ہمارے لئے دعا کر دو، آپ روزے والی ہو – حمنہ عمر




آج صبح ہی سے سوچ رہی تھی کہ اتنی گرمی ہے، لُو چل رہی ہے……. درجہ حرارت پتہ نہیں کیا ہوگا اور میرا آج کا خواب کیسے پورا ہو گا۔ اتنے میں بھانجا سعود آتا ہے “خالہ کب چلنا ہے گفٹ بانٹنے؟ عبداللہ اور معاذ بھی تیار ہیں”۔ چنگچی رکشہ والے چچا خان بابا بھی گھر کے باہر آ کر ہارن دے رہے ہیں۔ الخدمت کی والنٹیئر ٹیم بھی آتی ہو گی۔
آج حرا آباد کی کچی بستی میں جانا ہے، روزے کی حالت میں چار کلو میٹر چنگچی اور پھر سات آٹھ کلو میٹر پیدل کا سفر، وہ بھی الخدمت کے وزنی تحائف کے ساتھ۔ ……… آج ہمارے پاس چائے کا سامان چینی، پتی، دودھ کے ڈبے، بسکٹ، آٹا اور سویاں ہیں جن کے پیکٹ ہم نے اس غریب بستی میں گھر گھر جا کر تقسیم کرنا ہے۔ سفر مختصر تھا مگر چنگچی کا تھا ۔۔۔ اللہ ہمارے خان بابا کو سلامت رکھے جو ہماری ایک کال پر دوڑے چلے آتے ہیں۔ اس محنتی بھائی ہی کی بدولت ہم عمرکوٹ کے کونے کونے تک پہنچ رہے ہیں۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ ایسے سفر کے آغاز میں دل جذبات اور ولولوں سے لبریز ہوتا ہے، ہم دوڑے پھرتے ہیں لیکن واپسی کا سفر ہمیشہ بوجھل۔ کچھ تھکان اور کچھ لوگوں کی درد بھری کہانیاں ۔۔۔ غربت، جہالت، ظلم، بےبسی اور کسمپرسی …….آج جیسے ہی منزل پر پہنچ کر رکشے سے اترے
خان بابا نے ایک میلی کچیلی لیکن پیاری آنکھوں والی بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہماری ساتھی مومل سے کہا “پہلے اس بچی کو بسکٹ دو” مجھے لگا کہ یہ بچی شاید ذہنی مریضہ ہے۔ ابرش تصویر لینے لگی تو میں نے پوچھا “کیا یہ اسپیشل بچی ہے؟” مومل نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس دوران وہ بچی آگے بڑھی اور ہنستے ہوئے مومل سے لپٹ گئی۔ مومل نے پیار کیا، ہاتھ والا تحفہ اسے پکڑایا۔ وہ مسکرائی اور قہقہہ لگا کر ایک جھونپڑی کی جانب بھاگی۔ سب ہنسنے لگے……… گاوؑں میں اینٹوں کے بھٹے کا ایک مینار دور سے نظر آ رہا تھا ۔۔۔ ہم اس کے ساتھ والے ایک کچے گھر میں جیسے ہی داخل ہوئے، تیز گرم ہوا ہمارا استقبال کیا، اس ہوا میں بھٹے کی موٹی لال مٹی کے ذرات شامل تھے جو چہرے پر جم سے گئے۔ ایک تو آج روزہ کچھ زیادہ لگ رہا تھا اور پیاس کی شدت سے برا حال تھا، اوپر سے اد ہوائی آفت کے بھبھوکے نے حالت غیر کر دی۔ میری ساتھی مومل اور ابرش کے کان میں سرگوشی کی، “آج حمنہ کی حالت بہت بُری ہے” گھر کے ضعیف سربراہ نے ایک بچی کو پانی لانے کا اشارہ کیا۔ مومل نے ان کو بتایا، “ہم مسلم ہیں اور روزے سے ہیں” اس کے بعد مومل نے ہلکی آواز میں دعا کی “اللہ پاک پانی پلا دے یعنی صبر و سکون عطا فرما دے”۔
اس فیملی کو ہم نے الخدمت کے بارے میں بتایا، کرونا کا سمجھایا، احتیاطی تدابیر پر بات کی۔ بھٹے کی کھردری مٹی اڑ اڑ کر ابھی تک ہماری طرف آ رہی تھی۔ اس دوران چند آوارہ کتے شاید ہمارے عبایوں سے گھبرا کر ہم پر بھونکنے لگے۔ ابرش نے ڈر کر چیخ مار دی، جس پر سب گھر والے ہنسنے لگے۔ معمر بزرگ بولے “فکر نہ کریں، اپنے بچے ہیں” پھر انہوں ان کتوں کو کچھ کہا اور وہ خاموش ایسے بیٹھ گئے جیسے ہماری باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ ہم نے جلدی جلدی اس فیملی کو الخدمت کا امدادی پیکٹ دیا اور اس گھر سے باہر نکل آئے۔ اہلخانہ نے ایک کتے کو ہمارے ہمراہ کر دیا جو ہمارے ساتھ چلتا جاتا اور دوسرے ہر کتے سے بچا کر ہمارا راستہ صاف کرتا جاتا۔ اب ہم فاصلوں پر موجود گھروں کی طرف جا رہے تھے۔ یہ کچی جھونپڑیاں ۔۔۔ دھوپ اور بھوک سے مقابلہ کرتے یہ لوگ ۔۔۔ گرم مٹی کی لپٹ اور آگ برساتی لو ۔۔۔
ایسے میں بغیر کسی سہارے جینا کتنا مشکل کام ہے۔ حِرا آباد میں ہندو اور مسلم دونوں ہی آباد ہیں۔ لیکن یہ صرف ہندو یا مسلم نہیں، مزید بیشمار ذات برادریوں میں بٹے ہوِئے لوگ ہیں۔ غربت، جہالت، برادریاں لیکن اس بٹے ہوئے سماج میں بھی مہمانوں کے لئے بہت احترام موجود ہے۔ دل و جان سے عزت دیتے ہیں۔ کچے گھروں اور جھونپٹیوں پر مشتمل اس کے ہر گھر میں دیدہ و دل فرشِ راہ دیکھا۔ پورے بازو پر روایتی چوڑیاں پہنے، شوخ رنگوں کے لباس میں ملبوس خواتین اور بچے ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیتے، درخت کے سائے میں ہمارے لئے چارپائی بچھاتے، چائے پانی کا پوچھتے، ارد گرد جمع ہوتے، محبت بھری نظروں سے دیکھتے، ہمارے ہاتھوں سے الخدمت کے تحائف لیتے۔ شکریہ الخدمت کہتے، اور مزید گھروں میں جانے کے لئے اپنے بچوں کو ہمارے ساتھ بھجواتے۔
اس موقع پر بعض خواتین تو اپنے مسائل بتا کر کہتی “ہمارے لئے دعا کر دو، آپ روزے والی ہو” حیران کن بات یہ تھی کہ دعا کی درخواست اکثر غیر مسلموں نے بھی کی۔ تب بہت پیار آتا جب وہ سب بات مکمل ہونے کے بعد بھی کہتیں ۔۔۔ “گرمی بہت ہے تھوڑا سا پانی پی لو”……کچے کوٹھے سے جھونپڑی اور جھونپڑی سے کچے کوٹھے کا سفر جاری رہا۔ ہماری الخدمت ٹیم کے ساتھ میرے تینوں ننھے مجاہد بھانجے تھے جو کبھی تو ہمارا بوجھ بٹانے کو ڈبے اٹھا لیتے اور کبھی آگے آگے تیز قدموں سے سینہ پھلا کر ایسے چلتے ہیں جیسے وہ آوارہ کتوں کو پیغام دے رہے ہوں کہ “ہم ہیں الخدمت خواتین کے محافظ” تپتے ریگستانی علاقوں میں سایہ اور ہوا کے جھونکے کسی ایئر کنڈیشنڈ ماحول سے کم نہیں ہوتے اور ان جھونپڑیوں کے سائے تلے ہمارے پسینے اور ہوا کے امتزاج سے ایسا ہی یخ بستہ ماحول بن جاتا رہا۔ اس بستی کے بیشتر لوگوں کو سروے کرنے والے سیاسی یا سرکاری لوگ کچھ پرچیاں سی دے گئے ہوئے ہیں اور ساتھ کہہ کر گئے ہیں کہ تم عمر کوٹ شہر آنا اور ہم سے راشن لے جانا یا شناختی کارڈ کی کاپی لے گئے ہیں کہ ہم سرکاری امداد مبلغ 12000 روپے لیکر دیں گے۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی غربت کے باوجود اپنے خرچے پر کئی کئی بار شہر کے چکر لگا چکے ہیں لیکن ہر بار خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑتا ہے۔ واپسی پر خان بابا کی چنگچی پر بیٹھتے ہوئے سوچتی رہی کہ وہ لوگ جو پرچی دینے آئے تھے، راشن دینے بھی تو آ سکتے تھے۔۔۔ اور ان ہندو عورتوں کی درخواست یاد آتی رہی جو کہتی تھیں، “ہمارے لئے دعا کر دو، آپ روزے والی ہو” ۔۔۔
میرے اللہ! میری جماعت اسلامی اور الخدمت کا بھرم و بھروسہ قائم رکھنا

اپنا تبصرہ بھیجیں