محاذ – ڈاکٹرعزیرسوریا




تصور کریں کہ سرحد پے ایک محاذ کھلا ہو ……. سپاہیوں کی میتیں روز وہاں سے گھر پہنچ رہی ہوں، لیکن قوم یہ کہہ رہی ہو: کوئی جنگ ہو ہی نہیں رہی، یہ سب حکومت اور فوج کی ملی بھگت سے عالمی سازش کی ایک کڑی کا حصہ ہے بس۔ کل کراچی کے ڈاکٹر فرقان کی کرونا نے جان لی
میں جس ہسپتال میں کام کرتا ہوں وہاں بہت سے اور کیسز کے ساتھ ایک سٹاف نرس اور اس کی والدہ کرونا سے لڑتے رہے اور والدہ جانبر نہ ہو سکیں۔ اموات کو 200 کا ہندسہ چھوتے ہوئے دو ماہ لگے تھے، جبکہ 200 کو 400 بننے میں محض گزشتہ دس پندرہ دن لگے ہیں۔ میڈیا کی پھیلائی ہوئی افراتفری اور چند نادانوں کی پھیلائی سازشی تھیوریوں کے زیر اثر جو تاثرات عوام میں ابھر رہے ہیں وہ یہ ہیں- یا تو کرونا محض سازش ہے-اگر یہ واقعی موجود بھی ہے تو ہسپتال والے کسی خاص پلاننگ کا حصہ بن کر مریض مار رہے ہیں اور جان بوجھ کر دوسری بیماریوں کو بھی کرونا لیبل کر کے میتوں پر کاروبار کر رہے ہیں، اور اس جہالت پر مبنی پروپیگنڈے کے نتائج کیا برآمد ہو رہے ہیں:عوام بتدریج بے احتیاطی پر مائل ہیں، شروع میں جو محتاط تھے اب وہ بھی شک میں مبتلا ہو کر واپس معمول کی سرگرمیوں پر آ رہے ہیں۔ سوشل ڈسٹنسنگ، ماسک کے استعمال بارے غیر محتاط ہوتے جا رہے ہیں
جو کیسز رپورٹ ہو بھی رہے ہیں وہ بس اس لیے کہ حکومت کانٹیکٹ ٹریسنگ کر کے ٹیسٹ کر رہی ہے۔ بہت سے لوگ قرنطینہ اورآئیسولیشن انتظامات بارے حکومتی نا اہلی اور سازشی تھیوریوں کے مشترکہ اثرات قبول کرتے ہوئے ٹیسٹ کروا رہے ہیں نہ علامتیں رپورٹ کر رہے ہیں ۔ نتیجتاً جسے مرض ہے وہ خاموشی سے آگے منتقل کیے جا رہا ہے اور پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے
مجموعی کیسز بڑھنے سے لامحالہ سیریئس کیسز بھی بڑھے ہیں، اور سازش سمجھنے و نہ سمجھنے والے یکساں شدید بیماری میں مبتلا ہوتے ہی مجبوراً آخرکار ہسپتال ہی کا رخ کرتے ہیں، سو یوں ہسپتالوں میں آہستہ آہستہ گنجائش ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے میں بے چینی شدت اختیار کر رہی ہے، جس جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں مورال گرانے والی سازشی تھیوریاں، نیت پر کیے جانے والا مسلسل شک اور اس سب کے دوران اپنی برادری سے آنے والی اموات کی پے در پے خبریں۔ اگر یونہی سلسلہ جاری رہا
ایک کان سے اپنے پیٹی بھائیوں کی اموات کی خبریں، جبکہ دوسرے کان سے “یہ سب سازش ہے جس میں حکومت و ہیلتھ بزنس والے شریک ہیں” والی خرافات سننے کو ملتی رہیں تو ڈاکٹر و عملہ جو پہلے ہی حکومتی پالیسیوں سے تنگ، حفاظتی سامان کی عدم دستیابی سے غیر محفوظ ہو کر بھی کام کیے جا رہا ہے وہ غیر اعلانیہ اور بعد ازاں اعلانیہ کام چھوڑ کر بیٹھ جائے گا۔ یعنی آپ کے مریض ہسپتال جائیں گے، کاغذی کاروائیاں ہوں گی لیکن کوئی قریب آ کر واقعی مینج کرنے پر آمادہ نہ ہو گا۔ ڈاکٹر فرقان کو سینیئر ڈاکٹر ہوتے ہوئے، شہر میں جان پہچان کے باوجود آخری وقت پر وینٹیلیٹر نہ مل پایا۔ یہ خبریں بہت گہرا اثر چھوڑتی ہیں مورال پر، فرنٹ لائن پے بیٹھے بندے کو معلوم ہو کہ آنے والا مجھے سازشی سمجھتا ہے، لاشوں کا کاروبار کرنے والا سمجھتا ہے، پھر اس کا علاج کر کے میں خود بیمار ہو گیا تو مجھے بھی علاج کی کائی سہولت شاید نہ ملے، مرنے کے بعد کہا جائے گا کسی اور بیماری سے مر گیا پر لیبل کرونا کا لگ گیا، تو ایسے میں یہ فرنٹ لائن پے بیٹھے ہیلتھ عملے کے اس آدمی کے پاس کیا دنیوی وجہ رہ جاتی ہے کرونا مریض کی کیئر کرنے کی؟
اس ہفتے کے بعد سے شاید یہ برائے نام لاک ڈاؤن بھی ختم ہو جائے گا۔ حکومت سے کوئی خاص امید مت رکھیں، اپنے ملک کو اس وبا سے چھٹکارا ہم خود ہی اپنی محنت اور اللہ کے فضل سے دلوا سکتے ہیں۔ سازشی تھیوریوں والے مداریوں (جو کہ دراصل بندر ہیں) کے تماشے کا بندر مت بنیے، احتیاط کیجیے اور جن باتوں بارے ٹھیک علم نہ ہو وہ سن سنا کر نہ مانیے نہ آگے پھیلائیے۔ اگر آپ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت نہیں دیں گے تو ان سازشی تھیوری والے کندذہنوں کا یہ گلہ کہ “کرونا کا مریض یا اس سے مرنے والا ہم نے تو نہیں دیکھا اب تک” قدرت بااسانی دور کر سکتی ہے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں