آسمان پہ تھوکا – طاہرہ فاروقی




یہ جومثل مشہور ہے کہ آسمان پہ تھوکا منہ پہ آتا ہے……. سننے میں تو بس ایک ضرب المثال ہی لگتی تھی اور اسکا بس اتنا ہی مقام تھا کہ پرانے زمانے میں چونکہ وقت وافر میسر تھا تو اس لیے اسی کے بل پر لوگ بیٹھے فلسفوں کے پیچیدہ پیچ گھمایا کرتے تھے۔ بھلا کیا نقشہ کھینچاگیا ہے۔ پتہ نہیں کہاں صادق آتاہوگا۔
مگر آجکل دنیا کی جو صورتحال ہے اس سے باربار یہی کہاوت زبان پر آئے جا رہی ہے۔ یہ تو ایک حقیقت ہے کہ انسان آسمان پر ہی تھوک بیٹھا تھا جب اسنے کہا کہ میں سپرپاوراورمیری مرضی پہ دنیا کو چلنا ہوگا، خدا نہیں صرف انسان، اسلام درست مذہب نہیں اور یہ کہ انسانوں کے مابین تعلقات کو متعین کرنے کا اختیار خالق کو نہیں دیاجاسکتا۔ جب اس نے کہا کہ طاقتوراقوام کمزوراقوام پرجبر کرینگی، آبادی کو اپنی مرضی کی حد میں لانا ہے تاکہ مخلوق پرگرفت مضبوط ہو سکے، سود کےلیےاللہ سےجنگ کرنی ہے اوریہ کہ غریب کوماردو صرف اہلِ ثروت جٸینگے۔ تب وہ کیا کر رہا تھا، اسے توپتہ ہی نہیں تھا کہ وہ بے ثمرتنا آسمان کی طرف گردن اٹھائے کھڑا تھا۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے خود کو آسمان کا باشندہ سمجھ بیٹھا۔ اسے یاد ہی نہ رہا کہ وہ تو زمین کی خاک اور ٹھوکروں میں اس کا مقام ہے۔ اسے اس وقت ہوش آیا جب اسکی گردن کی ساری کلف بہہ کہ خاک میں جذب ہوچکی تھی اور گردن لٹک کر سینہٕ بد باطن پر جھول رہی تھی۔
آج وہی سپر پاور بوریا نشین جہادیوں سے محفوظ فرار کی بھیک مانگ رہی تھی۔ آج مسلمانوں پرعرصہٕ حیات تنگ کرنے والے خود اپنے مریضوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ آج اسلام کو شیطانی مذہب کہنےوالے اذانیں دلوا اور دعاٸیں کروارہےہیں۔ اللہ کے انکاری اللہ کا نام جپ رہے ہیں۔ امریکہ کے ایوانوں میں تلاوت قران گونج رہی ہے۔ حرام رشتوں کی غلاظت گھنگھولنے والے حلال رشتوں کی قربتیں بھی کھو بیٹھے ہیں۔ دولت کے انبار پیاروں کوزندگی دینے سے انکاری ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ نہ علاج ہے۔ بےبسی ایسی کہ فیس ماسک کے بجاے حجاب کے مشورے۔ آہ، وہی حجاب جسکودہشتگردی کی علامت کہہ کر شجر ممنوعہ بنایا ہوا تھا آج مغربی عورتوں کی صحت کا ضامن بنا ہوا ہے۔ مسلمانوں کو قبرمیں جھونکنے والے آج اپنے ہاں موت کے فرشتے کی راہ نہی روک سکتے۔ آسمان کی بارشںوں اورزمین کے زلزلوں کو حکم دینے والےآج ایک خردبینی کیڑے کے آگےلاچار ہیں. صاف نظر آرہاہے کہ جو آسمان پہ تھوکاتھا وہ منہ پہ آ گیا۔
الحاد کے پرچم بردارو
اےظلمتِ شب کےدلدادو
جب ظلمت میں گھرجاؤگے
تب راہ کہیں نا پاٶگے
فاعتبروایااولی الابصار…… ترجمہ: عبرت لو اے نگاہ والو- جزو، سورۃ حشر، آیہ ۲….. طاہرہ فاروقی بی ایڈ اور بعد ازاں ادب میں ایم اے کر چکی ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے وہ اکاؤنٹنٹ اورملک کے نامور سرکاری و نجی ادارے میں اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہی ہیں۔ اردو سے لگائو کی وجہ سے مشق سخن کرتی ہیں۔ فلسفہ حجاب وہی ہے جسے آج پوری دنیا میں ماسک کی شکل میں اپنایا جا رہا ہے اور امریکی صدر نے تو حجاب کا نام لیکر اسے استعمال کرنے کی تلقین کی ہے۔ کلام الہی کا ترجمہ وتفسیر انسان کے بس کی بات نہیں کیونکہ کلام والا لامحدود اور انسان نرا محدود مگر اچھے اور بہترین ترجمے کی سعی کی جاسکتی ہے۔ لہذا یہ کہ تم ستائی نا جائو میں کرونا بھی آیے گا کیونکہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ کیونکہ فلسفہ حجاب حفاطت ہے تو اس مفہوم میں پر اچھی چیز لائی جا سکتی ہے۔ مزید براں فرانس نے ہاتھ نہ ملانے پر مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کر دیا تھا، چند مہینے پہلے کسی سکینیڈیوین ملک نے استانی سے ہاتھ نہ ملانے پر طالب علم سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
آج دنیا میں کیا ہورہا ہے یہ عقل والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں