پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا




مکہ کے بازاروں میں رونقیں سجی ہیں تجارتی قافلوں کی آمدورفت جاری ہے ایسے میں کوئی قافلے والوں کے پاس جا جا کر کہتا ہےکہ سنو یہاں ایک شخص نبوت کا دعوی کررہا ہے وہ بلکل جھوٹا ہے تم لوگ اسکے جھانسے میں مت آجانا وہ جادوگر ہے جو اسکی سن لیتا ھے وہ پھر کسی کی نہیں سنتا ۔۔۔

اوراسی طرح کےایسے بہت سے الزام اورآنے والوں کو نبی وقت سے خوفزدہ کر دینے کی پوری کوشش مگر کرشمہ قدرت تو یہ ہوا اپنی اس سعی میں وہ دراصل اس صادق اور امین ص کی مدد کر رہے تھے اور اب توہرآنے والے کے دل میں یہ اشتیاق پیدا ہوجاتا کہ میں بھی تو دیکھوں آخر وہ کون ہے جو اتنے دعوی کر رہا ہے ۔۔۔۔۔

اسی کو رب العزت نے کچھ یوں بیان کیا،

وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِين-
وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور الله اپنی چال چل رہا تھا اور الله سب سے بہتر چآل چلنے والا ہے. الانفال ٣٠ —

اور فرمایا

وَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّوا۟ شَيْـًۭٔا وَهُوَ شَرٌّۭ لَّكُمْ
قریب ہے کے کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمھارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کے کوئی بات پسند آیے اور وہ تمھارے حق میں بری ہو.   البقرہ ٢١٦ —

پھر یہی نہیں خدا کے دشمنوں,  نبی کے انکاری اور جھوٹے ایمان والے منافقین نےہرہر موقع پر اللہ والوں کو جھوٹے بہتان لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جس کی ایک بد ترین مثال واقعہ افک ہے ۔۔

اور آج ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی یہ اور ان کے حواری اسی طرح الزامات اور بہتان لگا کے راستی کے سپاہیوں کو حق سے روکتے ہیں، آج بھی ویسے ہی عبداللہ بن ابی کے جانشین اور اس کو لےکر پوری وفاداری کے ساتھ آگے پھیلاتا ہوا میڈیا اس وراثت کا پورا حق ادا کر رہا ہے اب یہی دیکھ لیجیے کے آزاد میڈیا نے کل سے ایک طوفان کھڑا کر رکھا ہے جمیعت کےکارکنان کے کمروں سے شراب کی خالی بوتلیں اور ایک گولی کی برآمدگی دیکھا کر ۔۔۔
جی یہ وہی آزاد میڈیا ہے اور یہ وہی آزاد صحافی ہیں جو بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں کا کھیل کھیلنے والوں کو آج تک نامعلوم سے معلوم تک کا سفر نہیں طے کرا پائے —
اور آئے دن ان جماعتوں کے سرگرم کار کنوں کو پولیس اور رینجرز بھارتی اور غیر ملکی جدید اسلحے سمیت گرفتار کر رہی ہے مگر ہمارا ایماندار میڈیا ایک سیاسی جماعت سے آگے نام نہیں لے پاتا کیوں کہ اس کی ٹانگیں کانپنی شروع ہو جاتی ہیں انہیں اپنے ولی بابر اور اس واقعہ کے آٹھ گواہوں کا انجام یاد آجاتا ہے اور پھر بوری تو بوری ہوتی ھے ناصاحب
اس لیے جو تمہیں پتھر بھی نہ مارے اس پر جو مرضی الزام لگاو جو مرضی برآمد کرواو کہ تمہیں کون روک سکتا ہے
اورشراب کی بوتلیں ہی کیا آپ تو صاحب یہاں پوری فیکٹری برآمد کرواسکتے تھے جیسے یہاں شراب کشید کی جاتی ہو ۔۔۔۔ کہ

جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے

ایسا ہی ایک طوفان ابھی کچھ دن پہلے بھی امیر جماعت کے ایک ٹی وی شو میں کیے گیے سوال پر اٹھایا گیا تھا ایسے ہی میڈیا نے ڈالر حلال کیے تھے اور اس بہتی گنگا میں چند ایک کے سواء ہر ایک نے ہی اپنے ہاتھ دھوئے تھے ۔۔۔

مگر میں اسے ذرا اور زاویے سے دیکھ رہی تھی یہ وہی میڈیا تھا جو جماعت کے بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں کی جمعیت کے کالج یونیورٹیوں میں بڑے بڑے ایونٹ کی ہلکی سی بھی جھلک دکھانے پر آمادہ نظر نہیں آتا تھا ۔۔
جبکہ دوسری طرف چار چار گھنٹہ کے لائیو کامیڈی شو کے درمیان ان کو وقفہ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی کہ ۔۔۔۔۔
انجام ولی بابر یار آجاتا ہے ۔۔۔ اور یہ بیچارے دم سادھے چپکے بیٹھے رہتے ہیں–
یا کمرے میں بند بے بی بھٹو کی وہ تقریریں جو ایسا لگتا ہے جیسے سامنے کسی بہت بڑے جلسے کی ویڈیو لگا کر کراوائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
مگر دیکھیے کہ اب وہی میڈیا کیسے بار بار اپنی زبان سے کچھ دن پہلے جماعت اسلامی جماعت اسلامی کی اور اب جمیعت جمیعت کی تسبیح پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔
اور وقت نے ثابت کر دیا کہ امیر جماعت کے خلاف بنائے گئے اس محاذ نے ان کی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ۔۔۔ اور آج بھی انشاءاللہ یہ ثابت ہونے جارہا ہیے کہ جمعیت کے کردار سے خوفزدہ ہو کر اس پر کیچڑ اچھالنے والے دراصل جمعیت کی مقبولیت میں اضافہ کا باعث بن رہیں کہ ۔۔۔۔

. جمیعت کے کردار سے کون واقف نہیں کہ یہ کوئی دو چاربرس کی بات نہیں آدھی صدی کا  بے داغ سفر ہے جو جمیعت طے کر چکی ہے اور آج بھی اپنے دامن کو پاکیزہ تر رکھے ہوئے ہیں جسکو صرف اپنوں نے ہی نہیں بلکہ غیروں نے بھی برملا تسلیم کیا ہے ۔

کسی نے کیا خوب کہا کہ

  الزام بھی لگاتے تو کوئی ایسا تو لگاتے کہ اٹھارہ کروڑ میں سے اٹھارہ کو تو یقین آتا ۔۔۔

اسے موقعوں پرہی اللہ اپنے پیارے بندوں کو خود تسلی دیتے ہوئے فرماتا ھے ہیکہ غم نہ کرو نہ ہی مایوس ہو کہ تم ہی غالب رہوگے

اور راستی کے سپاہیوں تم کو یقین ہونا چاہیے کےبے شک وہ رب کریم  شر میں سے خیر برآمد کرنے پہ قدرت رکھتا ہے.

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا” ایک تبصرہ

  1. بلکل درست لکھا آپ نے کے باکردار نوجوانوں کے اوپر اتتا گھٹیا الزام لگانے والے یہ منافقین ہی کہلانے کے مستحق ہیں جمیعر کا نوجوان تو قران کا قاری ہو سکتا ہے حافظ قران ہو سکتا ہے اسلام اور پاکستان کی خآظر گردن کٹوا سکتا ہے، ایسے باکردار نوجوانوں پر ایسے الزامات، انشاللہ جمیعت پہلے کی طرح پھر سرخرو ہو گی،

اپنا تبصرہ بھیجیں