بچپن کی عید _ شہلا خضر




زندگی میں جب بھی بچپن کی یادیں آئیں تو چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ضرور لے آتی ہیں۔ ہمارا بچپن بھی اسی طرح کی شوخ چنچل اور معصوم یادوں سے بھرا پڑا ہے۔
رمضان المبارک میں اپنے بچوں کی روزہ رکھنے کی ضد ہمیں اپنے بچپن کے اس دور کی طرف لے جاتی ہے جب ہم ابھی روزہ رکھنے کی عمر میں نہیں پہنچے تھے مگر اگر ہماری آنکھ سحری کے وقت اتفاقاً کھل جاتی تو ضد کر کے روزہ رکھتے۔ والدہ صاحبہ بہت محبت سے ہمیں سمجھاتیں کہ چھوٹے بچوں کا آدھے دن کا روزہ ہوتا ہے، کیونکہ ﷲ تعالی بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں تو اس لیے بچوں کے روزے بھی آسان رکھے گئے ہیں۔ پھر دوپہر میں ہماری خاطر سپیشل افطاری بنائی جاتی۔ اس طرح روزہ رکھنے کا شوق بھی بر قرار رہتا اور کمسنی میں طبیعت پر زیادہ گراں بھی نہ گزرتا۔
تراویح کا بھی خصوصی اہتمام ہوتا۔ بڑے بھائی تو والد صاحب کے ساتھ مسجد جاتے اور امیّ جان، باجی اور پھپھو سب صحن میں جائے نماز بچھا کر نماز و تراویح ادا کرتے۔ ہماری بڑی اہم ڈیوٹی لگائی جاتی وہ یہ کہ ماچس کی تیلیوں پر سب کی تراویح گنتے جائیں اور یہ دلچسپ کام کرتے ہوئے خود کو بڑا معتبر سمجھتے۔ اپنی گڑیا کے کچن سیٹ کی پتیلی میں تیلیاں جمع کرتے۔ کبھی باجی کی گنتی غلط ہو جاتی مگر میری گنتی پر سب کو بھروسہ تھا کیونکہ میں نے دو الگ رنگ کی پتیلیاں رکھی تھیں، ہری پتیلی میں پڑھی گئی تراویح اور لال میں نہ پڑھی گئی تراویح کی تیلیاں۔
عید کے کپڑے ہمیشہ تیار ہونے کے بعد ہمارے سپرد کئے جاتے، ہمارے بچپن میں بچوں سے ان کی مرضی کا رنگ اور ڈیزائن پوچھنے کا کوئی خاص تصور نہیں تھا۔ والدین جو بھی دلواتے ہم اسے حاصل کر کے دل خوشی سے باغ باغ ہو جاتا۔ ان سادے سے رنگ برنگے کپڑوں کی ملکیت ملنے پر ناقابل بیان خوشی محسوس کرتے۔ اس خوشی کی جھلک آج کے بچوں کو ان کی پسند اور خواہش کے مطابق سب کچھ دلوانے کے بعد بھی نہیں دیکھتی۔ ہم اپنے عید کے جوڑے اور چپلوں کو امی جان کی نظر سے بچا کر، کئی بار چپکے سے نکال کر سراہنے کے بعد احتیاط سے واپس رکھ دیتے کیونکہ امی جان کا کہنا تھا کہ”بار بار کپڑوں کو دیکھنے سے ان کا نیا پن ختم ہو جاتا ہے”
ایسے پیارے چمچماتے جوتے اور چمکتا دمکتا لباس پہننےکا موقع ہمیں عید کو ہی ملتا تھا۔ آج ہمارے بچوں کی نظروں میں شائد اسی لئے ہر چیز کی قدر و قیمت ختم ہو گئی ہے کیونکہ ہم ان کی ہر خواہش زبان پر آنے سے پہلے ہی پوری کر دیتے ہیں۔ عید کا تہوار ہو اور عید کارڑ نہ دیے جائیں یہ تو ناممکن بات تھی۔ ہمارے بچپن میں فرداً فرداً، درجہ بہ درجہ ہر رشتہ دار کو کارڑ دینے کا رواج تھا جبکہ کارڑ نہ دینا معیوب تصور کیا جاتا تھا۔ دوسرے شہروں میں رہائش پزیر رشتے داروں کیجانب سےعید سے دس روز پہلے سے کارڑ آنے کا سلسلہ جب شروع ہوتا تو چاند رات تک ڈاکیا چاچا کو عیدی دے کر کارڑز کی آخری کھیپ وصول کرنے پر ختم ہوتا۔ کارڑز پر دلچسپ اشعار لکھنا بھی اہم حصہ تھا مثلاً
ڈبے پہ ڈبہ ڈ بے میں کیک
میری دوست شازیہ لاکھوں میں ایک
نوٹ: دوسرے فقرے میں دوست کا نام تبدیل کر کے سب کو یہی شعر بجھوا دیتے۔
چاول چنتے چنتے نیند آگئی
صبح اٹھ کے دیکھا تو عید آگئی
آجکل کے بچے ان عید کارڈز کی روایات سے محروم ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ موبائل نے لے لی ہے۔ آج انٹرنیٹ پرموجود ہزاروں میل دور بسنے والوں کو توعید کے پیغامات بجھوانے کا وقت دستیاب ہے مگر پڑوس کے افراد سے سلام و دعا کرنے کی بھی فرصت نہیں۔ چاند رات ہزاروں خوشیاں لے کر آتی۔ امی جان دادی کے خاندانی شیر خرمہ اور عید کی نماز کے کپڑوں کی تیاری میں مگن ہو جاتیں۔ باجی گھر میں مہندی کا عرق تیار کرتیں اور تنکے سے ہم سب کی ہتھیلیاں سجاتیں۔ عیدی کے تازہ نوٹ اپنے چھوٹے سے بٹوے میں جمع کرنا عید کے روز سب سے اہم مشن ہوتا۔ دس روپے کے ہرے رنگ کے نوٹ کی عیدی ہمیں دل و جان سے زیادہ عزیز ہوتی۔ آج ہمارے بچے جیب خرچ میں اتنے زیادہ پیسے لیتے ہیں کہ اب ان کی نظر میں 500 یا100 کی عیدی کی وہ اہمیت نہی جو اس وقت کے 10 روپے کے نوٹ میں تھی۔
ہمارے بچپن میں محلے کے سب افراد ایک دوسرے سے واقف ہوتے کیونکہ اس زمانے میں سارا وقت موبائل اور انٹرنیٹ پر صرف نہیں کیا جاتا تھا۔ عید کے روز بھی ہم اپنی تمام سہیلیوں کے ٹولے کے ساتھ ایک دوسرے کے گھر عید مبارک کہنے جاتے اور خوب عیدی جمع کرتے۔ “چیز” والی دکان سے ڈھیروں من پسند اشیاء خریدتے اور مل کر”پارٹی” کرتے۔ شام کو چچا جان کی فیملی آجاتی اور سب مل کر پر تکلف دعوت سے لطف اندوز ہوتے۔ ہم سب کزنز مل کر دالان میں “پکڑن پکڑائی” کھیلتے۔ یوں ہنستے کھیلتے اور اپنوں کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہماری”بچپن کی عید” کا اختتام ہوتا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے بچپن کا دور ہو یا آج کی جدت کا، عید کی اصلی خوشی تو اپنوں کے ساتھ منانے میں ہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں