رات فکر مند رہتے تھے ۔۔اس بات کا خوف انہیں کھاۓ جاتا تھا کہ اگر ساحل کے کنارے کوٸی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اُس کا بھی حساب ہوگا ۔۔۔۔اپنی ذمہداری کا اس قدر احساس کہ راتوں میں گلی گلی تنہا بغیر کسی باڈی گارڈ کے گشت کرتے دکھاٸ دیٸے اور آج کا المیہ یہ ہے کہ اس حساس ذمہ داری کا احساس براۓ نام معلوم ہوتا ہے ۔۔۔نا ہم پر خوف کا یہ عالم ہے کہ کتنے گھروں میں چولہا جلا ہے یا کتنے گھر اس امید پر چپ سادھے سو گۓ کہ کل کوٸی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی دروازے پر دستک دے گا ۔۔۔۔
جبکہ ہمارا پیارا اسلام ہمیں مزدوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔۔ حدیثِ بنوی ﷺ ہے کہ: رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ ”مزدور کو اسکی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو“ (ابن ماجہ) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ معرور بن سوید فرماتے ہیں کہ میں نے جناب ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بدن پر بھی ایک جوڑا تھا اور ان کے غلام کے بدن پر بھی اسی قسم کا ایک جوڑا تھا۔ ہم نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ایک دفعہ میری ایک صاحب (یعنی بلال رضی اللہ عنہ سے) سے کچھ تکرار ہو گئی تھی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے انہیں ان کی ماں کی طرف سے عار دلائی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔“ (بخاری و مسلم)۔۔
حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف اجرت ہی ادا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ان کا احساس کرنا ،ان کا خیال رکھنا بھی اِس قدر اہم ہے جتنا کہ اجرت ادا کرنا ۔۔۔ آیٸے یہ بھی دیکھ لیں کہ اگر کسی نے اپنے ہاں مزدور کو مزدوری نہ دی یا ٹال مٹول کرتا رہا تواُن کا کیا انجام ہو گا ۔۔۔ ایک حدیث میں روایت ہے کہ رسول کریم کا ارشاد ہے۔ ”قیامت کے دن جن تین آدمیوں کے خلاف میں مدعی ہوں گا ان میں ایک وہ شخص جو کسی کو مزدور رکھے اور اس سے پورا پورا کام لے مگر مزدوری پوری نہ دے“ (بخاری) اس حدیث سے اندازہ لگاٸیں کہ روزِمحشر بھی ہم سے سوال ہو گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جو ان سے برا سلوک کرے گا ۔اس کا انجام بھی بتا دیا ۔۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :
اپنے ماتحتوں سے بد خلقی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔(ترمذی) خدارا۔۔اپنے آپ کو اُس دیہکتی ہوٸی آگ سے بچاٸیے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہونگے۔۔ اپنے اردگرد موجود لوگوں کا احساس کریں۔
اُن کا خیال رکھیں۔ انہیں اپنے جیسا ہی انسان سمجھیں۔ اُن کی قدر کریں کیونکہ ان لوگوں کی بدولت ہی آپ کی زندگی کا پہیہ چلتا ہے۔ ان کے دکھ درد بانٹنے کی کوشش کریں۔ اپنے لیۓ خوشیاں چاہنے کے لۓ ضروری ہے کہ پہلے خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔

مزدوروں کا عالمی دن – حمیرا عنایت” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں