سرعام ٹانکتے کیوں نہیں ان خنزیروں کو – اسریٰ غوری




مسجد میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کو ناچ گانے کے لیے جواز نہیں بنایا جاسکتا ….. ہم نے کہا ، صبا قمر اور بلال سعید نے غلط حرکت کی معافی مانگیں ………آئندہ اجتناب کریں بس …….. مگر ہم ان درندہ خنزیروں کے لیے کہتے ، ان کو تیزاب کے ڈرم میں ڈالو سرعام لٹکاؤ …… مگر سوال تو یہ ہے کہ کون ان کا ساہو کار بنا ہوا ہے ؟؟؟
حکومت میں بیٹھے بھیڑیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں . ان جیسے درندوں کو بچانے کے لیے …… اسمبلی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کے لیے پھانسی کی سزا ختم کرنے بل پیش ہوتا تو اسمبلیوں میں بیٹھے سارے خنزیر اک لائن میں لگ کر اسکو پاس کرواتے ہیں …….. تین مولوی وہاں چلاتے رہ جاتے ہیں . یہ معصوم بچوں کے قاتل ہیں . انکو پھانسی ہونی چاہئے ….. ان کو پھانسی ہونی چاہیئے …… مگر انکی آواز سینکڑوں ساہوکاروں کی آواز میں دب جاتی ہے ……. کیوں کہ ان میں بڑے بڑے درندے بیٹھے ہیں جنکو اپنی گردنوں میں پھندا دکھائی دیتا ہے …..مگر کون کرے کون؟؟؟؟
ہے کوئی سوال کرنے والا کہ کیوں انکو نہیں ٹانکا جاتا ؟؟؟ زیادتی کرنے والا مسجد کا مولوی ہو یا کالج کا ماسٹر …… سب کو ٹانکو سب کو، سرعام ٹانکو ….. مگر خدا کے لیے مسجد کی حرمت مسجد رہنے دو . اس میں زیادتی کو بھی روکنا ہوگا اور ناچ گانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی ….

اپنا تبصرہ بھیجیں