رمضان ماہ احتساب – افشاں نوید




یہ حقیقت ہے کہ کائنات کچھ طبعی اصولوں کے تحت چل رہی ہے۔ سورج چاند وقت کے پابند ہیں۔ موسم ایک کے پیچھے ایک اسی طرح آتے ہیں۔ جو جس موسم کا پھل ہے صدیوں سے وہی موسم اسکو راس آتا ہے۔ سمندروں کے جواربھاٹے,دریاؤں کے رخ سب کچھ متعین ہیں…… ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کائنات کے کچھ اخلاقی قوانین بھی ہیں۔
انسان دیگر مخلوقات سےعلم کے باعث ممتاز ہے۔ جنگلی مخلوق کے قوانین, مزاج, طور طریقے اور ہیں…… انسان احسن تقویم پر پیدا کیا گیا دنیا کی مہذب مخلوق ہے۔ اس کے لئے قدرت نے اخلاقی قوانین پر بہت زور دیا۔ تاریخ امم بتاتی ہے کہ جب قومیں ان اخلاقی قوانین کو توڑتی ہیں تو قدرت غضب میں آ جاتی ہے۔ قرآن نے بتایا کہ ناپ تول میں گھاٹے پر قومیں تباہ کردی جاتی ہیں۔قوم لوط والی بدکاری کے معاملات پر آسمانوں سے عذابوں کی بارش ہوتی ہے۔رسولوں کی تکذیب پر قومیں نیست و نابود کر دی جاتی ہیں۔ اللہ خالق کائنات ایک حد تک چھوٹ دیتا ہے۔سنبھلنے کا موقع دیتا ہے,تنبیہ کرتا ہے اس کے بعد رسی کھینچ لی جاتی ہے! ایک سادہ سی بات کی طرف آئیے, دنیا کی امامت ان کے پاس ہے جو زیادہ متمدن ہیں,علوم و فنون میں سنجیدہ تحقیق کر رہے ہیں, انسانیت کو آسانیاں فراہم کررہے ہیں, روزوشب جدید ایجادات کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی معاشرتی زندگی کے بہت مضبوط ضابطے بنائے ہوئے ہیں ۔دھوکہ دہی نہیں کرتے ,ملاوٹ نہیں کرتے,عہد کا خیال رکھتے ہیں,ماحول کو صاف رکھتے ہیں اور ریاست سے کیے ہوئے وعدے نبھاتے ہیں۔ لیکن جب غالب اور مغلوب قومیں اخلاقی اصولوں کی دھجیاں اڑانے کے درپے ہو جائیں۔ قحبہ گری کو صنعت کا درجہ دیا جائے,ہم جنس پرستی کو (عوام کے اصرار پر)قانون کی شکل دی جانے لگے….. شراب عام ہو جائے,عورتیں ترقی کے نام پر لباس اتار کے رکھ دیں۔ احسن تقویم پر پیدا کیا گیا اسفل السافلین بن جائے۔۔ خدا بیزار تہذیب کے شجر خبیثہ پھلنے پھولنے لگیں۔ الحاد وانکاریت کا پرچار ہو۔۔۔ جب قوموں کے اخلاقی حوالے اتنے کمزور ہو جائیں کہ تعیلم گاہیں شہوت کے مراکز بن جائے,اسکولوں میں جنسی تعلیم دی جانے۔ گھر ٹوٹ جائیں,خاندان بکھر جائیں ۔ بزرگوں کو معاشرے سے کاٹ کر اولڈ ایج ہوم کی نظر کر دیا جائے۔جہاں وہ مصنوعی دلچسپیوں کے ساتھ اپنے پیاروں کے انتظار میں قبر میں پہنچ جائیں۔ کنواری ماؤں کو ریاست سپورٹ کرے,برتھ سرٹیفکیٹ میں بچے کے والد کا خانہ ہی نہ ہو۔
سنگل پرنٹ کی اصطلاح عام ہوجائے۔ کنواری ماں ہونا بجائے شرمندگی کے اعزاز کی بات ہو۔رحم مادر کراۓ پر دیے جانے لگیں۔ نوجوان اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوں, رشتوں کا تقدس ان کے نزدیک بے معنی ہو۔ جب فطرت کے ساتھ بغاوت کی جائے,ہم اللہ کی دنیا کے نقشے کو بگاڑنے کی ضد پر اتر آئیں,اخلاقی قوانین کی دھجیاں بکھیر دی جائیں,فرد اتنی بڑی چیز ہو کہ دنیا کی کوئی ریاست فرد کی مرضی کے خلاف قانون نہ بنا سکے, بلکہ ریاست ہاتھ جوڑے کھڑی ہو سماج کے سامنے۔ گویا اقتدار اعلی کا مالک انسان اور اسکی خواہشات ٹہریں۔ مغربی اقوام چاہے یہ تحقیق کرتی پھریں کہ کرونا کسی چمگادڑ سے آیا یا لیبارٹری میں تخلیق ہوا ہم بحثیت مسلمان اس پر یقین رکھتے ہیں کہ قرآن نے سابقہ قوموں کے اخلاقی قوانین کی دھجیاں بکھیرنے پر عذابوں کا تذکرہ بے وجہ نہیں کیا۔ یہ بھی کہا کہ دنیا کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ وہ موجودہ لوگوں سے بہتر لوگ لانے پر قادر ہے۔ ویسے تو بحیثیت مسلمان ہم بھی اخلاقی اصولوں کی دھجیاں بکھیرنے میں کچھ کم نہیں۔ کرپشن ہو یا ملاوٹ, اخلاقی گراوٹ ہو یا ڈسپلن کا فقدان۔ہمارا ریکارڈ حوصلہ افزا نہیں۔
اگر ہمارا انجام ان قوموں کے ساتھ ہوا جن کو اللہ عذابوں سے ہلاک کرتا ہے تو پوری قوم ظالم قرار پاتی ہے۔گیہوں کے ساتھ گھن بھی پستے ہیں۔ کرونا ایک آئینہ ہے۔ ایسےمیں نیک لوگ چھان کر الگ نہیں کرلئے جاتے بلکہ نیک لوگوں سے تو زیادہ پوچھا جائے گا یہ کیسا تمہارا ایمان تھا جو مصلے اور تسبیح کے دانوں سے آگے نہ تھا۔ اللہ کی زمین فساد سے بھرتی چلے گئی تمہارے سجدے طویل ہوتے چلے گئے ( وہ سجدے کرنے والے بھی بھی سینکڑوں میں کتنے ہیں)۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں