پلٹ آؤ اپنے ربّ کی طرف ! – مسفرہ بنتِ اورنگزیب




”اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔“
(سورۂ الاعراف:96) ……
حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ جب ان پر کوئی عذاب آتا تو وہ موسی علیہ السلام کے پاس جاتے اور کہتے اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ الله کریم ہمارے اوپر سے یہ عذاب ہٹا دے اور اب ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور اللہ کی طرف رجوع کریں گے۔
اور جو فرعون تھا وہ بھی یہی کہتا تھا کہ اپنے اللہ سے دعا کرو لیکن حضرت موسی علیہ السلام کہتے تھے کہ تم لوگ پھر واپس اللہ تعالی کو چھوڑ دو گے اور سرکشی اختیار کرلوگے، لیکن اس کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے تھے۔ پھر جب ان پر سے یہ عذاب ٹل جاتا تھا تو وہ پھر سرکشی اور نافرمانی میں پڑ جاتے تھے ان کا رویہ یہ رہا اس حد تک کہ الله تعالیٰ نے فرعون کے پورے لشکر کو غرق کردیا……. لیکن جب یہی معاملہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے ساتھ ہوا اور ان پر عذاب آنے لگا تو وہ لوگ اتنے خوف زدہ ہوگئے کہ سب نے مل کے الله کو پکارا۔سب اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور کھلے آسمان کے نیچے اللّٰہ کی حمدوثناء بیان کی۔اور اللّٰہ سے کہا کہ الله ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دے اللّٰہ نے ان پر سے یہ عذاب ہٹا دیا تو اس کے بعد وہ لوگ سرکش نہیں ہوئے بلکہ ان کا الله پر ایمان اور بڑھ گیا۔قرآن میں آتا ہے: ”پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہُوا ہو؟
یونس علیہ السلام کی قوم کے سوا(اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔“ (سورۂ یونس:98) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس وقت کیا ہو گا جب پانچ چیزیں تم میں پیدا ہو جائیں گی؟ اور میں اللہ تعالی سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ تم میں پیدا ہوں یا تم ان (پانچ چیزوں) کو پاؤ (وہ یہ ہیں)……. بے حیائی: جسے کسی قوم میں اعلانیہ (ظاہراً) کیا جاتا ہو تو اس میں طاعون اور وہ بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں جو ان سے پہلوں میں نہیں تھیں۔اور جو قوم زکوٰۃ سے رک جاتی ہے تو وہ (در حقیقت) آسمان سے ہونے والی بارش کو روکتی ہے، اور اگر جانور نہ ہوتے تو ان پر بارش برستی ہی نہیں۔ جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط سالی، رزق کی تنگی اور بادشاہوں کے ظلم کا شکار ہو جاتی ہے۔ امراء جب الله تعالی کے نازل کردہ احکام کے بغیر فیصلے کرتے ہیں تو اُن پر دشمن مسلط ہو جاتا ہے جو اُن سے اُن کی بعض چیزوں کو چھین لیتا ہے۔ جب الله کی کتاب اور نبی (ص) کی سنت کو چھوڑتے ہیں تو اللہ تعالی ان کے آپس میں جھگڑے پیدا کر دیتا ہے۔“ (الترغیب ،ج : 3،ص : 169)
آج الله رب العالمین نے ہمیں وارننگ دی ہے۔جو وباء اس وقت پوری دنیا میں پھیلی ہے اللہ رب العالمین کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ہے۔
اپنی طرف پلٹنے والوں کو الله رب العالمین معاف کردیتا ہے۔ ہمیں بھی اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے کیونکہ ہمیں شیطان کا طرزِ عمل نہیں اپنانا،بلکہ الله کے بندے ہونے کا کردار ادا کرنا ہے۔ ”لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔“(سورۂ الانبیآء:1) یہ آیت ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ خود اپنا محاسبہ کریں اور جائزہ لیں کہ میں اپنے رب سے کتنی قریب ہوں۔مجھے کن گناہوں کو چھوڑنا ہے اور کن خوبیوں کو اپنانا ہے۔ اس وقت جبکہ ہمارے پاس فارغ اوقات بھی ہیں،رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ بھی ہے اور پھر یہ وباء ہمیں رجوع الی الله کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ابھی تو ہم اپنے آپ کو الله سے جوڑلیں گے لیکن اس پر ہمیں ثابت قدم رہنا ہے۔ہمیں قومِ بنی اسرائیل نہیں بلکہ قومِ یونس کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ ان حالات کی درستگی کے بعد مجھے اپنے رب سے اپنا تعلق اور مضبوط کرنا ہے !!
پہلے تو ان تمام گناہوں سے چھٹکارا حاصل کریں کہ جس وجہ سے یہ وباء ہم پر مسلط ہوئی۔اور رب سے سچے دل سے توبہ کریں کہ الله توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔قرآن اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنائیں۔کثرت سے استغفار کریں، دعاؤں کا اہتمام کریں، اپنے رب کو ہر معاملے میں یاد رکھیں۔معاملات کی درستگی،گھر والوں کے ساتھ اچھے معاملات کے ساتھ پیش آئیں،دوسروں کی مدد کریںاور اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں۔
وہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے،
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات..!!

اپنا تبصرہ بھیجیں