دور پر فتن – فاٸزہ حقی




پورا ہجوم ایک گھر کے سامنے موجود تھا اور ان سارے حضرات کو دیکھ کر انکی بیچینی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا تھا ۔ وہ سارا ہجوم اس گھر کا دروازہ کھلنے کا نہایت بیچینی واضطراب سے منتظر تھا اور وقتاً فوقتاً دروازہ بجاۓ جارہا تھا تھوڑی دیر بعد اندر سے آہٹ ہوٸ اور ایک مرد بزرگ نے دروازہ کھول دیا ۔
انکے چہرے پر شدید پریشانی کے آثار نہایت نمایاں تھے ۔انہوں نے نہایت بےچارگی سے اس بڑھتے ہجوم کو دیکھا اور درخواست گزار ہوۓ ”اے میری قوم کے لوگو !اپنے رب سے ڈرو ۔آخر تم ایسا کام کیوں کرتے ہو جو آج سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کیا؟ میرے مہمانوں کا اکرام کرو اور انہیں کوٸی ضرر پہنچانے سے گریز کرو”……. اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ ”تجھے پتہ ہے کہ ہم یہاں کیوں جمع ہوۓ ہیں ۔ لہٰذا اپنے مہمانوں کو ہمارے حوالے کردے۔ پھر ہم جانیں اور ہمارا کام“ …… وہ بزرگ حد درجہ پریشانی کے عالم میں اپنی قوم کے افراد کو سمجھانے کی مشقت کرتے رہے لیکن انکی قوم تو ایک سرور کے عالم میں تھی لہٰذا اس نے ان بزرگ کی بات ماننے سے انکار کردیا ۔ پھر انہی مہمانوں نے جو کہ نہایت نوخیز ,خوبصورت لڑکے تھے انہوں نے ان بزرگ کو تسلی دی اور کہا کہ
”آپ کو پریشان ہونے کی کوٸی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم اللہ کی جانب سے بھیجے گۓ عذاب کے فرشتے ہیں جو ان پرعذاب نازل کرنے کیلۓ اسی شکل میں آۓ ہیں ……. جو انہیں لبھا جاۓ ۔ لہٰذا آپ رات ہوتے ہوۓ یہاں سے نکل جایۓ کیونکہ انپرآپکے رب کے عذاب کا کوڑا برسنے کو ہے ۔اس پر وہ بزرگ اپنے ماننے والوں کو لیکر اس بستی سے کوچ کرگۓ ۔اور پھر اس بستی کا بھی وہی حشر ہوا جو میں اور آپ سڑے ہوۓ پھلوں کا کرتے ہیں ۔ ان پر آسمان سے پتھر برسے جو ہر اس بندے پر جالگے جس کے نام کے تھے چاہے انہوں نے کہیں بھی پناہ لے رکھی ہو ۔ اف ذرا تصور کیجۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا صورتحال ہوگی ۔
اس وقت ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں اس کو احادیث صحیحیہ میں دور دجل, فتنے کا دور کہا گیا ہے ۔اس دور میں ہمیں نہیں پتہ کہ سامنے کھڑا بندہ جو کہہ رہا ہے اس میں کتنی سچاٸ ہے اور کتنا جھوٹ…… اس دور میں بھی ذرا ہم پہلے عام آدمی کا جاٸزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ جہاں خداپرست افراد غریبوں کا خیال کرکے انکے راشن پانی کا بندوبست کررہے ہیں وہاں بعض ایسے بھی ہیں جو لوگوں کا راشن اپنے پاس جمع کرکے اس کے پیسے کھر ےکررہے ہیں۔عوام تو عوام خواص کا بی یہی حال ہےانکو خداترس اور مخیر حضرات عام افراد کے لۓ راشن دیتے ہیں جسکو وہ کھول کر اس میں سے ایک ایک چیز نکال کر میڈیا کے سامنے دکھا دکھا کر احسان جتاکر دے رہے ہیں ۔اور یہی چیز ہے کہ جس کے بارے میں پیارے نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا تھا کہ”ہر امت کیلۓ ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے“ لہٰذا ہمیں نظر آنے لگا ہے کہ جسطرح حضرت لوط کی قوم پر وہ خوبصورت لڑکے عذاب بن کر نازل ہوۓ اور انہوں نے قوم لوط کوپتھروں سے کچل کر رکھ دیا…
اسی طرح ہمارے اوپر بھی عذاب کی شکل میں روپے پیسے کی ہوس اس صورت میں نازل ہورہی ہے کہ ہم کرونا کا عذاب سر پر آتا دیکھ کر بھی صرف روپے پیسے کے چکر میں لگے ہوۓ ہیں ۔اور عذاب کی آہٹ بھی محسوس کرنے سے محروم ہیں ۔بس اللہ صاحب اپنی حفظوامان میں رکھیں ورنہ ہم نے بھی کوٸ کسر نہیں چھوڑی اس کو اپنے سر پر پہننے کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں