نگاہ مسلماں کو تلوار کردے – شہزاد مرزا




بات سمجھ آ گئی کہ صرف مسلمان ہو جانا کافی نہیں ہوتا بلکہ درست سمت، درست نظریات، درست افکار اور درست اجتماعیت کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے، یہ سب معاون عوامل ہیں جو ہر مسلمان کو بھٹکنے نہیں دیتے، غافل نہیں ہونے دیتے اور اللہ کا پسندیدہ بنائے رکھتے ہیں ورنہ کلمہ تو عبداللہ بن ابی اور یزید نے بھی پڑھ رکھا تھا اور انہیں پیروکار بھی درستیاب ہو گئے تھے۔
مسلمان کہلائی جانے والی اس مخلوق کی فکری ناپختگی کا عالم یہ ہے کہ انہیں کوئی بھی آسانی سے سیکولرز بنا سکتا . سرخہ بنا سکتا، راجہ رنجیت سنگھ اور راجہ داہر کا مداح سرا بنا سکتا ……. یہ طبقہ بہت آرام سے صلاح الدین ایوبی ، محمود غزنوی ، طارق بن زیادہ ، شاہ اسماعیل، علامہ اقبال اور مولانا مودودی جیسوں کو تنقید کے نشتر سے زخمی کر دیتا مگر بھگت سنگھ ، کارل مارکس، لینن، چی گویرا کو اپنانے کے لئے ہر دم تیار ہو جاتا، اسلام اور اسلامی شعائر مزاق بنانے میں ذرا بھی تردد نہیں کرتا مگر دوسرے مذاہب کی حفاظت کے لئے مرےجاتے، انہیں ہندوؤں کا گائے کا پیشاب پینا معیوب نہیں لگتا مگر اذانوں کا لاؤڈاسپیکر پر ہونا معیوب لگتا۔ جب ہمارے بزرگ دعا کیا کرتے کہ اللہ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرنا تو ذہن میں سوال اٹھتا تھا کہ مسلمان ہو کر ایمان پر مرنے کی دعا کیوں مانگ رہے ہیں
اب بات سمجھ آئی کہ کلمہ گو ہونا کافی نہیں درست نظریات اور درست سمت پر ہونا بھی اہم ہے تاکہ مسلمانی کا حق ادا کیا جا سکیں اور اسکے لئے اچھی اجتماعیت ناگزیر ہے۔ گزشتہ دن سوشل میڈیا پر راجہ داہر اور محمد بن قاسم کے ٹرینڈز دیکھے تو خدا کا شکر ادا کیا جس نے جماعت اسلامی جیسی اجتماعیت سے نوازا جس کی بدولت ہمارے لئے اپنے ہیروز کو پہنچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی۔ الحمدللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں