بڑے کرم کے ہیں یہ فیصلے، بڑے نصیب کی بات ہے! – اسریٰ غوری




‏زندگی جا مدینے سے ……. جھونکے  ہوا کے لا
شاید حضورﷺ ہم سے خفا ہیں …. منا کے لا
صل اللہ علیہ والہ وسلم

بڑے کرم کے ہیں یہ فیصلے ….. بڑے نصیب کی بات ہے!

پچھلے چار برس سے یہ آج کی رات منیٰ جانے کی تیاری میں گزرتی …… حاجیوں کی بریفنگ تیاریوں سے عزیزیہ کی بلڈنگ میں ساری رات رتجگاہ ہوتا . پورے مکہ میں رات ہی سے قافلے منی جانا شروع ہوجاتے ……. دو چادروں میں لپٹے لاکھوں عاشقانِ رب لبیک کی صدائیں لگاتے اک الگ ہی دنیا کا منظر پیش کرتے……

خاندان ابراہیم علیہ السلام کی وفا کی سنت کو دہرانے کے لیے دیوانہ وار دوڑے جاتے….!
آج خالی حرم …..ابن آدم سے رب کی خفگی اور اس بندش پر نوحہ کناں ہے ….! آج مکہ کی خالی ویران گلیاں بشر کی اس خطا پر حیران و پریشان ہیں…….! آج منی کے خیمے اپنے مہمانوں کا انتظار کررہے…. چند اک خوش

نصیبوں کے سواء سب روک دئیے گیے …. ! سینکڑوں سالوں میں کبھی ایسا نہ ہوا؟؟؟ مکہ کی گلیاں آج کے دن لاکھوں عاشقین کی صداوں سے گونج رہی ہوتی ہیں . ہم سے ایسا کیا سرزد ہوا کہ ہم پر اس نے اپنا در ہی بند کردیا….. ماں بھی بیٹے پر اپنا در کبھی بند نہیں کرتی.. ہمیشہ آس لگایے رکھتی کہ اب لوٹ آئے گا. وہ جو ستر ماون سے زیادہ پیار کرنے والا !!! وہ کیسے اتنا خفا ہوا….. اس نے رمضان میں اپنے گھر کا دروازہ ہم پر بند کیے رکھا. ہم نہ سدھرے ….! ہم نے اسے منانے کی فکر نہ کی ، اس نے حج میں بھی ہمیں روک دیا…….

دل ہے کہ غم سے پھٹا جارہا ……. آنسو ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے…..
یارب… ہم پر اپنا در مت بند کر یارب. ہم کہاں جائینگے… مالک …..! ہم گناہگار سیاہ کار مالک جیسے بھی… مگر ہیں تو تیرے ہی نا… تیرے سواء کوئی رب نہیں . تیرے در کے سواء کویی در نہیں ….! اک تیرا در ہی تو ہے جس سے لپٹ کر رونے سے غم سے بھرے دلوں کا قرار اجاتا ہے..
جہاں سجدوں سے روح تک میں ٹھنڈک اتر جاتی.. تیرے حبیب کے در پر حاضری دنیا کے ہر دکھ کو بھلا دیتی…..

یاربی… یاربی معافی یاربی معافی…. اب راضی ہوجا مولا راضی ہوجا ہم سے… کہ ہمارا تیرے سواء کوئی مولا نہیں… ہمیں یوں نا دھتکار … ہم پر اپنے در مت بند کر. مالک…! ہمیں پھر سے آنے کا اذن دے دے . یاربی ،
یاربی …..!

اپنا تبصرہ بھیجیں