دورِ حاضر کے کارٹونز اور فتنہ دجال – فائزہ حقی




ہمارے بچپن میں کتنے معصوم معصوم کارٹونز آتے تھے اور ہماری دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ ٹیوی چینل ایس ٹی این سے بمشکل آدھا گھنٹے کا کارٹون آتا تھا……….. سات بجے سے ساڑھے سات بجے تک …….. اور اس آدھا گھنٹے کا انتظار پورے دن رہتا تھا ۔ ان کارٹونز میں “بےبی لونی ٹونز”, “ٹام اینڈ جیری”, “پوپاۓ… دا سیلرمین” اور اس قسم کے روسرے ہلکے پھلکےکارٹونز شامل تھے ۔
جنہیں دیکھ کر بہت مزہ آتا تھا اور دل چاہتا تھا کہ ابھی مزید بھی کارٹونز دیکھتے رہیں ۔ پھر انکا دورانیہ بڑھا دیا گیا اور مختلف قسم کے کارٹونز نے اپنی کریہہ اور مکروہ شکلیں دکھانی شروع کردیں ……. اس میں “وہاٹ آ کارٹون شو” کے نام سے عجیب مکروہ قسم کے کارٹونز آنے لگے لیکن کیونکہ کاٹونز دیکھنے کا شوق ترقی پر تھا….. لہذا اس قسم کے کارٹونز بھی دیکھ ہی لۓ گۓ ۔ اب حساب یہ ہوگیا کہ کارٹونز ہی کے زریعے سارے کا سارا دجل دماغوں میں انڈیلا جانے لگا ۔ لیکن کیونکہ یہ کڑوی نیند کی گولی گلاب جامن میں لپیٹ کر دی گئ تھی …….لہذا گلاب جامن کے شوقین اسے بھی آرام سے ہڑپ کرنے لگے حتی کہ انہی معصوم کارٹونز میں ایک آنکھ کا مندر دکھایا جانے لگا .اس کو سجدہ کرتی مخلوقات اور اس سے استفادہ حاصل کرتے لوگ ۔ لیکن الحمد للہ ……دوسری طرف کالج میں مختلف مکمل طور پر مذہبی دماغ کی حامل طالبات کے ساتھ دوستی نے سکھا دیا کہ مسلمان ہر چیز کو اپنے مذہب کی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔
سو…… کارٹونز کا نشہ ہرن کرنے کو یہ گیدڑ سنگھی کافی تھی لہذا اس کاٹونز کے پردے میں لگایا جانے والا طوق نظرآنا شروع ہوگیا ۔ موجودہ دور کے بچوں پر اگر تھوڑی سی توجہ دیں تو بالکل واضح نظر آتا ہے کہ وہ کارٹون مینیا کا اسطرح شکار ہوچکے ہیں…. کہ اب کوئی سنجیدہ سے سنجیدہ بات بھی انہیں متاثر نہیں کرپاتی……. وہ ہر وقت ایک یوٹوپیا ہی کی کیفیت میں رہتے ہیں. اس یوٹوپیائی کیفیت سے بہت کم بچے اور نوجوان محفوظ ہیں اور اب ذرا ہم غور کریں تو وہ معصوم معصوم سے کاٹونز بھی اپنا چولا پھاڑ کر اصلیت میں آچکے ہیں ۔ ہر کارٹون کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اب بنانے والے کو علم ہوچلا ہے . اب وقت بہت تھوڑا ہے……. لہذا جو کرنا ہے اب اس کے فوائد سمیٹ لۓ جائیں ….. یعنی؟؟ ہم سے زیادہ ہماری تاریخ سے بنی اسرائیل واقف ہیں ۔ وہ سو سال آگے کی سوچ رکھتے ہیں ۔انکے وہاں اگر آپ کو علم ہو تو انکی بنا ئ گئ ساری لگژری کی چیزیں مکمل طور پر بین ہیں جو ہمارے یہاں عام استعمال میں ہوتی ہیں۔
ہم یہ بھی سوچیں کہ آخر وہ ہمارے لۓ اتنی چیزیں بنا کر ہمیں کیوں سپلائی کرتے ہیں ……. جب کہ انکے اپنے بچے بیچارے انہی چیزوں کو ترستے ہیں جو ہماری اولاد کو وافر مقدار میں مل جاتی ہے؟؟ ہمیں یہ پتہ چلا کہ موبائل کے سارے نیٹ ورکس جو ہمیں لیٹ نائٹ فری پیکجز دے رہے ہیں ۔ لیکن یہودی اور انکے بچے اس آسانی سے بھی محروم ہیں ؟ یہ سارے کارٹونز جو ہم پورا پورا دن لگا کر مستفید ہوتے ہیں ان کیلۓ بھی انکے پاس ٹائم تھوڑا ہی ہوتا ہے …… کیوں ؟ موجودہ صورتحال چیخ چیخ کر انتباہ کررہی ہے کہ سنبلنے والو سنبھل جاؤ کہ مسیحا کی آمد آمد ہے ۔اس کے ماتھے پر لکھا لفظ صرف ان آنکھوں کو نظر آۓ گا جنکی بصیرت کی نگاہ ہوگی ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ نہ کرے کہ ہم بھی اسی ریلے میں بہہ جائیں جو کہ دجال کواپنا خداماننے پر تیار ہوجائیں گے ۔ ہمیں اپنا آپ اور اپنی اولاد کو تو اس فتنے کے دور میں فتنوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی ہی ہے ۔انشاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں