منفی سے مثبت کا سفر – فریحہ مبارک




براہ مہربانی احتیاط کریں !!
کل سے اب تک پانچ جاننے والی فیملیز کا کورونا پازیٹو سن چکی ہوں ۔لیکن عوام کی اکثریت کے ماسک اتر چکے ہیں۔۔ احتیاطی تدابیر کو خاطر میں نہ لانے کا غیر ذمہ دارانہ رویہ عروج پر ہے،لوگ کہہ رہے ہیں جب عید پر ہاتھ ملا لئے تو اب گلے ملنے میں کیا مضائقہ ہے۔۔بزرگوں کے معاملے میں بھی احتیاط کم ہو گئی ہے،۔۔گھروں میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔
اس صورتحال میں کچھ یادہانی کی وہ باتیں ہیں،جن سے ہم متاثر ہو سکتے ہیں !
کرنسی نوٹ ضرور سینیٹائز کریں۔سبزیاں ،پھل خرید کر۔ میٹھا سوڈا ملے پانی میں ایک گھنٹہ رکھیں،
جوتے باہر اتاریں ۔اگر اندر لے ہی آئے ہیں تو دھو کر ریک میں رکھیں ،
بچوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں ،
باہر جانا ناگزیر ہو تو واپس آکر اپنا عبایا، اسکارف دھوئیں،
سامان کے شاپرز کو ضائع کر دیں،
گھر میں اپنا گلاس استعمال کر کے دھونے اور دھو کر استعمال کرنے کی عادت کا پابند بنائیں ،جب سب مل کر یہ کام کریں گے تو پورے گھرانے کا مزاج بن جائے گا ،گھر میں بار بار وبا کے خوف کی بجائے آزمائش کی بات کریں ،اور صبح شام کی دعا ؤں کو رب سے تعلق کا ذریعہ بنائیں ,گھر میں بیٹھ کر بچوں کو حفظ قرآن اور ترجمہ وتفسیر کے ساتھ تاریخ اسلام کے مطالعے کی طرف مائل کریں۔۔بچوں کو کوئی ایسا مفید ہنر سکھائیں کہ وہ اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔۔۔۔گھر کے ہر بچے کو کسی ایک کام،ہنر یا ڈش بنانے میں ماہر بنائیں تا کہ بوقت ضرورت ہماری مدد بھی کر سکیں اور مشکل وقت اپنی اور گھر والوں کی مدد بھی کر سکیں ۔۔۔
لڑکیاں اس وقت گھروں میں بالکل بند ہو کر رہ گئیں ہیں ،ان کے لئے بھی کچھ اچھی صحت مند سرگرمیاں تلاش کریں۔۔۔گھر کے کاموں میں شریک کریں ۔۔گھر میں رہنے اور سرگرمیاں نہ ہونے سے موٹاپے کا شکار بھی ہو سکتی ہیں اس لئے انھیں بھی گھر میں ،ورزش اور واک کا پابند بنائیں ، جو لڑکیاں12/13/14/15سال کی ہیں,ان کے لئے آداب زندگی کے اسباق بیٹھ کر تفصیل سے سمجھائیں،(جن آداب کا تعلق گھر اور لڑکیوں سے ہو)،گھر کے کاموں میں ذمہ داریاں تقسیم کریں مثلا ایک جوڑا ابو کا استری کرنا ،دو تین روٹیاں پکانا،چٹنی بنانا،لاؤنج یا کسی ایک کمرے کی اچھی سی صفائی،رات کچن صاف کر کے سونا ،ایک باتھ روم کی صفائی ۔۔۔اگر مددگار ملازمہ موجود ہے تو بچیوں کی نگرانی میں ان سے کام کروانا ۔۔۔روز نئی ڈش بنانے سے زیادہ ایسے کام کروائیں جن سے جسم حرکت میں رہے ۔۔۔۔
اس وقت ہمارا اصل مقابلہ موبائل سے ہے ،جس نے نسلوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے,بچوں سے حساب لگوائیں کہ آج کتنا وقت موبائل نے لے لیا ، ایک دن چھوڑ کر ایک دن موبائل کے بغیر گزارنے پر آمادہ کریں،موبائل فری دن کو خوب کامیاب تعمیری دن بنائیں رفتہ رفتہ وہ خود فیصلہ کریں گے کہ موبائل کے بغیر کتنے اچھے کام ہو گئے۔اور جس دن موبائل میں لگے رہے وہ دن کتنا ہمیں پیچھے لے گیا ۔۔۔۔گویا لگنا پڑے گا ۔کھپنا پڑے گا ، ایسا نہ ہو ہم بھی زبان کے چٹخاروں میں ،کھیل تماشوں کی دنیا میں مگن ہو جائیں ۔۔۔امید ہے اس مشکل گھڑی کے گزرنے کے بعد،اس کورونا وبا کے گزرنے کے بعد ہمارا جنت کی طرف دوڑنے والا ٹیسٹ مثبت آئے گا۔۔ ان شاءاللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں