صدر اردوغان نے ترکی میں کیا کیا؟ _ عالم خان




لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ اردوغان ترکی میں کیا تبدیلی لائے شاید ان کو علم نہیں کہ دنیا میں مختلف سرکاری وغیر سرکاری ٹیلی ویژن چینلز پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے نام سے میوزک وغیرہ کے مقابلے کیے جاتے ہیں اور سب سے بہترین گائیک کو نقدی اور مختلف میوزک کمپنیوں کا کنٹریکٹ مل جاتا ہے۔
لیکن اردوغان کے سیکولر ترکی میں اس کے بالکل برعکس ہر سال رمضان میں قرآن کریم کی تلاوت کے بہترین قاری ڈھونڈنے کے لیے اس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں نوجوان نسل جوق درجوق شرکت کرتی ہے اور یہ مقابلہ تروایح کے بعد تا سحری ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے جس کو مرد وخواتین اتنے ہی شوق اور پابندی سے دیکھتے ہیں جتنے شوق سے آج کل پاکستانی ارطغرل کو دیکھتے ہیں۔ اس مقابلے کو پورے رمضان میں نہ صرف سرکاری ٹیلی ویژن سے ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے بلکہ اس کے آخری پروگرام میں رجب طیب اردوغان خود شرکت کرتے ہیں اور اپنی بہترین آواز میں تلاوت قرآن بھی کرتے ہیں جس سے شرکاء محظوظ ہوتے ہیں۔
مقابلے کا اختتامی پروگرام [۲۷] ویں رمضان کی شب کیا جاتا ہے اور سعادت کی بات یہ ہوتی ہے کہ جیتنے والے کے نام کا اعلان صدر مملکت خود کرتے ہیں اور ساتھ نقد انعامات اور گولڈ میڈلز سے نوازتے ہیں۔ اس سال کورونا کے باوجود اس مقابلے کا انعقاد کیا گیا جس میں پورے ملک سے تھیٹر راؤنڈ کے لیے [۱۳۲] حفاظ کرام کا انتخاب کیا گیا تھا حسب معمول ججز اور عوام کے ووٹ پر فائنل راؤنڈ میں سات حفاظ کرام پہنچ گئے تھے جب کہ رجب طیب اردوغان نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حالات کے پیش نظر ویڈیو کانفرنس کے زریعے خطاب کیا اور تلاوت قرآن پاک کے مقابلے کو جیتنےوالے تین خوش نصیبوں کے ناموں اور انعامات کا اعلان بھی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں