محبت ِمحمد مصطفٰیﷺ – آمنہ صدیقی




“مجھے خود سے زیادہ محبت ہے یا رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسے؟؟؟؟”
گھوڑے پہ بیٹھا وہ سوار، میدانِ جنگ کے وسط میں کھڑا خود سے سوال کررہا تھا کہ تو خود سے زیادہ محبت کرتا ہے یا اللہ و رسولﷺ سے۔۔۔۔ موت اس سپاہی سے فقط چند قدم دور ہے اور اسے دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے…..! اپنا انتخاب کر کے اپنی جان کی پرواہ کرنی ہے یا، نبیﷺ کا انتخاب کر کے موت سے ٹکڑا جانا ہے۔۔۔ بالآخر فیصلہ ہوجاتا ہے، اس کے ہاتھوں میں موجود لشکر کا عَلَم دشمن کو اس مجاہد کی جانب متوجہ کرتا ہے یا شاید وہ خود ہی دشمن کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے کہ کافرین رسول ﷺ پر حملہ کررہے تھے۔۔ان کی ساری توجہ نبی پر مرکوز تھی۔۔ اس دلیر سپاہی کو نہ موت کا خوف ہے نہ کوئی ڈر۔۔۔ دل دنیا کے خیال سے خالی ہے اور فقط ایک ہی فکر لاحق ہے کہ نبیﷺ محفوظ ہوں۔۔۔۔
کون ہے یہ مجاہد؟ کہ جو یوں موت سے نبرآزمہ ہوگیا؟ ارے غور سے سنو یہ زبان سے کیسے کلمات نکال رہا ہے؟؟بڑے پاکیزہ معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ دھیان سے سنا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجاہد پڑھ رہا ہے، “وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِـهِ الرُّسُلُ “…… کون ہے یہ؟؟ “ارے دیکھو یہ تو مصعب بن عمیر رضہ اللہ عنہ ہیں”پہچاننے والے پہچان لیتے ہیں۔۔… مگر یہ کلمات مسلسل ادا کرنے کا مقصد کیا ہے؟؟؟؟یہاں کونسی جنگ جاری ہے؟؟؟اتنی افراتفری کیوں مچی ہے؟؟واقعہ کیا ہے؟؟؟ سوالوں کی تو گویا برسات ہوگئی ہے۔۔۔ بتادو انھیں کہ کفر ایک بار پھر مقامِ احد پہ اسلام کے روبرو آگیا ہے۔۔۔ مسلمان تقریباً فتحیاب ہوگئی تھے۔۔۔۔ رسول اللہ نے احد کے پہاڑ کہ درے پر کچھ مسلمانوں کو اس حکم کے ساتھ تعینات کیا تھا کہ جب تک میں نہ کہو اس جگہ سے نہ ہٹنا۔۔۔۔جب کفار بھاگ نکلے تو یہ اصحاب سمجھے کہ جنگ ختم ہوگئی ہے اور مالِ غنیمت سمیٹنے کیلئے سوائے چند کے سب ہٹ گئے اور ادھر سے کافرین پھر سے حملہ آور ہوگئے ہیں۔۔
افراتفری بھی اسی لئے ہے کہ مسلمان اس یک دم حملے سے بے حواس ہوگئے۔ کافرین کا مقصد نبیﷺ پر حملہ کرنے کا تھا، وہ آپﷺ کی جانب بڑھے اور آپﷺ کو بچانے کیلئے اصحابِ رسولﷺ بھی آگے بڑھے۔۔۔ اور پھر ہاتھوں میں اسلام کا علَم لئے کھڑے مصعب رضہ اللہ عنہ نے اس جھنڈے کے ذریعے منکریں، حق کو اپنی جانب متوجہ کیا۔۔ اسی اثناء میں یہ خبر اُڑ گئی کہ نبیﷺ کا نعوذ باللہ قتل ہوگیا ہے۔۔۔ کچھ کمزور ایمان والے مسلمان یہ سوچ کر بھاگ کھڑے ہوئے کہ لیڈر مارا گیا تو اب جنگ لڑنے کا کیا فائدہ۔۔ مگر ابھی ایسے پختہ ایمان والے مسلمان زندہ تھے جو ابھی بھی لڑ رہے تھے، محاذ پر پہلے کی طرح ڈٹے تھے………مصعب بن عمیر رضہ اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے۔۔۔ یہ اس افواہ کو سچ سمجھے تھے۔۔۔دل اداس تو تھا مگر لب یہی کلمات بول رہے تھے، “وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِـهِ الرُّسُلُ ” ….. “اور محمدﷺ ایک رسول ہیں، اس سے پہلے بہت سے رسول گزرے”
کہ سب کو بتا دیں کہ نبی ﷺ تو بس ایک رہنماء ہیں اور یہاں پر ہم اللہ کیلئے لڑنے آئے ہیں، اسلام کی بقاء کی جنگ، اس کی سربلندی کی جنگ …..وہ یہ کلمات ادا کرتے ہوئے مسلسل کافروں کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ کہ ایک کافر آگے برھتا ہے اور آپ کا وہ ہاتھ کاٹ دیا ہے جس میں اسلام کا علَم ہے، مقصد یہی ہے کہ یہ جھنڈا گر جائے اور یہ رہے سہے مسلمان بھی ہار مان جائیں، حق پر باطل کو فتح مل جائے۔۔ مگر۔۔۔ کون ہے جو اسلام کا علَم گرا سکے کہ جب ایسے اولوالعزم مسلمان زندہ ہوں جو بوقتِ ضرور اپنی جان بھی پیش کرنے سے تامل نہ کریں۔ مصعب رضہ اللہ عنہ کا ایک بازو کٹ چکا ہے، اس کی تکلیف اپنے جوبن پر ہے مگر انہوں نے اس تکلیف کی پرواہ نہیں کی اور علِم دوسرے ہاتھ میں تھام لیا ہے۔۔۔ اس عمل نے علی اعلان کہہ دیا ہے کہ جب تک مصعب بن عمیر رضہ اللہ عنہ زندہ ہے اسلام کا جھنڈاسرنگوں نہیں ہوگا۔۔ اگر آج ہمارا دین بربادی کا شکار ہے، دنیا میں مسلمان ذلیل ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے کمزور ایمان سے یہ جھنڈا سرنگوں ہورہا ہے۔۔۔اس کے ذمہ دار صرف اور صرف ہم ہیں۔۔! اس مجاہدِ اسلام کے دونوں بازو کٹ گئے ہیں۔۔۔تکلیف سے بے پرواہ یہ مرد مجاہد اب کٹے ہاتھوں کو ملاتا ہے اور علَم اس سے پکڑتا ہے۔۔ بالآخر شہادت کے منسب پر فائز ہوجاتا ہے، مگر پرجمِ توحید کو سرنگوں ہونے نہیں دیتا۔۔۔
جب دفنانے کا وقت آتا ہے تو مصعب رضہ اللہ عنہ کے مال میں سے ان کے کفن کا انتظام کیا جاتا ہے جو فقط ایک چادر ہے جو بیک وقت سر اور پاؤں نہیں ڈھانک سکتی کہ حکمِ نبویﷺ آتا ہے کہ سر کو چادر سے ڈھانک دو اور پاؤں کو پتوں سے…! دیکھنے والی آنکھیں اشک بار ہیں کہ کبھی انھیں آنکھوں نے وہ منظر دیکھا تھا کہ مصعب بن عمیر اسلام سے پہلے مکہ کی گلیوں میں جب گھومتا تھا تو دیکھنے والے مبہور رہ جاتے تھے، اعلیٰ سے اعلیٰ پوشاک پہنتے، ایسی خوشبو کا استعملا کرتے کہ ان کے گذرنے کے بعد کوئی گلی سے گذرتا تو معلوم ہوجاتا کہ مصعب رضہ اللہ عنہ آئے تھے۔۔لباس تو دور کی بات جوتے بھی آرڈر پر بنواتے۔۔۔ مگر آج اس مصعب رضہ اللہ عنہ نے اپنی جان و مال اپنے رب کیلئے یوں قربان کیا کہ کفن کیلئے بھی فقط ایک چادر ہی بچی۔۔ مگر ہے بڑا تیز یہ مصعب (رضہ اللہ عنہ) اس متاعِ قلیل کے بدلے جنت خرید لی۔۔۔ ثابت کردیا آج مصعب رضہ اللہ عنہ نے اس قربانی سے کہ ان کو خود سے زیادہ نبی آخر الزماں ﷺ سے محبت ہے۔۔۔ ثابت کردیا کہ آپ رضہ اللہ عنہ اللہ کے مطیع فرمان بندے تھے۔۔ اس محبت اور وفا کے بدلے میں نبی ﷺ سے سنا ہے کہ مصعب کو جنت الفردوس ملی ہے۔۔۔۔لوگ باتیں کررہئ ہیں، موضوعِ سخن مصعب رضہ اللہ عنہ کی شہادت ہے۔۔
اللہ کا ایک اور انعام آپ کے نام ہوا کے جو کلمات آپ پڑھ رہے تھے وہ قرآن کا حصہ بن گئے۔۔۔کہ اب رہتی دنیا تک ان کو ادا کیا جائے گا”وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِـهِ الرُّسُلُ ” …. واہ رے واہ، کیسی بہترین جزاء ہوتی ہے اللہ اور رسولﷺ سئ محبت کرنے والوں کی….

اپنا تبصرہ بھیجیں